پاکستان کو رواں ماہ قطر سے ایل این جی کی دوسری کھیپ موصول ہوگئی، جسے لانے والا جہاز بدھ کی صبح پی جی پی ایل ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ’شینڈونگ ریڈ وڈ‘ نامی ایل این جی جہاز قطر سے روانہ ہوا اور طویل المدتی ایل این جی معاہدے کے تحت پاکستان پہنچا۔ یہ ایل این جی برینٹ کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی نرخ پر حاصل کی گئی ہے۔
رواں ماہ قطر سے پاکستان پہنچنے والی یہ مسلسل دوسری ایل این جی کھیپ ہے۔ پہلی کھیپ 10 ستمبر کو اینگرو ٹرمینل پر پہنچی تھی۔ دونوں کھیپوں کے لیے پاکستانی حکام نے آبنائے ہرمز سے ایل این جی جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمد یقینی بنانے کے لیے ایرانی حکام سے سفارتی رابطے کیے۔
The shipment marks the second Qatari LNG cargo secured by Pakistan this month, providing some relief to the country’s power sector amid continued gas supply constraints and prolonged load shedding in several areas
Read more: https://t.co/JBM10yPuZP#TheNews
— The News (@thenews_intl) September 22, 2026
رپورٹ کے مطابق تازہ ایل این جی کھیپ سے ملک کے بجلی کے شعبے کو عارضی ریلیف ملنے کی توقع ہے، جو گیس کی فراہمی میں مشکلات اور بعض علاقوں میں کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے۔
پاکستان بجلی اور صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایل این جی کی ترسیل میں طویل رکاوٹ سے خریداری کی لاگت بڑھنے، گیس کی دستیابی محدود ہونے اور بجلی کی پیداوار پر اضافی دباؤ کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عوام اور صنعتی شعبے کے لیے بڑی خوشخبری، اوگرا نے ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی
رپورٹ کے مطابق 21 ستمبر کو پاکستان کے گیس نیٹ ورک میں لائن پیک 4 ہزار 792 ایم ایم سی ایف تھا، جبکہ بجلی کا شعبہ تقریباً 208 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا تھا۔ کھاد کے شعبے کی گیس کھپت 89 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔
دوسری جانب مقامی گیس کی پیداوار بھی مختلف فیلڈز میں رکاوٹوں سے متاثر ہوئی ہے، تاہم حکام کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائن نیٹ ورک پر فی الحال کسی ذریعے سے گیس کی جبری بندش نہیں کی جارہی۔














