’ قانون کے بغیر شہریوں کو آف لوڈ نہیں کرسکتے‘، اسلام آباد ہائیکورٹ ایف آئی اے پر برہم

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے ازخود ایس او پیز کے تحت شہریوں کو آف لوڈ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر متعلقہ قانونی اختیار سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کردی۔

جسٹس انعام امین منہاس نے شہری ساجد کی درخواست پر سماعت کی، عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام نے شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے حوالے سے 1975 کا ایک خط عدالت میں پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ اقدامات ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سے بیرون ملک جاتے ہوئے 35 مسافر کیوں آف لوڈ ہوئے؟

عدالت نے ایف آئی اے کی وضاحت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایس او پی قانون نہیں ہوتا، ہمیں قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اگر ادارے قانون کے بجائے اپنے ایس او پیز پر کام شروع کردیں تو پھر ہر ادارہ اپنی مرضی سے کام کرے گا۔

عدالت نے 1975 کے پیش کردہ خط کا جائزہ لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس میں ایسا کچھ موجود نہیں جس کی بنیاد پر شہریوں کو آف لوڈ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: شوہر کی رہائی کے لیے 3 کروڑ کا مطالبہ کیا گیا، نادیہ حسین نے ایف آئی اے افسر کا نمبر اور تصویر شیئر کردی

جسٹس انعام امین منہاس نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ اگر ان کے پاس شہریوں کو آف لوڈ کرنے کا قانونی اختیار نہیں تو وہ ایسا اقدام کیسے کرسکتے ہیں۔

انہوں نے دریافت کیا کہ کیا ایف آئی اے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی شہری کو اس بنیاد پر روک دے کہ وہ بیرون ملک جاکر کوئی مخصوص کام کرے گا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ خود ہی قانون تبدیل کرکے بنیادی حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے، اگر ایس او پیز اتنے اہم ہیں تو ان میں مناسب قانونی ترمیم کرانے کی سفارش کی جانی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی ویزے پر بیرون ملک جانے والا ملزم گرفتار

سماعت کے دوران ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی نے عدالت کو بتایا کہ 45 ہزار 850 افراد ڈی پورٹ ہوکر پاکستان واپس آئے ہیں، جبکہ پاکستان سے وزٹ ویزا پر جانے والے 39 ہزار 95 افراد واپس نہیں آئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 1100 سے زائد افراد بیرون ملک گداگری میں ملوث ہیں۔

جس پر جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ یہ افراد بیرون ملک گئے تو انہیں ایف آئی اے نے ہی کلیئر کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے نوجوانوں کی پروفائلنگ کیوں کر رہی ہے؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے پاکستان کی ایک باقاعدہ ایجنسی ہے اور اہلکار یونیفارم پہنتے ہیں، لیکن بظاہر قانون کے خلاف کام کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی اقدام کا قانونی اختیار موجود نہیں تو ادارہ قانون سازی یا ترمیم کی سفارش کرسکتا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر ایف آئی اے ایس او پیز کی بنیاد پر کام کرنا شروع کردے گی تو دیگر ادارے بھی یہی طریقہ اختیار کریں گے، بنیادی حقوق کا کیا ہوگا اور پھر عدالتوں کا کام کیا رہ جائے گا۔

مزید پڑھیں: رواں سال کتنے غیر ملکی پاکستان آئے؟ ایف آئی اے امیگریشن نے کارکردگی رپورٹ جاری کردی

عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ایس او پیز کے بجائے شہریوں کو آف لوڈ کرنے اور بیرون ملک سفر سے روکنے کے قانونی اختیار سے متعلق مکمل معاونت فراہم کی جائے۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ایف آئی اے حکام کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp