پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’گورنر راج‘ ایک ایسا آئینی و سیاسی انتظام رہا ہے جس کے تحت کسی صوبے میں منتخب حکومت کے معمول کے اختیارات ختم یا محدود کرکے صوبائی انتظام گورنر یا وفاق کے زیرِ انتظام دے دیا جاتا ہے۔
ملک میں اس نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ قیامِ پاکستان کے صرف ڈیڑھ سال بعد پنجاب میں پیش آیا، جبکہ آخری نمایاں مثال جنوری 2013 میں بلوچستان میں سامنے آئی تھی۔
پاکستان کی تاریخ میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مختلف ادوار کے دوران گورنر راج یا براہِ راست صوبائی انتظام نافذ کیا گیا۔
پنجاب میں پہلا گورنر راج (1949)
پاکستان میں گورنر راج کی پہلی معروف مثال پنجاب میں 25 جنوری 1949 کو سامنے آئی۔ اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین خان ممدوٹ تھے اور گورنر سر فرانسس موڈی تھے۔
تاریخی حقائق کے مطابق جب وزیراعظم لیاقت علی خان نے لاہور کا دورہ کیا تو وزیراعلیٰ ممدوٹ نے انہیں یقین دلایا کہ انہیں صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔ تاہم وفاقی قیادت اس دعوے سے مطمئن نہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:27ستمبر کی کال سہیل آفریدی کے گلے کی ہڈی، کے پی میں گورنر راج؟ فیصلہ ہوگیا
لیاقت علی خان نے گورنر جنرل کو وزیراعلیٰ ممدوٹ کو عہدے سے ہٹانے اور گورنر راج نافذ کرنے کا مشورہ دیا، جس کے نتیجے میں ممدوٹ حکومت ختم کر دی گئی اور صوبائی انتظام گورنر کے ہاتھ میں چلا گیا۔
یہ انتظام 25 جنوری 1949 سے 5 اپریل 1951 تک، یعنی تقریباً 2 سال 2 ماہ جاری رہا۔ مارچ 1951 کے انتخابات کے بعد ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور گورنر راج کا خاتمہ ہوا۔
سندھ میں 1951 سے 1953 تک وفاقی نگرانی
سندھ میں بھی ابتدائی برسوں میں صوبائی حکومت کو براہِ راست گورنر کے ذریعے چلایا گیا۔ 29 دسمبر 1951 کو گورنر راج نافذ ہوا جو 22 مئی 1953 تک، یعنی تقریباً ایک سال 5 ماہ جاری رہا۔ اس عرصے میں میاں امین الدین گورنر تھے۔
اس دور کا سیاسی پس منظر شدید اندرونی سیاسی اختلافات اور صوبائی قیادت کے درمیان کشمکش پر مشتمل تھا۔ دستیاب تحقیقی ریکارڈ سندھ میں اس زمانے کے مسلسل سیاسی تنازعات اور حکومت سازی کی کشمکش کی نشاندہی کرتا ہے۔
بلوچستان میں پہلا گورنر راج (1973)
بلوچستان کو 1970 میں مکمل صوبائی حیثیت ملنے کے بعد سردار عطا اللہ مینگل کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ تاہم مرکز اور بلوچستان حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات شدید ہوتے گئے۔
13 فروری 1973 کو ذوالفقار علی بھٹو کی وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت برطرف کر دی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس وقت گورنر نواب اکبر خان بگٹی تھے۔ یہ گورنر راج 27 اپریل 1973 تک، یعنی تقریباً 2 ماہ سے کچھ زیادہ عرصے جاری رہا۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں کسی بڑے آپریشن یا گورنر راج سے متعلق فیصلہ نہیں ہوا، وزیر دفاع خواجہ آصف
اس واقعے کے بعد بلوچستان میں مرکز اور قوم پرست سیاست کے درمیان کشیدگی بڑھی اور آنے والے برسوں میں صوبے میں مسلح شورش بھی شدت اختیار کر گئی۔
بلوچستان میں دوسری بار (1975–1976)
بلوچستان میں گورنر راج دوسری مرتبہ 31 دسمبر 1975 کو نافذ ہوا۔ اس مرتبہ صوبائی اسمبلی کو معطل کرکے براہِ راست حکومتی انتظام قائم کیا گیا۔
یہ انتظام 6 دسمبر 1976 تک جاری رہا، جب سردار محمد خان باروزئی وزیراعلیٰ بنے۔ یوں یہ دور تقریباً ایک سال پر محیط تھا۔
اس اقدام کا تعلق بھی بھٹو حکومت اور بلوچستان کی سیاسی قوتوں کے درمیان شدید اختلافات سے تھا۔ 1975 کے آخر میں وفاق نے صوبائی اسمبلی معطل کی اور صوبے کا انتظام گورنر کے ذریعے چلایا۔
خیبر پختونخوا میں پہلا گورنر راج (1975)
سابق شمال مغربی سرحدی صوبہ (موجودہ خیبر پختونخوا) بھی گورنر راج کی زد میں آیا۔ 16 فروری 1975 کو گورنر راج نافذ ہوا جو 3 مئی 1975 تک جاری رہا۔ اس وقت وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور تھے۔
بعد ازاں صوبائی اسمبلی میں نئی سیاسی صف بندی کے نتیجے میں نصراللہ خان خٹک وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور گورنر راج ختم کر دیا گیا۔
دستیاب ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اقدام بھی وفاق اور صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان شدید سیاسی کشمکش کے پس منظر میں ہوا تھا، جبکہ چند ماہ بعد نصراللہ خٹک کی حکومت بحال ہوئی۔
سندھ میں مختصر مدت کا گورنر راج (1988)
سندھ میں دوسری مرتبہ گورنر راج 24 جون 1988 کو نافذ ہوا۔ اس وقت لیفٹیننٹ جنرل (ر) رحیم الدین خان گورنر تھے۔ یہ انتظام 31 اگست 1988 تک، یعنی تقریباً 68 دن جاری رہا۔ اس دوران صوبائی حکومت کے معمول کے اختیارات گورنر کے پاس رہے۔
یہ دور جنرل ضیا الحق کے دور کے اختتامی سیاسی بحران اور 1988 کے عام انتخابات سے قبل کے ہنگامہ خیز ماحول میں آیا۔ گورنر رحیم الدین خان نے اس مختصر مدت میں صوبائی انتظام سنبھالا اور بعد ازاں نئی سیاسی حکومت کے قیام کے ساتھ گورنر راج ختم ہو گیا۔
خیبر پختونخوا میں دوسرا گورنر راج (1994)
خیبر پختونخوا میں دوسری مرتبہ 25 فروری 1994 کو گورنر راج نافذ ہوا اور 24 اپریل 1994 کو ختم کر دیا گیا۔ اس طرح یہ انتظام تقریباً 58 دن جاری رہا۔ اس وقت صوبے میں پیر صابر شاہ کی حکومت تھی۔
صدرِ پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کی اور وزیراعلیٰ و صوبائی وزرا کو عہدوں سے ہٹا دیا۔ اس اقدام کو بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا۔
24 اپریل کو آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا اور گورنر راج ختم ہو گیا۔
سندھ میں تیسرا گورنر راج (1998)
سندھ میں گورنر راج کی تیسری اور انتہائی اہم مثال 30 اکتوبر 1998 کو سامنے آئی۔ اس وقت وزیراعظم نواز شریف تھے اور صوبے میں لیاقت علی جتوئی کی حکومت تھی۔ اس اقدام کا مرکزی پس منظر کراچی میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال اور سیاسی تشدد تھا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کتنا قریب ہے؟ فیصل کریم کنڈی نے بتا دیا
اکتوبر 1998 میں سابق گورنر سندھ اور معروف شخصیت حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد وفاق اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
وزیراعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم پر قتل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے اور 30 اکتوبر کو سندھ حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کر دیا۔
صوبے کا انتظام گورنر لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر کے سپرد ہوا۔ یہ گورنر راج 17 جون 1999 تک، یعنی تقریباً ساڑھے سات ماہ جاری رہا۔
اس دور میں کراچی میں فوج کو بھی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے اختیارات دیے گئے اور وفاق نے امن و امان بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے خصوصی فوجی عدالتوں کے حوالے سے اہم فیصلہ بھی دیا۔
پنجاب میں دوسرا گورنر راج (2009)
پاکستان میں آخری نمایاں گورنر راج 25 فروری 2009 کو پنجاب میں نافذ ہوا۔ اس وقت پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں شہباز شریف کی نااہلی اور وزارتِ اعلیٰ سے علیحدگی کے بعد صوبے میں آئینی بحران پیدا ہونے کا مؤقف سامنے آیا۔
صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا اور گورنر سلمان تاثیر کو صوبائی انتظام چلانے کا اختیار دیا۔
دلچسپ امر یہ تھا کہ 2009 میں پنجاب اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا گیا تھا؛ وزیراعلیٰ اور کابینہ کو عہدوں سے ہٹایا گیا اور صوبائی انتظام گورنر کے سپرد کیا گیا۔
یہ گورنر راج تقریباً 33 دن جاری رہا۔ صدر زرداری نے 30 مارچ 2009 کو اس کا خاتمہ کیا اور شہباز شریف دوبارہ وزیراعلیٰ بن گئے۔
بلوچستان میں آخری بڑی مثال (2013)
بلوچستان میں ایک بار پھر 14 جنوری 2013 کو گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت صوبے میں نواز شریف یا وفاقی مسلم لیگ (ن) کی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی تھے۔
اس اقدام کا فوری پس منظر کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے خلاف ہونے والے بم دھماکے اور اس کے بعد لاشوں کے ہمراہ ہونے والا احتجاج تھا۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت سے امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان حکومت ختم کرنے اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے آئینی منظوری دی۔ گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے صوبے کے انتظامی اختیارات سنبھالے۔
یہ بھی پڑھیں:کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں، گورنر راج ہماری خواہش نہیں، بلاول بھٹو
آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت یہ انتظام ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ 13 مارچ 2013 کو دو ماہ کی مدت مکمل ہونے پر گورنر راج ختم ہوا اور صوبائی حکومت بحال ہو گئی۔
آئینی فریم ورک اور خلاصہ
گورنر راج میں عموماً آئین کے متعلقہ اختیار کے تحت صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل کیے جاتے ہیں۔ 1973 کے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صدر، صوبے کے آئینی نظام کے ناکام ہونے کی صورت میں گورنر کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتا ہے، تاہم اس اختیار کی آئینی حدود بھی موجود ہیں۔ 1994، 2009 اور 2013 کی مثالیں اسی آئینی طریقہ کار سے متعلق تھیں۔
پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ صوبائی حکومتوں کو براہِ راست گورنر کے ذریعے چلانے کا طریقہ کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک ہی دور تک محدود نہیں رہا۔
ابتدائی برسوں میں یہ سیاسی اور انتظامی بحرانوں کے تناظر میں استعمال ہوا، 1970 کی دہائی میں مرکز اور صوبائی قوم پرست سیاست کے تنازعات کے دوران سامنے آیا، 1988 اور 1990 کی دہائی میں دوبارہ استعمال ہوا، جبکہ 1998، 2009 اور 2013 کی مثالوں میں امن و امان یا آئینی بحران نمایاں جواز کے طور پر سامنے آئے۔












