حکومت اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی )کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بیک ڈور رابطوں میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں لانگ مارچ کے حوالے سے ’درمیانی راستہ‘ نکالنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی شرط عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے امکانات ایک بار پھر پیدا ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، رانا ثنااللہ
ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں جانب سے رابطوں میں پیشرفت ہوئی ہے اور موجودہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کے لیے درمیانی راستہ نکالنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کے ساتھ رابطے جاری ہیں، اب سے کچھ گھنٹے قبل بھی حکومت کے ساتھ رابطہ ہوا ہے۔ ملک کی ایک بڑی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہے، اس لیے بات چیت ضرور ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں حکومت کو یہ کہوں گا کہ یہ وقت نہیں ہے کہ آپ ’نیٹ لانچر‘ کا استعمال کریں، سیاسی لوگوں کے خلاف نیٹ لانچر استعمال نہیں کرتے، ان کو گلے لگاتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں، ان کی گریوینسز کو حل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے نکل رہے ہیں، ہم انصاف کی آواز اٹھا رہے ہیں، ہم انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہمیں نہیں سنا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ حکومت نیٹ لانچر کے استعمال کی بجائے گلے لگائے اور عوام کو گلے لگائے، عوام کو انصاف دیں، ان کی باتوں کو سنیں، بیرسٹر گوہر نے حکومت کو پیش کش کی کہ آپ 2 قدم پیچھے ہٹیں، ہم 10 قدم پیچھے ہٹیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی بات بنے جس میں عوام کے مسائل کا ہم حل ڈھونڈیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر کسی بات پر آئے تو آگے بڑھا جا سکتا ہے، لیکن ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست اپنی باتوں کو پورا نہیں کرتے، عمران خان کی ملاقاتوں اور علاج کے معاملے کو میں براہ راست نہیں دیکھتا، محسن نقوی دیکھتے ہیں، ہم نے 26 نومبر سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ دہرانہ نہیں چاہتے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کی وفاقی سطح پر اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور رابطے ہوئے ہیں، جن میں لانگ مارچ اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر رسمی رابطوں کے دوران اس تجویز پر غور ہوا کہ لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی قیادت انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ حد عبور نہ کرے اور جہاں انہیں روکا جائے، وہیں پرامن طور پر احتجاج جاری رکھا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں کسی حد تک اتفاق رائے بھی سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھا جائے اور کسی ایسی صورتحال سے گریز کیا جائے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کو سیاسی طور پر گنجائش اور ’فیس سیونگ‘ دینے کے مختلف امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران اس کے دورانیے اور اختتام کے طریقہ کار سے متعلق حتمی فیصلہ بھی اسی دوران مذاکرات اور باہمی رابطوں کے نتیجے میں سامنے آسکتا ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر وفاقی حکومت نے بھی اپنی حکمت عملی طے کرلی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کو آئینی اور قانونی دائرے تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی امریکا سے واپسی کے بعد اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات میں بنیادی طور پر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے 2 ارکان کی تقرری کے معاملے پر بات ہوگی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کا معاملہ مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ عمران خان کی مستقل طور پر نجی اسپتال منتقلی کے معاملے پر بھی حکومت بات چیت نہیں کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات آگے بڑھانا چاہتی ہے اور وفاق پر دباؤ ڈالنے کی صورت میں عمران خان سے متعلق کسی معاملے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ پی ٹی آئی قیادت سے بیک ڈور رابطے اب بھی موجود ہیں، تاہم لانگ مارچ کے اعلان اور عملی اقدام کی موجودگی میں باقاعدہ مذاکرات ممکن نہیں۔
رانا ثنااللہ کے مطابق اسلام آباد میں کسی کو بھی چڑھ دوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے فی الحال بیانات دیے جا رہے ہیں اور عملی طور پر مارچ ہوگا یا نہیں، یہ صورتحال آنے پر واضح ہوگا۔
یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک جانب بیک ڈور رابطے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب دونوں فریق اپنے اپنے عوامی مؤقف پر قائم ہیں۔ موجودہ رابطوں میں بنیادی توجہ کشیدگی کم کرنے، لانگ مارچ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور آئینی و قانونی معاملات پر مذاکرات کا راستہ کھولنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
تاہم لانگ مارچ کے حتمی طریقہ کار، دورانیے اور مذاکرات کے وسیع تر ایجنڈے پر ابھی حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔














