امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال 80 سال کے ہو گئے ہیں۔ ان کی توانائی اور صحت پر اکثر خاموشی سے بحث ہوتی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تاہم صحت کے مسائل، نیند کے دوران اونگھنے اور اسپتال کے دوروں پر سخت عوامی جانچ پڑتال کے باوجود ریپبلکن صدر کو معمول کے مطابق عوامی تقریبات میں شرکت کرتے دیکھا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا اصرار ہے کہ وہ اب بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ متحرک شخصیات میں سے ایک ہیں۔ اگرچہ ان کا غیر روایتی طرز زندگی کسی روایتی ماہر غذائیت کو پریشان کر سکتا ہے لیکن ان کی انتھک رفتار ناقابل تردید ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی خوراک
ٹرمپ کی خوراک ہمیشہ عوامی دلچسپی کا موضوع رہی ہے کیونکہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک سپر پاور ملک کا صدر کیا کھاتا ہے۔ تو یہاں امریکی صدر کی ’بہت غیر صحت مند‘ خوراک پر ایک تفصیلی نظر ڈالی گئی ہے۔
برگر، فرائیڈ چکن اور بہت زیادہ ڈائٹ کوک
ٹرمپ کا فاسٹ فوڈ سے لگاؤ مشہور ہے۔ انہیں اپنے نجی جہاز ٹرمپ فورس ون میں کے ایف سی کی بالٹی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے تصویر میں دیکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: ’ہر ٹیسٹ میں مکمل نمبر حاصل کیے‘، ٹرمپ کا ایک بار پھر اپنی صحت اور ذہنی صلاحیت کی بہتری کا دعویٰ
سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں میکڈونلڈز کے برگر اور فرائز کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سابق انتخابی مہم کے مشیروں کوری لیونڈوسکی اور ڈیوڈ بوسی کے مطابق سابق صدر کے نجی طیارے میں وہ چیزیں موجود تھیں جنہیں وہ چار بڑے فوڈ گروپس کہتے تھے: میکڈونلڈز، کینٹکی فرائیڈ چکن، پیزا اور ڈائٹ کوک۔
نیویارک ٹائمز نے ایک بار رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ ایک دن میں 12 کین تک ڈائٹ کوک پیتے تھے اور اتنا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنی میز پر ایک بٹن بھی لگا رکھا تھا جس سے وہ جب چاہیں تازہ کین منگوا سکتے تھے۔
اپنے بہت سے پیشروؤں کے برعکس جنہوں نے فٹنس اور صحت مند زندگی کی حمایت کی ٹرمپ نے عوامی طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ ورزش کے زیادہ شوقین نہیں ہیں بلکہ اس کے بجائے اپنی بڑی انتخابی ریلیوں کی توانائی پر توجہ مرکوز کرنا پسند کرتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی نیند کا درانیہ
زیادہ تر ڈاکٹر رات میں 8 گھنٹے آرام کی تجویز کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے معالج نیوی ڈاکٹر رونی جیکسن تسلیم کرتے ہیں کہ ’میں کہوں گا کہ وہ رات میں 4 سے 5 گھنٹے سوتے ہیں، وہ شاید ساری زندگی ایسے ہی رہے ہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں زیادہ نیند کی ضرورت نہیں ہوتی‘۔
صدر ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ وہ عام طور پر رات ایک بجے سوتے ہیں اور اخبارات پڑھنے، ٹی وی دیکھنے اور کھانے کے لیے صبح 5 بجے اٹھ جاتے ہیں۔
انہوں نے پہلے نیند کو ایک ’محدود وسیلہ‘ قرار دیا تھا اور آرام کے بجائے اپنی ’بیٹری‘ کو کام پر خرچ کرنے کو ترجیح دی ہے۔
ایک منٹ کی ورزش
یہ کوئی راز نہیں کہ ٹرمپ ورزش کے مداح نہیں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بچوں کے لیے صدارتی فٹنس ایوارڈ واپس لانے کے حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ’میں بہت زیادہ ورزش کرتا ہوں جیسے دن میں زیادہ سے زیادہ ایک منٹ وہ بھی اگر خوش قسمتی سے موقع مل جائے تو‘۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا طبی معائنہ: ڈاکٹروں کی ریکارڈ تعداد نے تفصیلی جانچ کی، اصل وجہ کیا ہے؟
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر نے اپنی پہلی اور دوسری مدت کے درمیان مبینہ طور پر 20 پاؤنڈ وزن کم کیا۔ ان کی میڈیکل رپورٹ نے تصدیق کی کہ ان کا وزن 244 پاؤنڈ سے کم ہو کر 224 پاؤنڈ ہوگیا ہے۔














