ایل نینو کے وار سے دنیا بھر میں 4 لاکھ 51 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، ترقی پذیر ممالک زیادہ خطرے میں

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رواں سال کے طاقتور موسمیاتی مظہر ’ایل نینو‘ کے باعث فروری تک دنیا بھر میں گرمی سے جڑی 4 لاکھ 51 ہزار اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں کے مطابق یہ رجحان عالمی درجہ حرارت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ جون سے فروری کے اس دورانیے میں ترقی پذیر ممالک کو اس جانی نقصان کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرین نے عالمی درجہ حرارت میں بڑے اضافے کی پیشگوئی کردی، 140 سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ

محققین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو گہرا کرنے والا یہ مظہر ریکارڈ پر سب سے طاقتور ترین ثابت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں دنیا بھر کے 24ہزار 378 خطوں کے موسمی حالات اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے، جن میں سے افریقہ کے ساحل خطے میں معمول کے سال کے مقابلے میں 66ہزار 800 اضافی اموات متوقع ہیں جن میں سے نصف اکیلے نائیجیریا میں ہوں گی۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا میں 19ہزار 300 اور فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں 19ہزار 400 افراد کے متاثر ہونے کا تخمینہ ہے۔ بھارت میں یہ تعداد 15ہزار 800 اور برازیل میں 13,300 تک جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت کون سے نئے خطرات پیدا کررہا ہے؟

محققین نے انتباہ کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں عالمی زمینی درجہ حرارت معمول سے 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا، جس سے عام سالوں کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ شدید گرم دن ریکارڈ ہوں گے۔

اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایل نینو عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے شریک بانی مائیکل گرین اسٹون نے زور دیا ہے کہ یہ رپورٹ حکومتوں کو بروقت اقدامات اٹھانے میں مدد دے سکتی ہے تاکہ ہیٹ وارننگز، کولنگ سینٹرز کے قیام اور ہنگامی تدابیر سے دسیوں ہزار زندگیاں بچائی جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp