بی آر ٹی کا کمرشل پلازہ ’پارکنگ پلازہ‘ بن گیا، 9 سال بعد دوبارہ کمرشلائزیشن کیوں؟

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے فلیگ شپ منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں کمرشل پلازے کے لیے مختص عمارت کو پارکنگ پلازے کے طرز پر تعمیر کیے جانے کے تقریباً 9 سال بعد دوبارہ کمرشل استعمال کے قابل بنانے کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے۔ منصوبے میں تاخیر کے باعث حکومت کو سالانہ 29 کروڑ روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

بی آر ٹی کے پی سی ون میں 3 کمرشل پلازے شامل تھے، جن میں ذُو بزنس سینٹر چمکنی، ذُو بزنس سینٹر ڈبگری گارڈن اور مال آف حیات آباد شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بی آر ٹی پشاور منصوبے میں اربوں روپوں کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی

3 کمرشل پلازوں میں سے 2 اب بھی نامکمل کیوں؟

موجود دستاویزات کے مطابق مال آف حیات آباد کی تعمیر کا ٹھیکہ 19 جولائی 2021 کو دیا گیا تھا اور منصوبہ 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا، تاہم اس کی تکمیل میں متعدد بار توسیع کی گئی۔ منصوبے کی آخری ڈیڈ لائن 31 اکتوبر 2025 مقرر کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب ذُو بزنس سینٹر چمکنی مکمل ہو چکا ہے، تاہم اسے کمرشل پلازے کے بجائے پارکنگ پلازے کے طرز پر تعمیر کیا گیا۔ کمرشل مقاصد کے لیے اسے تین مرتبہ مشتہر کیا گیا، لیکن مطلوبہ دلچسپی پیدا نہ ہو سکی۔

اب متعلقہ محکمہ نے عمارت کی دوسری، تیسری اور چوتھی منزل کو کمرشل طرز پر تیار کرنے کا کام شروع کردیا ہے، تاکہ اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔

بی آر ٹی کا دوسرا ذُو بزنس سینٹر ڈبگری گارڈن میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس کا ٹھیکہ 14 فروری 2022 کو دیا گیا تھا اور متعدد بار توسیع کے بعد اس کی تکمیل کی آخری تاریخ بھی 31 اکتوبر 2025 مقرر کی گئی تھی، تاہم یہ منصوبہ بھی تاحال نامکمل ہے۔

ڈبگری گارڈن پشاور شہر کے وسط میں کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کی حدود میں واقع ہے۔ دستاویزات کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ نے اراضی، کمرشلائزیشن اور دیگر واجبات کی مد میں 3 ارب 55 کروڑ 78 لاکھ 79 ہزار روپے کی بقایا رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے اور متعلقہ نان آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سیز) کے اجرا کو بھی ادائیگی سے مشروط کیا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے کلیم میں کیا کچھ شامل ہے؟

کنٹونمنٹ بورڈ کے مجموعی کلیم کی مالیت 3 ارب 96 کروڑ 69 لاکھ 29 ہزار روپے ہے، جس میں سے 40 کروڑ 90 لاکھ 50 ہزار روپے پی ڈی اے پہلے ہی ادا کر چکی ہے، جبکہ 3 ارب 55 کروڑ 78 لاکھ 79 ہزار روپے کی رقم تاحال واجب الادا ہے۔

اس کلیم میں امن چوک، جسے اب کیپٹن روح اللہ شہید چوک کہا جاتا ہے، کی 311 مرلہ اراضی کے عوض ایک ارب 40 کروڑ 14 لاکھ روپے، جناح پارک کی 497 مرلہ اراضی کے عوض 2 ارب 23 کروڑ 98 لاکھ روپے اور ڈبگری گارڈن اسٹیجنگ اسٹیشن کی کمرشلائزیشن فیس کی مد میں 27 کروڑ 9 لاکھ روپے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یکم جنوری 2019 سے 30 جون 2020 کے دوران بی آر ٹی کی تعمیراتی سرگرمیوں سے متاثر ہونے والے کینٹ کے رہائشیوں کے لیے 5 کروڑ 47 لاکھ روپے ڈسٹریس چارجز کی مد میں بھی طلب کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ڈی اے کی جانب سے 40 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ کے دعوے کو عملی طور پر تسلیم کیے جانے کا تاثر پیدا ہوتا ہے، حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رقم بی آر ٹی کے اصل پی سی ون میں شامل نہیں تھی جس کے باعث صوبائی حکومت اور کنٹونمنٹ بورڈ کے مابین ایک میٹنگ میں اس پر تنازع بھی ہوا جس کے بعد سے اس کے حل کے لیے کوئی اور کوشش نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کی نااہلی: بی آر ٹی کے لاکھوں مسافر اہم ترین سہولت سے محروم

رابطہ کرنے پر بی آر ٹی ترجمان صدف کامل کے مطابق تینوں پلازوں سے سالانہ 29 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مال آف حیات آباد اور ذو بزنس سینٹر ڈبگری گارڈن میں 120 روپے اسکوائر فٹ جبکہ ذو بزنس سینٹر چمکنی میں 55 روپے سے 90 فی اسکوائر فٹ کرایہ پر دیا جائے گا۔ تاہم تاخیر کے باعث حکومت کو سالانہ کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp