ڈیوک آف سسیکس پرنس ہیری نے امریکا کی زندگی کو خیرباد کہہ کر برطانیہ میں دوبارہ اپنا مستقل ٹھکانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
وہ برطانوی عوام کے ساتھ بگڑے تعلقات کی بحالی اور سرکاری پولیس تحفظ کے حصول کے لیے قانونی و انتظامی محاذ پر متحرک ہیں۔
پرنس ہیری کی جانب سے اپنے ملک میں سرکاری پولیس تحفظ کی بحالی کے لیے لڑی جانے والی قانونی جنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ میگن مارکل کی خواہش پر شروع کی گئی امریکی زندگی سے اکتا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں
برطانوی میڈیا کے مطابق ڈیوک آف سسیکس اب اپنے ملک میں مستقل بنیادوں پر رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔ تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی برطانیہ واپسی کا راستہ اتنا آسان نہیں اور انہیں کئی انتظامی و قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
برطانوی عوام کا دل جیتنے کی کوشش
برطانیہ میں اپنے طویل قیام کے دوران پرنس ہیری کا بنیادی ہدف اپنے اور برطانوی عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو مٹانا ہے۔
After six years in the United States, Prince Harry, Meghan, Prince Archie and Princess Lilibet have returned to Britain pic.twitter.com/gHyQjVBswJ
— Lily Rose (@lily_king3) September 26, 2026
کینیڈین نیٹ ورک سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پرنس ہیری نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانوی سرزمین پر دوبارہ قدم رکھنا ایک شاندار احساس ہے۔‘
وہ اگلے سال جولائی میں برمنگھم میں ہونے والی ’اینویکٹس گیمز‘ کو عوامی حمایت سے کامیاب بنا کر شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات اور بچوں کا نیا اسکول
سیکیورٹی کے معاملات پرنس ہیری اور ان کے خاندان کے لیے برطانیہ میں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ گزشتہ ماہ برطانیہ آمد کے بعد شاہی جوڑا لندن سے باہر کاٹسولڈز کے علاقے میں ایک نجی رہائش گاہ میں مقیم ہے۔
ان کے 7 سالہ بیٹے آرچی اور 5 سالہ بیٹی للی بٹ کو اسکول آمد و رفت کے دوران سیکیورٹی خدشات کے باعث داخلے کے چند ہی دنوں بعد اسکول تبدیل کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں:پرنس ہیری کی کنگ چارلس سے ملاقات نے میگھن مارکل کے خدشات بڑھا دیے
پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل نے سال 2020 میں سینیئر شاہی فرائض سے علیحدگی اختیار کر کے امریکا میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔
تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ہیری کے رویے سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ وہ برطانیہ کو ہی اپنا حقیقی گھر مانتے ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش بھی اسی ماحول میں کرنا چاہتے ہیں۔














