متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی مرکزی قیادت کے مابین اندرونی اختلافات اور بے اعتمادی کی فضا ایک بار پھر میڈیا کے سامنے کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے اختتام پر پارٹی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سينیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے درمیان کھل کر جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کی تمام تفصیلات میڈیا کے مائیکروفونز نے ریکارڈ کر لیں۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات پارٹی انتخابات کے بغیر ختم نہیں ہوں گے، مصطفیٰ کمال
پریس کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں کے سوالات کا سلسلہ جاری تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے بار بار مداخلت کی اور مائیک کی جانب بڑھے، جس پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی شدید برہم دکھائی دیے۔
خالد مقبول صدیقی نے فاروق ستار سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ سات آٹھ پریس کانفرنسز کرتے ہیں، پھر میں ایک کرتا ہوں، اس میں بھی آپ بولنے نہیں دیتے۔ میں نے آپ سے کہا تو تھا کہ میں بات کروں گا۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید جھلجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب آئندہ کبھی پریس کانفرنس نہیں کریں گے، اور یہ کہتے ہوئے سوال جواب کا سلسلہ ادھورا چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار انہیں منانے اور صفائی دینے کی کوشش کرتے رہے اور کہا کہ ’نہیں، اب میں ایسا نہیں کروں گا، تاہم خالد مقبول پریس کانفرنس ختم کر کے چلے گئے۔‘
بعد ازاں اس واقعے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے صورتحال کو ہلکا پھلکا بنانے کی کوشش کی اور طنزاً کہاکہ ’یہ تو میاں بیوی کے جھگڑے ہیں، اگر لڑیں گے نہیں تو زندگی کیسے گزرے گی؟‘
’ایم کیو ایم پاکستان کے دھڑوں میں تصادم اور قیادت کا امتحان‘
سینیئر صحافی فاروق سمیع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان میں اتحاد کا یہ عمل فروری 2023 کے بعد تیز ہوا تھا، جب الیکشن سے قبل مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمیں پارٹی (پی ایس پی) اور فاروق ستار کے تنظیم بحالی کمیٹی دھڑے کو دوبارہ بہادر آباد مرکز کے تحت اکٹھا کیا گیا تھا۔
’تاہم انتخابی اتحاد اور یکجائی کے باوجود قیادت کا بحران، بالادستی کی جنگ اور فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہوگا، یہ سوالات بدستور برقرار ہیں۔‘
فیصلہ سازی کا تنازع
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال اپنے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے آزادانہ پریس کانفرنسز اور بیانات دینے کے عادی ہیں، جبکہ خالد مقبول صدیقی بطور چیئرمین پارٹی کی دفتری اور پالیسی سازی کی کمان اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔
پارلیمانی اور تنظیمی طاقت
وفاق میں حکومت کا حصہ ہونے اور گورنر سندھ کے تقرر و دیگر سیاسی امور پر بہادر آباد کے مختلف دھڑوں میں اندرونی کھینچ تان مسلسل چلی آ رہی ہے، جہاں ایم کیو ایم پاکستان (بہادر آباد) خود کو قانونی اور سیاسی دھارے میں فعال رکھے ہوئے ہے، وہیں ایم کیو ایم لندن اور حقیقی دھڑہ (آفاق احمد) اپنے وجود کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن بہادر آباد مرکز کے اندر کی یہ نوک جھونک کارکنوں میں بھی شدید مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔
’فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی کے قد میں بہت فاصلہ ہے‘
سینیئر صحافی شمعیل احمد کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کے درمیان عوامی سطح پر اس نوعیت کا بدنیتی یا الجھن کا مظاہرہ ہوا ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ فاروق ستار خالد مقبول صدیقی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس وقت افرادی قوت خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کے پاس ہے تیسرا کوئی دور دور تک نہیں ہے نا ہی فاروق ستار ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار توصیف احمد خان نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم کا بحران صرف دھڑوں کے ملاپ سے حل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہاکہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال جیسے رہنما خود کو پارٹی کا فطری قائد سمجھتے ہیں، جبکہ خالد مقبول صدیقی کے پاس تنظیمی عہدہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے 2 دھڑوں کے درمیان بہادر آباد کے مرکز پر تصادم کے پس پردہ حقائق کیا ہیں؟
’جب تک پارٹی میں ایک ٹھوس جمہوری اور نظم و ضبط کا فریم ورک قائم نہیں ہوگا، مائیک کی یہ جنگ اور پریس کانفرنسز کا یہ تماشا میڈیا میں یوں ہی ریکارڈ ہوتا رہے گا۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق، کراچی کی سیاسی صورتحال اور بلدیاتی و شہری مسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بجائے ایم کیو ایم قیادت کی توجہ میڈیا کیمروں کے سامنے اندرونی کشمکش پر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انضمام کے باوجود پارٹی کے اندر کا سیاسی پارہ نیچے نہیں آ سکا ہے۔













