سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے خواتین سے متعلق ایک اور متنازع بیان سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں انہوں نے خواتین کے پولیس فورس میں شامل ہونے کی مخالفت کی تھی جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب 3 ماہ بعد انہوں نے خواتین کے سکوٹر چلانے پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔
بی بی سی نیوز پنجابی کی ایک خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے، جس میں پنجاب میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سکوٹر ڈرائیونگ اور ان کی آزادیِ نقل و حرکت کو فروغ دینے کے لیے مختلف شہروں میں نکالی جانے والی سکوٹر ریلیوں کا ذکر تھا، فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اکثر لڑکیاں نہایت بری ڈرائیور ہوتی ہیں‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی ترغیب دینا ان کی اور دوسروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
فواد چوہدری کے اس واضح خواتین مخالف رویے پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے صارفین نے شدید حیرت اور ناگواری کا اظہار کیا۔
Most of the girls are horrible drivers and must not be encouraged to use bikes!! This campaign is akin putting their and others lives in danger…. https://t.co/d2YXoigf7g
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 22, 2026
سوشل میڈیا صارفین نے سابق وزیر سے سوال کیا کہ کیا ان کے پاس اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مستند اعداد و شمار موجود ہیں یا وہ محض ٹاک ٹاک پر گردش کرنے والی افواہوں پر اترا رہے ہیں۔
بعض صارفین نے پاکستان میں بائیک چلانے والے مردوں کی مثال دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ بہتر ڈرائیور ہیں، جو عام طور پر موڑ کا اشارہ (انڈیکیٹر) دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے؟
متعدد صارفین نے پاکستان جیسے ماحول میں خواتین کی خود مختاری اور مستقل بنیادوں پر نقل و حرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بعض کا کہنا تھا کہ اگر فواد چوہدری کو واقعی لگتا ہے کہ خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہیں، تو انہیں خواتین کو سڑکوں سے دور کرنے کی ہدایت دینے کے بجائے ان کی بہتر ڈرائیونگ ٹریننگ کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔
اس دوران ایک صارف نے فواد چوہدری کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کو نصیحتیں کرنے کے بجائے اپنا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ ہی بند کر دیں۔
Oh my gosh can someone teach him how to deactivate his account ?? Enough of sexist misogynist blabbering. https://t.co/S4Om3wabXR
— Dr Humma Saif (@HummaSaif) September 22, 2026
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق سابق وفاقی وزیر کا یہ رویہ ان تلخ حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے جن کا سامنا پاکستانی خواتین کو سڑکوں پر اور گھروں میں کرنا پڑتا ہے۔
سکوٹر چلانے کی صلاحیت، خصوصاً عوامی ریلیوں کے ذریعے خواتین کو مردانہ تسلط پر مبنی معاشرتی انحصار سے آزاد ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
لڑکیوں کے مطابق، جب وہ سڑکوں پر نکلتی ہیں تو انہیں اکثر مرد بائیک سواروں کی جانب سے گھورنے، تعاقب کرنے اور تنگ کیے جانے جیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو فواد چوہدری اور عام عوام دونوں کی تنقید کے اصل مستحق ہوتے ہیں۔














