اے آئی سے کن ملازمتوں کو خطرہ؟ فورڈ سربراہ نے خبردار کردیا

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فورڈ کے سربراہ جم فارلی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مالیاتی امور، کال سینٹرز اور ابتدائی سطح کی پروگرامنگ سے وابستہ ملازمتوں کو تبدیل یا ختم کرسکتی ہے، جبکہ ہنرمند کاریگروں کے لیے مصنوعی ذہانت معاون کا کردار ادا کرے گی۔

ڈیٹرائٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جم فارلی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ابتدائی مرحلے میں مالیاتی امور، کال سینٹرز اور ابتدائی سطح کی پروگرامنگ سے وابستہ ملازمتوں میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ملازمتیں نہیں کھا رہی کام کا انداز بدل رہی ہے، جونیئرز سیکھنے سے محروم ہوسکتے ہیں، معروف بینکار ڈیوڈ سولومن

انہوں نے افرادی قوت کو 2 گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ معلومات پر مبنی کام متاثر ہوں گے، جبکہ پیشہ ورانہ اور فنی کاموں میں مصنوعی ذہانت معاون کے طور پر کام کرے گی۔

فورڈ امریکا میں تقریباً 10 ہزار ہنرمند کاریگروں کو ملازمت دیتا ہے، جو کمپنی کے 56 ہزار یونائیٹڈ آٹو ورکرز کے تقریباً 20 فیصد ہیں۔ یہ کاریگر روبوٹس کی مرمت، سافٹ ویئر اور خودکار آلات سے متعلق کام انجام دیتے ہیں۔

جم فارلی کے مطابق مینوفیکچرنگ انجینئرز اور فی گھنٹہ اجرت پر کام کرنے والے ہنرمند کارکنوں کے درمیان فرق تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ آنے والے فیتھم برقی پک اپ ٹرک کے لیے درکار میگا کاسٹنگ آلات چلانے کے لیے سافٹ ویئر اور سیال حرکیات کی مہارت درکار ہے، جبکہ نئی فیکٹریاں روایتی اسمبلی لائنوں کے بجائے سیمی کنڈکٹر تنصیبات جیسی دکھائی دیتی ہیں۔

فورڈ ڈیلرشپس میں بھی مصنوعی ذہانت استعمال کر رہا ہے۔ کمپنی ایسی رہنمائی فراہم کرنے والی مصنوعی ذہانت تیار کر رہی ہے جو دیہی علاقوں کے کسی ٹیکنیشن کو سپر ڈیوٹی گاڑی کے انجن کی پہلی مرمت کے دوران مرحلہ وار رہنمائی دے سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے کن ملازمتوں کو سب سے زیادہ خطرہ؟ نئی تحقیق نے خبردار کردیا

فورڈ نے بلیک راک، گوگل اور کارہارٹ کے ساتھ مل کر الائنس فار امریکاز اسکلڈ ٹریڈز میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اتحاد کی رپورٹ کے مطابق 2035 تک ہر سال تقریباً 17 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی، تاہم موجودہ تربیتی نظام ہر 100 مطلوبہ کارکنوں کے مقابلے میں صرف 55 کارکن تیار کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تربیتی سلسلے میں بھی بڑی تعداد میں افراد راستے میں رہ جاتے ہیں۔ ہر 100 زیر تربیت افراد میں سے صرف 48 اپنی تربیت مکمل کرتے ہیں، جبکہ آمدورفت، بچوں کی دیکھ بھال اور آمدنی سے متعلق دباؤ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

اسٹینلے بلیک اینڈ ڈیکر کے سربراہ کرس نیلسن نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں الیکٹریشنز کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کی کمپنی نے ریک اور کیبلز کی بار بار ہونے والی تنصیب کے لیے خودکار ڈرلنگ روبوٹ بھی تیار کیا ہے۔

جم فارلی نے خبردار کیا کہ اگر کارکنوں کو خدشہ ہو کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو وہ ان نظاموں کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔ فورڈ پہلے ہی گاڑیوں کے پینلز کی جانچ کے لیے ملازمین کو مصنوعی ذہانت پر مبنی بصری آلات فراہم کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا

انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس کشیدگی سے واقف ہیں۔ ان کے مطابق وقت اور کام کے مطالعے کے ماہر کے طور پر ان کے سابقہ کام کے دوران بعض مواقع پر صورتحال جسمانی جھگڑوں تک پہنچنے کے قریب آگئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp