ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر اور فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینیئر فیلو بہنام بن طالب لو کے مطابق صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں فیصلہ کن برتری ان کے پاس ہے اور ممکن ہے کہ انہوں نے ایرانی صدر کی تقریر پر زیادہ توجہ بھی نہ دی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکا اسرائیل حملہ خطے کے امن پر کاری وار تھا، صدر مسعود پیزشکیان
پیزشکیان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا اور اسرائیل پر ایران کے خلاف حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو بزدلانہ حملوں اور جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔
Iranian President Masoud Pezeshkian said in a speech at the UN that Tehran would never surrender to the US, but still believes in diplomacy, after US President Donald Trump used the same forum to threaten to ‘annihilate’ Iran https://t.co/GIfs0J0NYo pic.twitter.com/0OvNxTsMnS
— Reuters (@Reuters) September 23, 2026
بہنام بن طالب لو نے پیزشکیان کے خطاب کو ایران کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ان کے مطابق ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں امریکا اور اسرائیل مخالف جبکہ نوآبادیاتی اور سامراج مخالف بیانیہ اختیار کیا۔
مزید پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا تھا۔
ٹرمپ نے تہران کو مذاکرات اور مزید تباہی کے خطرے کے درمیان انتخاب کا انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کا راستہ بھی موجود ہے۔
🇺🇳 TRUMP’S SPEECH AT THE UNITED NATIONS — ARROGANCE FROM A DEFEATED EMPIRE
If you watch the mainstream media, they would have you believe that Donald Trump’s speech was a reassertion of American greatness after years of liberal weakness or an unprecedented and dangerous speech… pic.twitter.com/SqahHa3WHv
— Jason Zaharis 🇷🇺 (@ZaharisJason) September 23, 2026
دونوں رہنماؤں کے سخت بیانات کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی حکام سے تقریباً 3 گھنٹے بات چیت کی، جسے انہوں نے مفید قرار دیا۔
بعد ازاں وٹکوف نے بتایا کہ یہ رابطے ثالثوں کے ذریعے ہوئے، جو امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرتے رہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، قطر سے یکجہتی کا اظہار
رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان رابطوں میں شامل تھے۔
بہنام بن طالب لو کے مطابق دونوں فریق وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور دوسرے فریق پر کشیدگی بڑھانے یا مذاکرات کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات میں دلچسپی کے اشارے دے رہا ہے، تاہم اگر تہران مذاکرات میں تاخیر کرتا رہا یا اپنی پالیسی میں بامعنی تبدیلی نہ لایا تو سفارتی عمل مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کی مزاحمت حتمی فتح کا باعث بنے گی، پزشکیان
ان کے مطابق خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر دونوں ممالک کے بنیادی مؤقف میں نمایاں تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
دوسری جانب پیزشکیان نے واضح کیا کہ ایران فوجی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم سفارت کاری کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کا بھی اشارہ دیا۔
یوں اقوام متحدہ میں امریکا اور ایران کے درمیان سخت لفظی محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی برقرار ہیں۔













