افغانستان کے صوبہ نورستان کے ضلع کَمَدیش اور کنڑ کے گُردیش میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافہ ہوگیا، جہاں جاری جھڑپوں میں طالبان کے 9 اہلکار ہلاک، 11 زخمی اور 9 لاپتا ہوگئے۔
26 ستمبر کو تقریباً 50 فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے کَمَدیش میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ لڑائی میں شدت آنے کے بعد طالبان نے کنڑ سے بھاری نفری کَمَدیش منتقل کی، جبکہ جلال آباد کے اطراف ٹینکوں، رینجر گاڑیوں، اہلکاروں اور فوجی ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
A spokesman for the 201 Khalid bin Walid Army Corps in the east, Wahidullah Mohammadi, told TOLOnews that Afghan forces prevented around 400 members of a group he described as “evil and corrupt” from crossing from Pakistan into Afghanistan’s Kamdesh district of Nuristan.… pic.twitter.com/usYudNSxrp
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) September 27, 2026
صورتحال کا ایک اہم پہلو مقامی افراد کی مسلح مزاحمت میں بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔ طالبان کی سخت حکمرانی اور مبینہ جبر سے نالاں مقامی افراد بھی مزاحمت میں شامل ہورہے ہیں، جس سے طالبان کے خلاف جاری لڑائی کو مقامی سطح پر بھی حمایت مل رہی ہے۔
فریڈم فرنٹ اور مقامی جنگجوؤں نے طالبان کے ٹھکانوں پر راکٹوں اور گولہ بارود سے حملے بھی کیے، جس سے طالبان فورسز پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب داعش کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ طالبان کی حکمرانی سے نالاں مقامی افراد کے داعش میں شامل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مشرقی افغانستان میں طالبان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم کا صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن: افغان ٹائمز کے صحافی گرفتار
کَمَدیش سے کنڑ تک مزاحمت، مقامی سطح پر مسلح سرگرمیوں اور داعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے طالبان کے لیے مشرقی افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ مزاحمت کے باعث طالبان کو متاثرہ علاقوں میں اضافی نفری اور فوجی وسائل منتقل کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے علاقے میں مسلسل فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔














