میر رضا قتل کیس: پولیس سرجن کے خلاف ہراسانی مہم پر کمیشن نے این سی سی آئی اے کو تحقیقات کی سفارش کردی

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا قتل کیس سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ روز ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق کمیشن کے سامنے اے ایس پی ندا جنید، آصف فاروق سومرو، عابد فاروق سومرو اور فیض الرحمان کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں، جبکہ ایک اور گواہ صارم بن طاہر کا بیان زوم کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا۔

اہم شخصیات اور افسران کو نوٹسز جاری

کمیشن نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ صحت طاہر حسین سانگی، ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور شہریار میمن کو 24 ستمبر کے لیے نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

اس کے علاوہ تفتیشی افسر سراج احمد لاشاری اور سی پی ایل سی کے اسسٹنٹ چیف کاشف افتخار کو 28 ستمبر کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

ڈی ایس پی سراج احمد لاشاری نے گواہ احسان اللہ سے متعلق اپنی رپورٹ کمیشن میں پیش کردی ہے، جسے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور کمیشن نے قرار دیا کہ اس معاملے میں مزید کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی اور اے آئی جی آزاد خان کو سوالنامے ارسال کیے جانے چاہیے تھے۔

نیا میڈیکل بورڈ اور ریکارڈ کی عدم فراہمی پر تشویش

تحریری حکم نامے کے مطابق سماعت کے دوران میر حسین کی فیملی نے آرا پیش کی کہ ان کی معلومات کے مطابق ایک اور اسپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ’فیملی نے اس کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر عامر فاروقی کو متعدد درخواستیں بھیجیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔‘

کمیشن نے تنبیہ کی کہ اگر حسین فیملی کی معلومات درست ہیں تو اس قسم کا اقدام کمیشن کے اب تک کے کام کو کالعدم کر دے گا، جس کے باعث کمیشن اپنے حتمی نتائج دینے سے قاصر رہے گا اور اس کے دائرہ کار میں کمی آئے گی، جبکہ حکومتِ سندھ نے اس کمیشن پر بھاری اخراجات اٹھائے ہیں۔

کمیشن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گواہوں کے بیانات سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ پورا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ بار بار یاد دہانیوں کے باوجود متعلقہ ریکارڈ کی عدم فراہمی قابلِ افسوس ہے۔

میڈیا کے لیے فوکل پرسن کا مقرر کرنے کی ہدایت

حسین فیملی اور پولیس کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث پھیلنے والی قیاس آرائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ نے ایک باقاعدہ مجاز پولیس فوکل پرسن مقرر کرنے کی درخواست کی ہے جو فیملی سے رابطہ رکھے اور پریس و میڈیا کو سرکاری معلومات فراہم کر سکے۔

پولیس سرجن کے خلاف ہراسانی مہم اور این سی سی آئی اے کو تحقیقات کی سفارش

حکم نامے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید پر آن لائن بدنام کن مہم چلانے کا نوٹس لیا گیا ہے۔ پولیس سرجن نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی شہ پر چلائی جانے والی مہم کے خلاف ثبوت معہ متعدد دستاویزات جمع کرائے اور موقف اپنایا کہ وہ شدید ذہنی کرب سے گزر رہی ہیں۔

کمیشن نے ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر سمیہ سید ایک ممتاز، تجربہ کار اور شاندار تعلیمی پس منظر رکھنے والی خاتون افسر ہیں اور وہ حکومت کے لیے ایک اثاثہ ہیں۔

کمیشن نے کہاکہ ان کے خلاف توہین آمیز مہم اور ہراسانی ناقابلِ قبول ہے، اور اس طرح کا مواد سینیئر افسران کے لیے جونیئرز کی اصلاح کرنے کی راہ میں خوف پیدا کرےگا۔

کمیشن نے مزید کہاکہ ڈاکٹر اسامہ شیخ کے مقاصد اور نیت پہلے بھی مشکوک معلوم ہو رہی تھی اور ان کے رویے نے کمیشن کے وقار کو مجروح کرنے اور اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔

اس بنا پر کمیشن نے ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے کسی تجربہ کار افسر کو متعین کریں تا کہ پولیس سرجن اور ڈاکٹر اسامہ شیخ کے درمیان ہونے والے پیغامات اور انٹرنیٹ پر لیک ہونے والے مواد کی فارنزک تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے۔

ڈائریکٹر این سی سی آئی اے سے کمیشن کی مدت ختم ہونے سے قبل جامع رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

مدت میں توسیع کی درخواست اور سماعت کی ملتوی

کمیشن نے سندھ حکومت سے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں 15 اکتوبر 2026 تک توسیع کی درخواست بھیجی ہے جس کی وجوہات خط میں درج کر دی گئی ہیں۔ حکم نامے کی کاپیاں آئی جی سندھ اور ڈی جی این سی سی آئی اے کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ معاملے کی مزید سماعت 24 ستمبر صبح 11:00 بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp