امریکی خلائی ادارے ناسا کے مریخ پر موجود روور پرسیویئرنس نے ایک اہم سائنسی پیش رفت کرتے ہوئے مریخی چٹانوں میں پیچیدہ کاربن مالیکیولز دریافت کیے ہیں جنہیں سائنسدان قدیم حیاتیاتی سرگرمیوں سے جوڑنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی بڑٖی کامیابی، غیر متوقع سیارچے پر قدیم پانی کے شواہد دریافت
ناسا کے مطابق یہ دریافت ان چٹانوں میں ہوئی ہے جو پہلے ہی قدیم جرثوموں (مائیکروبیل لائف) کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔
روور کے شرلاک نامی سائنسی آلے نے برائٹ اینجل نامی مقام کی مٹیالی چٹانوں میں نامیاتی کاربن کی موجودگی کا سراغ لگایا۔ یہ علاقہ نیریٹوا ویلس نامی ایک خشک دریا کے راستے پر واقع ہے جہاں اربوں سال قبل پانی بہتا تھا اور جو مریخ کے جیزیرو کریٹر میں جا کر گرتا تھا۔
سیاروی سائنس انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی محقق ڈاکٹر ایشلے مرفی کے مطابق یہ کاربن مختلف ذرائع سے پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ یہ مادہ قدیم حیاتیاتی سرگرمیوں، مثلاً جرثومی تہوں یا فوسلائزڈ نامیاتی مواد سے آیا ہو تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ چٹانوں اور پانی کے درمیان کیمیائی تعامل یا شہابیوں کے ذریعے مریخ تک پہنچا ہو۔
ڈاکٹر مرفی اور ان کے ساتھیوں نے شرلاک آلے کے ذریعے بالائے بنفشی شعاعیں چٹانوں پر ڈال کر ان سے منعکس ہونے والی روشنی کا تجزیہ کیا جس کے نتیجے میں پیچیدہ کاربن مرکبات کی موجودگی سامنے آئی۔
مزید پڑھیے: 8 سالہ بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا بھی فراخدلانہ اعتراف
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ مریخ پر نامیاتی مادے اور زندگی کے لیے سازگار ماحول صرف ایک محدود علاقے تک نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر موجود ہو سکتے تھے۔
تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ یہ نتائج اس امکان کو مضبوط کرتے ہیں کہ اربوں سال پہلے مریخ کے مختلف حصوں میں زندگی کے لیے موزوں حالات پائے جاتے تھے۔
Wild to think Mars wasn't always a giant dust bowl. Looking at those dry riverbeds the rovers send back is wild. It actually used to have massive lakes and maybe a whole ocean in the northern hemisphere. pic.twitter.com/xx8KvPLWQG
— Stellarix (@Stellarixorine) June 24, 2026
لندن کے امپیریل کالج سے وابستہ نامیاتی کیمیا کے ماہرین کے مطابق پیچیدہ کاربن زمین پر حیاتیاتی فوسلز میں بھی پایا جاتا ہے اور غیر حیاتیاتی ذرائع سے بھی وجود میں آ سکتا ہے اس لیے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دریافت شدہ کاربن براہِ راست قدیم زندگی کا ثبوت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ سے حاصل ہونے والے یہ نمونے ایک ایسے سائنسی معمہ کی مانند ہیں جنہیں مزید تحقیق کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ناسا کا دلچسپ ٹول: جنگلات، پہاڑوں پر اپنا نام لکھا دیکھیں
اگرچہ اس دریافت کو مریخ پر قدیم زندگی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم سائنسدانوں کے مطابق یہ اب تک کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک ہے، جو مریخ کے ماضی اور وہاں زندگی کے امکانات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔














