ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات پارٹی انتخابات کے بغیر ختم نہیں ہوں گے، مصطفیٰ کمال

اتوار 6 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اختلافات کا خاتمہ پارٹی انتخابات کے بغیر ممکن نہیں۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندر اختلافات موجود ہیں جو نچلی سطح تک بھی سرایت کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو مضبوط بنانے کے لیے پارٹی انتخابات ضروری ہیں، جو اکتوبر میں ہونے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں اندرونی اختلافات پر تصادم، فائرنگ اور پتھراؤ، متعدد رہنما اور کارکنان زخمی

‘اختلافات ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، تاہم ممکن ہے اس عمل میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔’

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات کا مستقل حل انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ان کے مطابق پارٹی انتخابات میں کارکنان جسے کامیاب اور جسے ناکام قرار دیں، سب کو نتائج قبول کرنا ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات پر تبصرے کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کے معاملات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

مزید پڑھیں: جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے اندر کوئی اختلاف نہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی طرز حکمرانی کے حوالے سے بھی پارٹی کے مؤقف میں کوئی ابہام نہیں ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے کے معاملے پر کہا کہ اگر مجوزہ آئینی ترمیم تسلیم کرلی جاتی تو آج گلی محلوں میں اختیارات اور وسائل موجود ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے میں کسی ایک جماعت کی فتح یا ناکامی نہیں ہوگی بلکہ اس کا تعلق ملک کی فتح یا ناکامی سے ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp