سہیل آفریدی کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے سامان نہ ملنے کا الزام جھوٹ کا پلندہ ہے، اختیار ولی

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اختیار ولی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے سیکیورٹی سازوسامان نہ ملنے کے الزام کو ‘جھوٹ کا پلندہ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو 73 گاڑیاں، 59 بلٹ پروف اے پی سیز اور 14 جدید ترین بی سیون اے پی سیز فراہم کی گئی ہیں، جبکہ مزید سازوسامان بھی جلد فراہم کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی حکومت کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے سازوسامان نہ ملنے کا الزام غلط اور بے بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں، ایمرجنسی کا آپشن زیرغور ہے، طارق فضل چوہدری

ان کے مطابق خیبرپختونخوا کو 73 گاڑیاں، 59 بلٹ پروف اے پی سیز اور 14 جدید ترین بی سیون اے پی سیز فراہم کی گئی ہیں، جن میں 6 جدید ڈریگن اے پی سیز بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید 4 گاڑیاں وصولی کے لیے تیار ہیں جبکہ 13 نومبر تک مزید سازوسامان بھی فراہم کیا جائے گا۔

اختیار ولی نے بتایا کہ صوبے کو 81 جیمرز بھی فراہم کیے جارہے ہیں، جن میں سے 25 ڈیلیور ہوچکے ہیں جبکہ باقی 56 کی تیاری شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ ان کے مطابق 23 اینٹی ڈرون گنز کی فراہمی کے لیے بھی معاہدے کیے گئے ہیں، جن میں سے بعض کی ڈیلیوری اکتوبر اور دسمبر میں طے ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو فراہم کیے گئے سازوسامان کی تفصیلات سامنے رکھے بغیر وفاقی حکومت پر الزام لگانا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل، مالی معاونت اور اسلحہ فراہم نہ کرنے کا مؤقف اب قابل قبول نہیں رہا، کیونکہ صوبے میں گزشتہ 13 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔

’سی ٹی ڈی کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلیں ہیں‘

اختیار ولی نے خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی استعداد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے کے سی ٹی ڈی کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلیں اور 11 نائٹ ویژن ڈیوائسز موجود ہیں۔ ان کے بقول اتنے محدود سازوسامان کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہے، جن کے پاس بہتر ہتھیار اور آلات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اتنے کم اسلحے اور حفاظتی آلات کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو دہشت گردوں کے مقابلے کے لیے کیسے بھیجا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلٹ پروف جیکٹس اور گاڑیوں کی کمی، نائٹ ویژن آلات اور جدید رائفلوں کی قلت کے باعث پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اختیار ولی نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس کے لیے مختص بجٹ میں اضافے کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم صرف بجٹ بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوتے، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور پولیس کو عملی طور پر کیا سازوسامان فراہم کیا گیا۔

پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں 93.7 فیصد اضافہ

معاون خصوصی نے خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں جنوری سے اب تک تقریباً 122 پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کی تعداد 63 تھی، جس میں تقریباً 93.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا کر رہی ہوتی تو پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں اس قدر اضافہ نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور دہشت گرد حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس پر صوبائی حکومت کو جواب دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر راج آخری آپشن، صوبے میں جنازے اٹھ رہے ہیں اور پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کرتی ہے، گورنر خیبرپختونخوا

اختیار ولی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے، تاہم سہیل آفریدی کے دور میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال 15 اکتوبر سے 31 دسمبر تک کا عرصہ بھی موجودہ حکومت کے خلاف موازنے میں شامل نہیں کیا گیا، اس کے باوجود رواں سال پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

’پولیس کے لیے 7 ارب روپے جاری کیے گئے‘

اختیار ولی نے کہا کہ سہیل آفریدی کی حکومت نے پولیس کے لیے تقریباً 7 ارب روپے جاری کیے ہیں، تاہم یہ رقم بھی سیکیورٹی فورسز کے مطالبے اور مسلسل دباؤ کے بعد جاری کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ رقم جاری ہونے کے بعد اس کے استعمال اور پولیس کو فراہم کیے گئے سازوسامان کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ پولیس کے بجٹ میں اضافے کے باوجود وفاقی حکومت مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس کو جدید اسلحہ اور حفاظتی آلات فراہم نہیں کیے گئے تو صرف بجٹ بڑھانے سے اہلکاروں کی حفاظت ممکن نہیں ہوگی۔

ایپکس کمیٹی کا صرف ایک اجلاس ہوا

معاون خصوصی نے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ایپکس کمیٹی کا صرف ایک اجلاس بلایا، جبکہ دہشت گردی کی صورتحال کے پیش نظر مزید اجلاس ہونے چاہئیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی بنیادی ذمہ داری صوبے میں امن قائم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور سیکیورٹی فیصلوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہی نہیں ہوں گے تو دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر پیش رفت کیسے ہوگی۔

گورنر راج اور عدم اعتماد سے متعلق مؤقف

اختیار ولی نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے درکار تمام عوامل موجود ہیں، تاہم ان کی جماعت گورنر راج نہیں چاہتی۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی ایک آئینی راستہ ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ایک سہیل آفریدی کی جگہ دوسرا وزیراعلیٰ آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت احتجاجی تحریک کے حوالے سے وفاقی حکومت کی حکمت عملی پر تنقید کرتی ہے تو اسے علی امین گنڈاپور کے دور کو بھی دیکھنا چاہیے، جنہوں نے سخت سیکیورٹی حالات کے باوجود اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی ابھی تک کوئی مارچ نہیں کرسکے، اس لیے وفاقی حکومت ان سے خوفزدہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گورنر راج کب کب اور کیوں نافذ ہوا؟

اختیار ولی نے کہا کہ ان کی جماعت کی ترجیح گورنر راج نہیں، تاہم اگر اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کو احتجاجی سیاست کے بجائے اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے۔

سہیل آفریدی کی ترجیعات

گفتگو کے دوران اختیار ولی نے سہیل آفریدی کی سیاسی ترجیحات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور پولیس اہلکاروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دینی چاہیے، تاہم وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد مارچ کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ذمہ داری صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں صوبے کے عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے وزیراعلیٰ پولیس اہلکاروں کی شہادتوں پر ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں اور فورسز کو اسلحہ اور دیگر سازوسامان فراہم کرتے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں بھی صوبائی حکومت کو اسی نوعیت کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

اختیار ولی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے اہلکاروں اور شہریوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑا ہونا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے باوجود سیاسی مارچ اور احتجاج کو ترجیح دینا مناسب نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنی کارکردگی کے بارے میں سوالات کا جواب دینا چاہیے اور دوسرے صوبوں کی صورتحال کا حوالہ دے کر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں سے متعلق سوالات سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp