ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارتی پروپیگنڈے پر کاری وار، حوالدار محمد آصف کو عالمی میڈیا کے سامنے پیش کر کے انڈین ’فالس فلیگ‘ کی دھجیاں بکھیر دیں

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ‘ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے فالس فلیگ آپریشنز شروع کیے، بھارت نے جھوٹے دعوے کیے ہیں کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں لشکر طیبہ کے کمانڈر محمد آصف عرف موسیٰ کو انکاؤنٹر میں مار دیا ہے۔ جس کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا وہ ہمارے سامنے ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت نے 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں ‘فالس فلیگ آپریشن’ کا ڈراما رچا کر پاک فوج کے جوان کو لشکرطیبہ کا کمانڈر بتانے کا من گھڑت پروپیگنڈا کیا ہے۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ 29 ستمبر کی رات بھارتی کور نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جوائنٹ سرچ آپریشن کے نام پر نیا ڈراما رچایا۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں لشکرِ طیبہ کا ایک کمانڈر مارا گیا ہے اور اس کی لاش بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

بھارتی حکام کی جانب سے اس شخص کی شناخت محمد آصف الیاس عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی اور اس کی ہلاکت کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی نیوز ایجنسی نے سروس نمبر کے ساتھ تفصیلا ت جاری کرتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ آصف پاک فوج کا ایس ایس جی ہوالدار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خفیہ دستاویزات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں کردار بے نقاب

بھارتی حکومت نے محمد موسیٰ عرف آصف فوجی کو لشکرِ طیبہ کا کمانڈر قرار دیتے ہوئے یہ من گھڑت داستان گھڑی کہ وہ 2022 سے جموں و کشمیر میں مسلسل سرگرم تھا۔

’آپریشن شیرانوالی‘ اور من گھڑت الزامات

ترجمان کے مطابق بھارتی حکام نے اس جعلی کارروائی کو ’آپریشن شیرانوالی‘ کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے۔ بھارتی فوج نے الزام عائد کیا کہ آصف فوجی خطے میں متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا، جن میں ہالان حملہ اور ڈی کے جی حملہ شامل ہیں، جبکہ اس کے گروپ کے مزید 3 ارکان کو بھی مختلف کارروائیوں میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اندرونی ناکامیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے ’فالس فلیگ آپریشنز‘ کا سہارا لینا ایک پرانی حکمتِ عملی ہے۔

پاک فوج اور حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی فوج کے ایسے بے بنیاد ڈراموں، من گھڑت الزامات اور جھوٹے پروپیگنڈے کے حقائق دنیا کے سامنے بے نقاب کیے ہیں۔

7 گھنٹے بعد داستان میں تبدیلی

ترجمان پاک فوج کے مطابق واقعے کے محض 7 گھنٹے بعد بھارتی ملٹری نے ایک نئی اپ ڈیٹ جاری کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سرچ آپریشن کے دوران پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکرِ طیبہ کے ایک دہشت گرد کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی ہے۔

پاک فوج پر من گھڑت الزامات کی حقیقت

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی سیکیورٹی ذرائع اور میڈیا نے اس من گھڑت داستان کو آگے بڑھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شہید محمد آصف کا تعلق پاک فوج سے تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، اس نے 2000 میں سروس نمبر PA-3106947 کے تحت پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔

بھارتی میڈیا کے خود ساختہ دعوے

بھارتی ذرائع کے حوالے سے گھڑی گئی کہانی میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ آصف کو 2005 میں ایس ایس جی کی 4 کمانڈو ’یالگار‘ بٹالین میں شامل کیا گیا، اور 2006 سے بلوچستان میں تعیناتی کے دوران اس نے 10 آپریشنز میں حصہ لیا جبکہ 13 ہلاکتوں کا کریڈٹ بھی اسے دیا گیا۔

مزید یہ کہ بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ 2006 سے 2009 کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کی وی وی آئی پی سیکیورٹی ٹیم کا حصہ رہا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مقبوضہ کشمیر میں ‘دہشت گرد’ ظاہر کر کے مارے جانے کا بھارتی دعویٰ غلط ثابت کرتے ہوئے، بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے ‘مردہ’ قرار دیے گئے سابق فوجی حوالدار محمد آصف کو عالمی میڈیا کے سامنے زندہ پیش کر کے بھارت کا جھوٹا پروپیگنڈا تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیا۔

میں راولپنڈی میں زندہ اور محفوظ ہوں، ریٹائرڈ حوالدار آصف

پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے آنے والے ضلع اٹک (پنڈی گھیپ) کے رہائشی سابق حوالدار محمد آصف نے بھارتی میڈیا کے الزامات کو انتہائی گھٹیا اور من گھڑت قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور 2020 میں ایس ایس جی سے ریٹائرمنٹ حاصل کی، جس کے بعد سے وہ راولپنڈی میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

حوالدار آصف نے انکشاف کیا کہ کچھ عرصے سے انہیں انڈین نمبروں سے مسلسل کالز آ رہی تھیں جن میں ان کی ذاتی معلومات مانگنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ ان نمبروں کو بلاک کرتے رہے۔

بعد ازاں بھارتی میڈیا نے ان کا ڈیٹا چوری کر کے انہیں مقبوضہ کشمیر میں ’شہید‘ یا مارا جانے والا دہشت گرد قرار دے کر سنسنی پھیلانے کی ناکام کوشش کی۔

دوستوں کی اطلاع اور بھارتی ڈرامے کا ڈراپ سین

سابق ایس ایس جی کمانڈو نے بتایا کہ انہیں ان کے دوستوں نے اطلاع دی کہ سوشل میڈیا پر خبر چل رہی ہے کہ انڈین آرمی نے انہیں کشمیر میں مار دیا ہے۔

اس پر انہوں نے اپنے دوستوں کو حیرت سے جواب دیا کہ ‘میں بالکل زندہ سلامت آپ کے سامنے موجود ہوں’۔ پاک فوج نے بھارتی نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ مبینہ تصویر اور خبر کو دنیا کے سامنے رکھ کر بھارت کی قلعی کھول دی ہے۔

بھارتی فالس فلیگ ڈرامے کی 6 وجوہات

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پہلگام اور پلواما کی طرز پر ایک بار پھر فالس فلیگ اسٹوری گھڑی گئی ہے، جس کی 6 بنیادی وجوہات ہیں۔

پاک فوج نے انڈین مردہ بیانیے کو زندہ ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کر کے بھارتی فوج اور میڈیا کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت کا دنیا میں دہشتگردی پھیلانے کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بھارت کی جانب سے ماضی میں مکتنی باہنی کی حمایت ہو یا موجودہ دور میں کالعدم ٹی ٹی پی کی مالی معاونت، یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔

ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا پرانا حربہ

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، اور سکھوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دبانے کے شدید عالمی الزامات ہیں۔

بھارتی حکومت اپنی ریاستی پالیسی کے تحت دہائیوں سے دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

بھارتی حکومت اور میڈیا اپنی داخلی ناکامیوں، مظالم اور عالمی سطح پر بننے والے منفی تاثر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً اس طرح کے ڈرامے رچاتے رہتے ہیں، تاکہ دوسروں پر الزام تراشی کر کے اپنے گناہ چھپا سکیں۔

ترجمان پاک فوج نے بھارت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس نے کوئی فالس فلیگ ڈراما رچانے یا مہم جوئی کی کوشش کی، تو اس کا ایسا دردناک اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا جسے ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران سوال اٹھایا کہ آخر بھارت کو اس طرح کے فالس فلیگ ڈرامے رچانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ من گھڑت کہانیاں دراصل بھارت کے لیے شدید شرمندگی کا باعث ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت میں آج مسلمان، مسیحی، سکھ اور دیگر نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ریاستی جبر کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کی خفیہ چال بے نقاب، پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کا انکشاف

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جب بھارت آئینہ دیکھتا ہے تو اسے اس میں اپنا چہرہ ایک دہشتگرد کے طور پر نظر آتا ہے، جس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کیا کر رہا ہے۔

کچھ کرنے کا شوق ہے تو سامنے آ کر لڑے

بھارت کو انتہائی سخت اور دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر وہ کوئی ڈراما کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے کوئی جارحیت کی تو ہمارا ردعمل انتہائی سخت اور دردناک ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا واسطہ ایک انتہائی گھٹیا دشمن سے پڑا ہے۔ ترجمان نے چیلنج دیا کہ اگر بھارت کو کچھ کرنے کا شوق ہے تو سازشوں کے بجائے سامنے آ کر مقابلہ کرے، ہم اسے وہی جواب دیں گے جو معرکہ حق میں دیا تھا۔

ہندوستان اب ’فیکستان‘ اور انکاؤنٹرستان بن چکا ہے

بھارتی میڈیا اور عسکری قیادت کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی گودی میڈیا کا واحد ایجنڈا اپنے انتہا پسند ہندو آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔

انہوں نے بھارتی ایئر چیف کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ماہ بعد نیند سے جاگے اور کہہ دیا کہ مجھے یاد ہے ہم نے بھی پاکستانی جہاز گرائے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اس وقت ’شائننگ انڈیا‘ کی خیالی دنیا میں جی رہا ہے، لیکن ہم نے جو شائن انہیں دکھائی ہے، درحقیقت وہ شائن نہیں بلکہ شیم (شرمندگی) ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت پاکستان کیخلاف پھر فالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے، اس بار گھر میں گھس کر ماریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف

آج کا ہندوستان مکمل طور پر ’فیکستان‘ اور ’انکاؤنٹرستان‘ بن چکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی پیشہ ور فوج اپنے اخلاقی زوال کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

دہشتگردی کا گٹھ جوڑ اور بھارتی سرپرستی

خطے میں دہشتگردی کے حوالے سے چشم کشا انکشاف کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی بھی دراصل بھارت ہی کا ایک مکروہ چہرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود افغان طالبان بھارت سے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا ڈی این اے ایک ہے‘۔

بدقسمتی سے ہمارا ہمسایہ دہشتگردی کو مسائل کا حل سمجتھا ہے، اس وقت بھارت دُنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد ریاست بن چکا ہے جس کا کٹھ جوڑ دہشتگردوں کے ساتھ ہے۔

طالبان رجیم نے جبراً افغانستان پر قبضہ کیا، بھارت کی پشت پناہی میں افغانستان دُنیا بھر کے دہشتگردوں کا محفوظ مسکن بن چکا ہے۔

افواج پاکستان آئین پاکستان کی پابند ہیں، اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، برائے مہربانی سیاست سے متعلق کوئی سوال نہ کریں۔

ملکی سلامتی اور پاک فوج کا غیر سیاسی کردار

ملکی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صوبوں کے ساتھ بات چیت کرنا اور سیاسی معاملات کو دیکھنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ  مختلف حیلوں بہانوں اور ہتھکنڈوں سے دہشتگردی کی سہولت کاری میں ملوث عناصر اب سیاست کے پیچھے نہیں چھپ سکتے۔ خیبر پختونخوا حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں، آپ آگے کیوں نہیں آتے؟‘۔

کیا آپ بزدل ہیں یا دہشتگردوں سے ملے ہوئے ہیں؟ آپ دہشتگردی کے بیانیے میں جان بوجھ کر ابہام کیوں پیدا کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کار (کیپسٹی بلڈنگ) بڑھانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہمارے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے اور ریاست ہے تو میں اور آپ ہیں‘۔

انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جو بھی قدم اٹھانا پڑا، وہ بلا جھجک اٹھایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp