امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے حفاظتی اقدامات اور خود نگرانی سے متعلق ایک رضاکارانہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
مزید پڑھیں:
وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اے آئی کمپنیاں خود اپنی ٹیکنالوجی کی نگرانی کریں گی، جبکہ انہوں نے معاہدے کو ’اخلاقی طور پر پابند‘ قرار دیا۔
President Trump touted a “morally binding” agreement with AI executives to “self-police” and floated a “committee” of roughly 10 people to help “watch over the whole enterprise” https://t.co/xY8qUBqdZe pic.twitter.com/63NdrIpTQn
— Bloomberg (@business) September 29, 2026
معاہدے میں اے آئی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے اندرونی جائزوں اور بیرونی آڈٹ سمیت نگرانی کے مختلف اقدامات شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جدید مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں جدت کا عمل جاری رکھنا ہے۔
اجلاس میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، اوپن اے آئی کے گریگ بروک مین اور اینتھروپک کے ڈاریو اموڈی سمیت مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہوئے۔
مزید پڑھیں:
رپورٹس کے مطابق معاہدہ قانونی طور پر نافذ العمل نہیں بلکہ رضاکارانہ نوعیت کا ہے، تاہم اس میں مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان اقدامات کو قوانین یا ضوابط کا حصہ بنانے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔














