4 اکتوبر کا مارچ موخر کردیا جائے؟ پی ٹی آئی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

4 اکتوبر کا مارچ ملتوی، موخر کیا جائے یا بحال رکھا جائے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں وزیراعلیٰ کے علاوہ خیبر پختونخوا کے پارٹی صدر جنید اکبر اور منتخب اراکین بھی شریک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے ایک بار پھر 4 اکتوبر کے مارچ کی تاریخ پر نظرثانی کی تجویز سامنے آ رہی ہے، جس کے باعث قیادت تاریخ کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اجلاس کا واحد ایجنڈا 4 اکتوبر کے مارچ کی تاریخ ہے۔ اجلاس میں مشاورت کی جا رہی ہے کہ مارچ کی تاریخ برقرار رکھی جائے یا اسے مزید موخر یا ملتوی کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے حالات سازگار نہیں، لانگ مارچ کا فیصلہ فوری مؤخر کریں، شوکت یوسفزئی کا پی ٹی آئی قیادت کو خط

انہوں نے بتایا کہ مارچ کی تاریخ کا اعلان سہیل آفریدی نے کیا تھا اور وہ مجموعی طور پر اس کی تیاریوں کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور پارٹی کے اندر سے بھی مارچ موخر یا ملتوی کرنے کے مشورے آ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق، ’شوکت یوسفزئی نے بھی مارچ موخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دیگر رہنماؤں کا بھی کچھ ایسا ہی موقف ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے قریبی ساتھیوں اور پارٹی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے مشاورت کے بعد ہی کریں گے۔

پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ جنید اکبر اور بعض دیگر رہنما مارچ کے حق میں ہیں، جبکہ مخالف گروپس سے تعلق رکھنے والے کچھ رہنما بھی مارچ کے انعقاد کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ مارچ نہ ہوا تو کارکنوں کے سامنے ان کا تاثر متاثر ہوگا اور وہ کارکنوں کے دباؤ میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں، علی امین گنڈاپور

انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی نے گزشتہ روز بھی اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی اور وہ مارچ کے انعقاد پر بضد ہیں، تاہم ان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ مارچ کی صورت میں حکومت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ان کی وزارتِ اعلیٰ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور جلسے میں 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا، جبکہ 27 ستمبر سے صرف 36 گھنٹے قبل انہوں نے خود مارچ کو 4 اکتوبر تک موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب 4 اکتوبر کو بھی مارچ موخر کرنے کے معاملے پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ سہیل آفریدی آج شام 7  بجے پریس کانفرنس کریں گے جس میں پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp