امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سرخ سیارے مریخ کے اربوں سال پرانے ماضی کے راز اسکاٹ لینڈ کی پہاڑیوں میں چھپے ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریخ پر پراسرار گڑھوں کی دریافت، 14 سال بعد بھی ناسا کا ’کیوریوسٹی روور‘ سرخ سیارے سے حیران
ناسا کی گوڈارڈ انسٹرومنٹ فیلڈ ٹیم اور اس کے ساتھی محققین نے حال ہی میں اسکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز کا دورہ کیا ہے تاکہ مریخ کے قدیم ماضی سے متعلق اہم شواہد تلاش کیے جا سکیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی چٹانیں قدیم جرثوموں کی سرگرمیوں کے گرد لپٹے اسرار کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ اور مریخ کے ماضی کے درمیان یہ تعلق حیران کن حد تک مضبوط ہے۔
تحقیق کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں موجود ’اسٹوئر فارمیشن‘ ایک نایاب مقام ہے جہاں قدیم مریخی جھیلوں اور دریاؤں جیسا ماحول بھی موجود ہے اور ساتھ ہی 1.2 ارب سال پرانی جرثومی زندگی کے شواہد بھی ملتے ہیں اور یہ وہ دور ہے جب زمین پر خشکی کے پودوں کا وجود بھی نہیں تھا۔
سائنسدان بتاتے ہیں کہ مریخ کا ماضی پانی سے بھرا ہوا تھا وہاں مٹی کے پتھر اور سلٹ اسٹون پائے جاتے ہیں جو چکنی مٹی کے معدنیات سے بھرپور ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی چٹانوں کا مطالعہ کر کے محققین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قدیم جرثومی زندگی کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: خلائی ٹوائلٹ صاف کرنے والی خاتون نے مریخ مشن کی قیادت سنبھال لی، اس مقام تک رسائی کیسے ہوئی؟
اس تحقیق کے مرکز میں ’ریڈکشن اسپاٹس‘ ہیں جنہیں ناسا کے پرسیویرنس روور نے جیزیرو کریٹر میں دریافت کیا تھا۔
سائنسدانوں نے اسکاٹ لینڈ سے سرخ سینڈ اسٹون کے ایسے نمونے جمع کیے ہیں جن پر سرمئی سبز رنگ کے ’ریڈکشن اسپاٹس‘ موجود ہیں جو قدیم جرثوموں کے چٹانوں کے ساتھ تعامل کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ریڈکشن اسپاٹس بعض اوقات قدیم جرثوموں کے چٹانوں سے تعامل کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ ماضی کی زندگی کے طبعی اور کیمیائی شواہد یعنی بائیو سگنیچرز کی تلاش کرنے والے سائنسدانوں کے لیے یہ دھبے انتہائی قیمتی ہدف ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا ناسا کو مریخ پر قدیم زندگی کے شواہد مل گئے؟ نئی دریافت نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا
نمونے جمع کرنے کے بعد اب سائنسدان جدید آلات کی مدد سے ان کا جائزہ لیں گے تاکہ روور کے ڈیٹا اور مریخ سے لائے گئے نمونوں میں ان دھبوں سے متعلق معلومات کی بہتر تشریح میں مدد مل سکے۔














