کبھی مہنگا مینیکیور، شوخ رنگوں کی نیل پالش اور نت نئے ڈیزائن خوبصورتی اور فیشن کی علامت سمجھے جاتے تھے لیکن اب فیشن کی دنیا میں ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہورہا ہے یعنی ایسے ناخن جو دیکھنے میں بالکل قدرتی اور بے رنگ محسوس ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ناخن بولتے ہیں: ان کے 7 رنگ انسانوں کو کیا اشارہ دیتے ہیں؟
بظاہر یہ رجحان سادگی، کم خرچ اور کم وقت میں خوبصورت نظر آنے کی خواہش دکھائی دیتا ہے لیکن ماہرین اور ناقدین کے مطابق معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ بعض حلقوں میں قدرتی اور بے رنگ ناخن اب ایک ایسے طرز زندگی کی علامت بن رہے ہیں جسے خوشحالی، نفاست اور اعلیٰ طبقے سے جوڑا جاتا ہے۔
یہ بحث صرف ناخنوں تک محدود نہیں بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ آخر خوبصورتی کا معیار کون طے کرتا ہے اور کب کوئی سادہ چیز بھی سماجی حیثیت کی علامت بن جاتی ہے؟
’قدرتی‘ ناخن بھی خاصی محنت مانگتے ہیں
لندن کے ایک نیل سیلون کی مالکن پالوما بڈیمیئر کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایسے صارفین کی تعداد بڑھی ہے جو سیلون آکر صرف اس لیے پیسے خرچ کررہے ہیں کہ ان کے ناخن ایسے دکھائی دیں جیسے انہوں نے کچھ کروایا ہی نہیں۔
ان ناخنوں کو فائل کیا جاتا ہے، تراشا جاتا ہے، ناخنوں کے اطراف کی جلد کی صفائی کی جاتی ہے، انہیں بھگو کر نرم کیا جاتا ہے اور نمی فراہم کی جاتی ہے لیکن آخر میں ان پر کوئی نمایاں رنگ نہیں لگایا جاتا۔
یعنی بظاہر ’کچھ نہ کروانے‘ کے لیے بھی باقاعدہ خوبصورتی کا پورا عمل جاری رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر چمکدار، صاف اور قدرتی دکھائی دینے والے ناخنوں کی تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار نے اس رجحان کو مزید مقبول بنایا ہے۔ فیشن شوز اور مشہور شخصیات کی تقریبات میں بھی سادہ ناخن نظر آنے لگے ہیں۔
مزید پڑھیے: ’ناخن بچائیے کل کام آئے گا‘، یہ بکنے کیوں لگے، ریٹ کیا ہے؟
بعض فیشن ماہرین اسے ’خاموش آسائش‘ یعنی ایسی خوشحالی سے جوڑتے ہیں جس کا اظہار مہنگے لوگو یا نمایاں زیورات کے بجائے سادگی سے کیا جاتا ہے۔
کیا سادگی بھی طبقاتی حیثیت کی علامت بن سکتی ہے؟
یہاں سے بحث دلچسپ ہوجاتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر قدرتی یا بے رنگ ناخنوں کو ’نفیس‘، ’مہذب‘ یا ’اعلیٰ ذوق‘ کا نشان قرار دیا جانے لگے اور شوخ رنگوں یا نمایاں نیل آرٹ کو کمتر سمجھا جائے تو خوبصورتی کے معیار میں ایک خاص طبقے کے ذوق کو فوقیت مل سکتی ہے۔
خوبصورتی کی صحافی کرسٹینا روڈولفو کے مطابق نیل آرٹ کی تاریخ میں سیاہ فام، لاطینی اور ایشیائی خواتین اور برادریوں کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ان کے خیال میں اگر بے رنگ ناخنوں کو اعلیٰ حیثیت اور نفاست سے جوڑا جائے تو اس سے ان ثقافتوں سے جڑے شوخ اور تخلیقی انداز کو غیر اہم سمجھنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
تاہم ہر شخص اس رجحان کو طبقاتی مسئلہ نہیں سمجھتا۔
کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ نیل پالش اس لیے چھوڑ رہی ہیں کہ انہیں سادگی پسند ہے، وقت بچانا ہے، اخراجات کم کرنے ہیں یا وہ خوبصورتی کے مسلسل بڑھتے ہوئے تقاضوں سے کچھ فاصلے پر رہنا چاہتی ہیں۔
کچھ خواتین تو برسوں سے ناخنوں پر کچھ نہیں کراتیں اور اب محض اس بات پر حیران ہیں کہ ان کا معمول اچانک فیشن بن گیا ہے۔
خوبصورتی کی دوڑ سے تھکنے والی خواتین
خوبصورتی کے اس رجحان میں ایک اور پہلو بھی ہے یعنی خواتین پر مسلسل ’تیار رہنے‘ کا دباؤ۔
آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ٹی وی میزبان اینجلا اسکینلن برسوں تک ہر 2 ہفتے بعد مینیکیور کرواتی رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا میں رہتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ مینیکیور اس قدر عام تھا کہ وہ تقریباً ایک لازمی معمول محسوس ہوتا تھا۔
وقت کے ساتھ یہ معمول ان کے لیے بوجھ بن گیا۔
بالآخر انہوں نے سوچا کہ اگر ہر 2 ہفتے بعد ناخن کروانا ان کی زندگی کی ضروریات میں شامل نہیں تو اسے چھوڑا بھی جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: فیشن یا صحت؟ گرمیوں میں فلپ فلاپس پہننے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں
جب انہوں نے سوشل میڈیا پر مینیکیور کی یہ مسلسل عادت ترک کرنے کے بارے میں لکھا تو بہت سے لوگوں نے اس تجربے سے اتفاق کیا۔
ان کے لیے یہ صرف ناخنوں کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اپنی زندگی میں ایک ایسا کام کم کرنے کا فیصلہ تھا جسے وہ طویل عرصے سے ضروری سمجھتی آرہی تھیں۔
مہنگائی نے بھی ’قدرتی ناخنوں‘ کو مقبول بنایا
خوبصورتی کے اس رجحان کے پیچھے مالی عوامل بھی کام کررہے ہیں۔
کئی خواتین کا کہنا ہے کہ مسلسل سیلون جانا اور ہر چند ہفتے بعد مینیکیور، جیل یا دیگر خدمات پر رقم خرچ کرنا اب پہلے کی نسبت مشکل ہوگیا ہے۔
مہنگائی کے دور میں کچھ خواتین کے لیے سادہ ناخن ایک فیشن کے ساتھ ساتھ خرچ کم کرنے کا عملی طریقہ بھی بن گئے ہیں۔
کچھ کا کہنا ہے کہ وہ ورزش کرتی ہیں، گھر کے کام کرتی ہیں یا روزمرہ زندگی میں لمبے اور مصنوعی ناخن عملی طور پر مشکل محسوس کرتی ہیں اس لیے قدرتی انداز زیادہ آسان ہے۔
یوں ایک ہی رجحان کے پیچھے مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے کہ کسی کے لیے فیشن، کسی کے لیے سادگی، کسی کے لیے وقت کی بچت اور کسی کے لیے اخراجات کم کرنا۔
ناخنوں کی تاریخ میں بھی طبقاتی نشانیاں موجود رہی ہیں
فیشن صحافی سوزین ای شاپیرو کے مطابق ناخنوں کی آرائش صرف خوبصورتی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ صدیوں سے یہ سماجی حیثیت، ثقافت اور طرزِ زندگی کے اظہار کا ذریعہ بھی رہی ہے۔
قدیم چین میں اشرافیہ کے افراد لمبے ناخن رکھتے تھے اور انہیں خصوصی دھاتی محافظوں سے محفوظ کیا جاتا تھا۔ یہ لمبے ناخن اس بات کی علامت تھے کہ ان کے مالک کو ہاتھ سے محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔
19ویں صدی میں ناخنوں پر ہلکی تہہ میں لگایا جانے والا رنگ صحت اور توانائی کی علامت سمجھا جاتا تھا جبکہ زیادہ آرائش کو بعض اوقات حد سے زیادہ بناوٹی یا اخلاقی طور پر قابل اعتراض تصور کیا جاتا تھا۔
بعد میں گھر پر لگائی جانے والی سرخ نیل پالش جدید عورت کی خود اختیاری اور پرانے سماجی فیصلوں سے بغاوت کی علامت بھی بنی۔
نیل آرٹ کو مقبول بنانے میں مختلف ثقافتوں کا کردار
تاریخ دانوں کے مطابق ناخنوں کی آرائش کو عوامی اور تخلیقی اظہار کی شکل دینے میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔
جوزفین بیکر، ڈیانا راس، ڈونا سمر اور اولمپک ایتھلیٹ فلورنس گریفتھ جوائنر جیسی مشہور شخصیات نے نمایاں اور تخلیقی ناخنوں کو عوامی ثقافت کا حصہ بنانے میں کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: فیشن، نفاست اور سردی سے بچاؤ شال کا خاصہ، لیکن یہ والی اتنی مہنگی کیوں؟
سنہ 1970 کی دہائی میں ویتنام سے آنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد نے بھی پیشہ ورانہ نیل سیلون کی صنعت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں مینیکیور صرف امیر طبقے تک محدود نہ رہا بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی زیادہ قابل رسائی ہوگیا۔
جب عام چیز دوبارہ ’خاص‘ بن جائے
فیشن میں ایک دلچسپ رجحان یہ ہے کہ جب کوئی چیز عام لوگوں میں بہت مقبول اور آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہے تو بعض امیر طبقات اسے چھوڑ کر کسی نسبتاً سادہ انداز کی طرف چلے جاتے ہیں۔
ماہرین اسے ایک طرح کا ’مخالف اظہار‘ قرار دیتے ہیں۔
مثلاً ایک زمانے میں مہنگے برانڈ کا نمایاں نشان دولت دکھانے کا ذریعہ تھا جبکہ اب بعض حلقوں میں ایسا لباس یا انداز زیادہ ’نفیس‘ سمجھا جاتا ہے جس سے دولت کا اظہار نمایاں طور پر نہ ہو۔
اسی طرح اب بالکل سادہ اور قدرتی دکھائی دینے والے ناخن بھی بعض حلقوں میں خوشحالی اور اعلیٰ ذوق کے ساتھ جوڑے جارہے ہیں۔
لیکن یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔
قدرتی دکھائی دینے والے ناخن ہمیشہ قدرتی نہیں ہوتے۔ انہیں خوبصورت، چمکدار اور یکساں رکھنے کے لیے بھی وقت، نگہداشت اور بعض اوقات مہنگی خدمات درکار ہوتی ہیں۔
یعنی ’کچھ نہ کروانے‘ کا انداز بھی کبھی کبھار خاصی محنت سے حاصل کیا جاتا ہے۔
پھر خوبصورتی کا صحیح معیار کیا ہے؟
خوبصورتی کی صنعت پر یہ سوال پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں کہ خواتین سے ہر وقت ایک خاص انداز میں دکھائی دینے کی توقع کیوں کی جاتی ہے۔
تاہم دوسری طرف ناخنوں کی آرائش بہت سی خواتین کے لیے محض خوبصورتی کا دباؤ نہیں بلکہ تخلیقی اظہار، خود اعتمادی اور اپنی شخصیت کو ظاہر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اس لیے بعض ماہرین کے نزدیک مسئلہ نیل پالش، نیل آرٹ یا قدرتی ناخنوں میں سے کسی ایک کو درست یا غلط قرار دینے کا نہیں بلکہ کسی ایک انداز کو دوسروں سے زیادہ مہذب، نفیس یا اعلیٰ سمجھنے کا ہے۔
آخرکار کوئی خاتون شوخ رنگ پسند کرتی ہیں، کوئی پیچیدہ ڈیزائن، کوئی مصنوعی ناخن اور کوئی بالکل سادہ ناخن رکھنا چاہتی ہیں۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ کون سا انداز زیادہ ’کلاس‘ والا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا خوبصورتی کے ہر انداز کو اپنی پسند کے مطابق اپنانے کی آزادی ہے؟
مزید پڑھیں: 3 ہزار سال قدیم ایرانی سونے کی بالیوں نے فیشن انڈسٹری میں ہلچل کیوں مچادی؟
اور شاید اس پورے رجحان کا سب سے سادہ جواب یہی ہے کہ سادگی بھی خوبصورت ہوسکتی ہے اور آرائش بھی لہٰذا کسی ایک کو دوسروں سے بہتر سمجھنا ضروری نہیں۔








