اے آئی کمپنیوں سے ٹرمپ کا خود نگرانی کا سمجھوتا، ’اخلاقی پابندی‘ عائد

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے حفاظتی اقدامات اور خود نگرانی سے متعلق ایک رضاکارانہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:

وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اے آئی کمپنیاں خود اپنی ٹیکنالوجی کی نگرانی کریں گی، جبکہ انہوں نے معاہدے کو ’اخلاقی طور پر پابند‘ قرار دیا۔

معاہدے میں اے آئی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے اندرونی جائزوں اور بیرونی آڈٹ سمیت نگرانی کے مختلف اقدامات شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جدید مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں جدت کا عمل جاری رکھنا ہے۔

اجلاس میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، اوپن اے آئی کے گریگ بروک مین اور اینتھروپک کے ڈاریو اموڈی سمیت مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہوئے۔

مزید پڑھیں:

رپورٹس کے مطابق معاہدہ قانونی طور پر نافذ العمل نہیں بلکہ رضاکارانہ نوعیت کا ہے، تاہم اس میں مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان اقدامات کو قوانین یا ضوابط کا حصہ بنانے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp