خیبرپختونخوا دہشتگردی اور آٹے کی قلت کا شکار، گورننس غائب، حکومت کی توجہ سیاست پر ہے، ثمر بلور

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور صوبہ خیبر پختوںخوا کی نامور سیاستدان ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ان کا صوبہ دہشتگردی، بدامنی، مہنگائی، کھاد اور آٹے کی قلت جیسے لاتعداد مسائل سے دوچار ہے لیکن اس کی حکومت کی توجہ صوبے کے بنیادی مسائل کی بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔

’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں گورننس کہیں نظر نہیں آتی۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور حکومت کو اپنی توجہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے صوبے کے انتظامی اور عوامی مسائل پر مرکوز کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: اے این پی کو خیر باد کہنے والی بلور خاندان کی واحد خاتون سیاستدان ثمر ہارون بلور کون ہیں؟

انہوں نے کہاکہ پوری صوبائی حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج پر لگی ہے لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کی رہائی چاہتی ہے تو اسے سیاسی اور قانونی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جیل کے دروازے عدالت یا سیاسی عمل کے ذریعے ہی کھل سکتے ہیں۔ سڑکوں پر احتجاج اور وفاق کی طرف مارچ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ جمہوری جدوجہد کا مطلب اپنی آواز اٹھانا، سیاسی قیادت سے رابطہ کرنا اور مذاکرات کرنا ہے، نہ کہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے تصادم کی صورتحال پیدا کرنا۔

’سہیل آفریدی تنہا ہوگئے‘

ثمر بلور نے 27 ستمبر کو وفاق کی طرف مارچ یا احتجاج کے حوالے سے کہاکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے بعض لوگ وفاق کی طرف محاذ آرائی کے حق میں نہیں اور اسی وجہ سے بعض افراد نے خود کو منظر سے دور کرلیا ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی تنہا دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے اندر مختلف گروپس کو مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جس میں مختلف گروپوں کے نمائندے شامل ہوں، تاکہ حکومت کے ساتھ بات چیت کا ایک واضح فورم موجود ہو۔

’مذاکرات کا امکان موجود ہے‘

ثمر بلور نے کہاکہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے باضابطہ کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تحریک انصاف مختلف گروپوں کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی تشکیل دے تو حکومت بھی اس کے ساتھ مذاکرات کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

ثمر بلور نے کہاکہ سیاسی قیادت کو اپنے کارکنوں کو بار بار احتجاج اور تصادم کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔ ان کے مطابق 26 نومبر سمیت مختلف احتجاجی واقعات میں سیاسی کارکنوں کو نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ قیادت کے مقابلے میں عام کارکن زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ بعض کارکن اب بھی جیلوں میں ہیں اور ان کے اہل خانہ مدد کے لیے سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرتے ہیں۔

’اسمبلی فلور پر استعمال کی گئی زبان پشتون ثقافت کی نمائندہ نہیں‘

ثمر بلور نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے پشتون معاشرے میں خواتین کے احترام کی روایت موجود ہے۔

انہوں نے اپنے سیاسی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران رات گئے تک مرد کارکنوں کے ساتھ کام کیا لیکن خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے فلور یا سرکاری عہدوں سے خواتین کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کرنا پشتون ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتا۔

’وفاق سے محاذ آرائی اور گیس بند کرنے کی دھمکیوں پر تنقید‘

ثمر بلور نے خیبرپختونخوا سے وفاق کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں اور حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس سے پہلے بھی صوبے کی جانب سے وفاق کی طرف مارچ کیے گئے، تاہم گیس کی فراہمی بند کرنے جیسی دھمکیوں کی مثال سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کرک سے گیس کی سپلائی روکنے کی دھمکیوں پر بھی تنقید کی۔

’سیاسی قیادت کو سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے‘

ثمر بلور نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صوبے میں کم عمر پولیس اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔

انہوں نے ہنگو اور کوہاٹ سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ کم عمر اہلکاروں کی شہادتیں خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں اور سیاسی قیادت کو ان قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔

’بدامنی سے طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا دعویٰ‘

ثمر بلور نے کہاکہ جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بدامنی کے باعث خواتین کی اعلیٰ تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ ان کے مطابق شام کے بعد نقل و حرکت مشکل ہونے، اغوا اور تخریب کاری کے خدشات کے باعث ہزاروں بچیوں نے تعلیم چھوڑ دی ہے۔

انہوں نے بنوں یونیورسٹی اور نرسنگ اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے سماجی رکاوٹوں کے باوجود کوشش کرتے ہیں، تاہم اگر حکومت انہیں محفوظ ماحول فراہم نہ کر سکے تو ان کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔

’شعبہ صحت کا زوال‘

ثمر بلور نے صوبے کے سرکاری اسپتالوں کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق ڈاکٹرز اور نرسیں طویل اوقات کار، سہولیات اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل کے باعث احتجاج کرتی ہیں، جبکہ بعض مواقع پر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے۔

انہوں نے پشاور کے ایک اسپتال میں آئی سی یو کے باہر توڑ پھوڑ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ شدید بیمار مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹرز کو سیکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیاکہ بعض سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو سرکاری اسپتالوں کے بورڈز میں شامل کیا گیا اور انہیں ادویات و طبی آلات کی خریداری کے معاملات میں اثر و رسوخ حاصل ہوا۔

’مالی بے ضابطگیوں اور ٹھیکوں سے متعلق سنگین الزامات‘

ثمر بلور نے بعض صوبائی وزرا، افسران اور کاروباری افراد کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا میں بعض سرکاری محکموں کے ٹھیکوں اور ترقیاتی منصوبوں میں مفادات کے ٹکراؤ کے معاملات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے ہادی عرف پتنگ نامی شخص کو بعض سیاسی شخصیات کا قریبی اور مبینہ فرنٹ مین قرار دیا اور دعویٰ کیاکہ وہ بیوروکریسی میں تبادلوں اور تعیناتیوں پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔

ثمر بلور نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ ہادی عرف پتنگ حال ہی میں دبئی فرار ہوئے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ مبینہ طور پر ان کے ذریعے اربوں روپے کی ہنڈی منتقلی کی تحقیقات کررہا ہے۔ تاہم یہ تمام الزامات انٹرویو میں ثمر بلور کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔

’غیر منتخب افراد کے سرکاری معاملات میں کردار پر سوال‘

ثمر بلور نے دعویٰ کیاکہ بعض ایسے افراد جو نہ منتخب نمائندے ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار، صوبائی حکام سے بریفنگز لے رہے اور سرکاری معاملات میں اثرانداز ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ طریقہ کار معمول بن گیا تو مستقبل میں کوئی بھی سیاسی جماعت اسی نوعیت کے طریقہ کار کو استعمال کر سکتی ہے۔

میاں غازی کمپنی کے ٹھیکے کا حوالہ

ثمر بلور نے میاں غازی نامی کمپنی سے متعلق ایک مبینہ ٹھیکے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایک ٹینڈر میں متعدد کمپنیوں کے نااہل قرار پانے کے بعد مذکورہ کمپنی واحد اہل کمپنی رہ گئی اور اسے تقریباً 40 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ اس معاملے میں بعض وزرا اور بیوروکریٹس کے مفادات شامل ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں سرکاری محکموں کے ٹھیکوں میں مبینہ مفادات کے ٹکراؤ کا الزام بھی عائد کیا۔

بنوں کی ہاؤسنگ سوسائٹی کا عدالت کے حکم کا حوالہ

ثمر بلور نے بنوں میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پشاور ہائیکورٹ نے اس پر حکم امتناع جاری کیا اور عدالتی ریمارکس میں سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کی مبینہ ملکیت کے باعث مفادات کے ٹکراؤ کی نشاندہی کی گئی۔

مجوزہ پولیس ایکٹ پر شدید اعتراض

ثمر بلور نے خیبرپختونخوا کے مجوزہ 2026 پولیس ایکٹ پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون پولیس کو سیاسی بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ مجوزہ قانون میں پولیس افسران کی تقرری، ڈسٹرکٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں اور ڈی ایس پی کی براہ راست بھرتی سے متعلق ایسی تبدیلیاں شامل ہیں جو ان کے بقول پولیس میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے قانون کو پشاور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، اس لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پولیس کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں کے سیاسی استعمال کا خدشہ

ثمر بلور نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں میں مختلف علاقوں کے معتبر افراد، کاروباری شخصیات اور مقامی مشران کو شامل کیا گیا تھا، جس سے ان کے مطابق عدالتوں اور پولیس پر مقدمات کا بوجھ کم ہوا۔

مزید پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی تینوں انتخابی فتوحات ‘انجینیئرڈ’ تھیں، ثمر بلور

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کمیٹیوں میں بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو شامل کیا گیا تو ان کا غیر جانبدار کردار متاثر ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp