بلوچستان میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیجیٹل نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے محکمہ صحت بلوچستان اور ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو کے ایچ آئی ایس پی سینٹر کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔
محکمہ صحت کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم کو مزید مستحکم کرنا، ڈی ایچ آئی ایس ٹو (DHIS2) کے مؤثر نفاذ کو وسعت دینا اور صحت کے شعبے میں مقامی سطح پر تحقیق و اختراعات کو فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا مجموعی صحت بجٹ 1340 ارب روپے مقرر، پنجاب حجم میں سرفہرست، بلوچستان فی کس بجٹ میں آگے
مفاہمتی یادداشت پر بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ابابگر بلوچ اور یونیورسٹی آف اوسلو کے ایچ آئی ایس پی سینٹر کی پروفیسر ڈاکٹر کرسٹن برا نے دستخط کیے، جبکہ سیکریٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمان بھی تقریب میں موجود تھے۔
معاہدے کے تحت بلوچستان میں پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے شعبوں میں مقامی اختراعات کو فروغ دیا جائےگا، جبکہ محکمہ صحت میں ڈی ایچ آئی ایس ٹو کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار مقامی تکنیکی ٹیم بھی تشکیل دی جائے گی۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈی ایچ آئی ایس ٹو کے نفاذ میں یونیسف پاکستان نے بھی اہم معاونت فراہم کی ہے، جس میں متعلقہ عملے کی تربیت، ضروری آلات کی فراہمی، تکنیکی معاونت اور نظام کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا شامل ہے۔
یونیسف کے تعاون سے ایچ آئی ایس پی پاکستان نے بھی ڈیجیٹل نظام کی تکنیکی تشکیل اور صوبے میں اس کے نفاذ میں کردار ادا کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ صحت اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور محکمہ صحت کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف اوسلو کے ساتھ تعاون بلوچستان میں جدید ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا، جبکہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں مقامی اختراعات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی کے مطابق ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم سے صحت سے متعلق درست اور بروقت معلومات کی دستیابی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ ملے گا، جبکہ صحت کے نظام کی نگرانی، منصوبہ بندی اور عوامی خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جاسکے گی۔
مفاہمت کے تحت دونوں اداروں کے درمیان تکنیکی تجربات، کامیاب ماڈلز اور مقامی اختراعات کا تبادلہ بھی ہوگا، جبکہ بلوچستان میں ڈی ایچ آئی ایس ٹو کے تجربات اور حاصل ہونے والے اسباق کو عالمی ڈی ایچ آئی ایس کمیونٹی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں پیش کیا جائےگا۔
یونیورسٹی آف اوسلو کے نمائندوں نے بلوچستان محکمہ صحت کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے بی ایچ ایم آئی ایس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں جدید ڈیجیٹل طبی نظام متعارف، صحت کی سہولیات بہتر ہونے لگیں
یونیورسٹی نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان کا ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل پاکستان کے دیگر صوبوں اور اداروں کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
سیکریٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمان نے مفاہمتی یادداشت کو صوبے کے نظام صحت کی ڈیجیٹل تبدیلی میں اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی علمی و تکنیکی اداروں کے تعاون سے صحت کے شعبے میں معلومات کے معیار، شواہد پر مبنی فیصلوں، نگرانی، جوابدہی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائےگا۔













