اٹک پولیس نے حاضر سروس پولیس افسر اور 2 کانسٹیبلز کے خلاف مبینہ جنسی زیادتی سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ایف آئی آر کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا۔
مزید پڑھیں:اٹک میں سی ٹی ڈی پولیس کی بڑی کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک
اٹک پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر تھانہ سٹی اٹک کی جعلی ایف آئی آر نمبر 248/26 وائرل کی جا رہی ہے، جس میں حاضر سروس پولیس افسر اور 2 کانسٹیبلز کے خلاف سنگین نوعیت کے من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
*سوشل میڈیا پر وائرل جعلی ایف آئی آر کے حوالے سے وضاحت*
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر تھانہ سٹی اٹک کی جعلی ایف آئی آر نمبر 248/26 وائرل کی جا رہی ہے، جس میں حاضر سروس پولیس افسر اور دو کانسٹیبلز کے خلاف سنگین نوعیت کے من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔@Rporwp @OfficialDPRPP pic.twitter.com/iIjkJLqeiu— Attock Police (@AttockDpo) September 28, 2026
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اٹک سٹی پولیس نے 2 کانسٹیبلز محمد عامر اور علی رضا کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ وائرل ایف آئی آر جعلی ہے۔
اٹک پولیس کا کہنا ہے کہ وائرل دستاویز میں متعدد املا کی غلطیاں موجود ہیں اور اس میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جعلی ایف آئی آر کے حوالے سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔














