طالبان کے خلاف مزاحمت میں اضافہ، نورستان و کنڑ میں مقامی افراد بھی میدان میں آگئے

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے صوبہ نورستان کے ضلع کَمَدیش اور کنڑ کے گُردیش میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافہ ہوگیا، جہاں جاری جھڑپوں میں طالبان کے 9 اہلکار ہلاک، 11 زخمی اور 9 لاپتا ہوگئے۔

26 ستمبر کو تقریباً 50 فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے کَمَدیش میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ لڑائی میں شدت آنے کے بعد طالبان نے کنڑ سے بھاری نفری کَمَدیش منتقل کی، جبکہ جلال آباد کے اطراف ٹینکوں، رینجر گاڑیوں، اہلکاروں اور فوجی ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

صورتحال کا ایک اہم پہلو مقامی افراد کی مسلح مزاحمت میں بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔ طالبان کی سخت حکمرانی اور مبینہ جبر سے نالاں مقامی افراد بھی مزاحمت میں شامل ہورہے ہیں، جس سے طالبان کے خلاف جاری لڑائی کو مقامی سطح پر بھی حمایت مل رہی ہے۔

فریڈم فرنٹ اور مقامی جنگجوؤں نے طالبان کے ٹھکانوں پر راکٹوں اور گولہ بارود سے حملے بھی کیے، جس سے طالبان فورسز پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب داعش کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ طالبان کی حکمرانی سے نالاں مقامی افراد کے داعش میں شامل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مشرقی افغانستان میں طالبان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم کا صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن: افغان ٹائمز کے صحافی گرفتار

کَمَدیش سے کنڑ تک مزاحمت، مقامی سطح پر مسلح سرگرمیوں اور داعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے طالبان کے لیے مشرقی افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ مزاحمت کے باعث طالبان کو متاثرہ علاقوں میں اضافی نفری اور فوجی وسائل منتقل کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے علاقے میں مسلسل فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp