آبنائے ہرمز سے گزر کر قطر سے ایل این جی کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی، بجلی کے شعبے کو ریلیف کی امید

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کو رواں ماہ قطر سے ایل این جی کی دوسری کھیپ موصول ہوگئی، جسے لانے والا جہاز بدھ کی صبح پی جی پی ایل ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ’شینڈونگ ریڈ وڈ‘ نامی ایل این جی جہاز قطر سے روانہ ہوا اور طویل المدتی ایل این جی معاہدے کے تحت پاکستان پہنچا۔ یہ ایل این جی برینٹ کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی نرخ پر حاصل کی گئی ہے۔

رواں ماہ قطر سے پاکستان پہنچنے والی یہ مسلسل دوسری ایل این جی کھیپ ہے۔ پہلی کھیپ 10 ستمبر کو اینگرو ٹرمینل پر پہنچی تھی۔ دونوں کھیپوں کے لیے پاکستانی حکام نے آبنائے ہرمز سے ایل این جی جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمد یقینی بنانے کے لیے ایرانی حکام سے سفارتی رابطے کیے۔

رپورٹ کے مطابق تازہ ایل این جی کھیپ سے ملک کے بجلی کے شعبے کو عارضی ریلیف ملنے کی توقع ہے، جو گیس کی فراہمی میں مشکلات اور بعض علاقوں میں کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے۔

پاکستان بجلی اور صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایل این جی کی ترسیل میں طویل رکاوٹ سے خریداری کی لاگت بڑھنے، گیس کی دستیابی محدود ہونے اور بجلی کی پیداوار پر اضافی دباؤ کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوام اور صنعتی شعبے کے لیے بڑی خوشخبری، اوگرا نے ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی

رپورٹ کے مطابق 21 ستمبر کو پاکستان کے گیس نیٹ ورک میں لائن پیک 4 ہزار 792 ایم ایم سی ایف تھا، جبکہ بجلی کا شعبہ تقریباً 208 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا تھا۔ کھاد کے شعبے کی گیس کھپت 89 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔

دوسری جانب مقامی گیس کی پیداوار بھی مختلف فیلڈز میں رکاوٹوں سے متاثر ہوئی ہے، تاہم حکام کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائن نیٹ ورک پر فی الحال کسی ذریعے سے گیس کی جبری بندش نہیں کی جارہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp