پاکستان کا مجموعی صحت بجٹ 1340 ارب روپے مقرر، پنجاب حجم میں سرفہرست، بلوچستان فی کس بجٹ میں آگے

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں وفاق، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی جانب سے شعبہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 1340 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں سب سے بڑا بجٹ پنجاب نے رکھا ہے جبکہ آبادی کے تناسب سے فی کس صحت بجٹ کے اعتبار سے بلوچستان نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا کا 2 ہزار 170 ارب روپے کا بجٹ پیش، ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب مختص

مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں پاکستان بھر میں صحت کے شعبے کے لیے وفاق، صوبوں اور علاقائی حکومتوں کی جانب سے مجموعی طور پر 1340 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب صحت کے بجٹ کے مجموعی حجم کے لحاظ سے سب سے آگے ہے جبکہ بلوچستان کم آبادی کے باعث فی کس صحت بجٹ کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔

وفاقی حکومت نے شعبہ صحت کے لیے 53 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ صوبائی اور علاقائی حکومتوں نے بھی صحت کی سہولیات، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، ادویات کی فراہمی اور علاج معالجے کے منصوبوں کے لیے بڑے فنڈز رکھے ہیں۔

پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو صوبے کے مجموعی 5903 ارب روپے کے بجٹ کا 10 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ اس میں 424 ارب 32 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات، طبی عملے کی تنخواہوں، ادویات اور روزمرہ امور کے لیے جبکہ 76 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ لاہور میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سندھ حکومت نے صحت اور بہبود آبادی کے شعبے کے لیے 402 ارب روپے رکھے ہیں۔ صوبے کے بڑے طبی اداروں کو مفت اور جان بچانے والی سہولیات کی فراہمی کے لیے 148 ارب روپے سے زائد گرانٹس مختص کی گئی ہیں۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26 ارب 25 کروڑ روپے جبکہ بچوں کی صحت سے متعلق اداروں کے لیے بھی خصوصی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کا مالی سال27-2026 کا بجٹ، عوام کے لیے خاص کیا ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے 276 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد اضافہ ہے۔ صحت کارڈ پلس کے لیے سیٹلڈ اضلاع میں 35 ارب روپے جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مزید 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے تحت دل، جگر، گردے اور بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت مختلف مہنگے علاج کی سہولیات شامل ہیں۔ ادویات کی بلک خریداری کے لیے 11 ارب 94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 2500 سے زائد بنیادی مراکز صحت کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

بلوچستان حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے 96 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہے۔ اس میں 90 ارب روپے غیر ترقیاتی اور 6 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ادویات کی فراہمی کے بجٹ کو بڑھا کر 8 ارب 50 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ ٹراما سینٹر کی بہتری کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے، بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے لیے 6 ارب روپے اور پی پی ایچ آئی کے لیے 8 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شیخ زید کارڈیالوجی اسپتال کے لیے 2 ارب 80 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں ترقیاتی پروگرام کے تحت اسپتالوں کی بہتری کے لیے تقریباً 6 ارب روپے، ایمرجنسی ادویات اور طبی آلات کے لیے 4 ارب روپے جبکہ صحت کارڈ پروگرام کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لیے صحت کے شعبے میں ایک ارب 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلتھ اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 62 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں تاکہ کینسر اور اعضاء کی پیوند کاری جیسے مہنگے علاج کے لیے مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

بجٹ تفصیلات کے مطابق صحت کے شعبے میں مجموعی طور پر اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، بنیادی مراکز صحت کی بہتری، مفت علاج، ادویات کی فراہمی اور جدید طبی سہولیات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ وفاقی بجٹ میں تعلیم اور مہارتوں کے شعبے کے لیے بھی 148 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے لیے 40 ارب 58 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp