سندھ کا تیسرا بڑا شہر سکھر کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے تاہم شہر کے صنعتی علاقوں کی صورتحال حکومتی عدم توجہی کی عکاسی کر رہی ہے۔ کہیں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کہیں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے تو کہیں صنعتی ڈھانچہ بدحالی کا شکار ہے جس کے باعث تاجروں اور صنعت کاروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں نئے صوبے کتنے ضروری ہیں؟ بلوچستان کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی
روہڑی کے صنعتی علاقے کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں جہاں تاجر طویل عرصے سے اپنے مسائل کے حل کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وسائل اور ترقیاتی توجہ کو صرف بڑے مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی سطح پر موجود مسائل کو ترجیح دی جائے تو سکھر اور روہڑی جیسے شہروں میں بھی صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیے: نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اراکین پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟
کاروباری افراد کے خیال میں وسائل کی مساوی تقسیم اور چھوٹے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جانیے تفصیل عمران ملک کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔













