پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کے متوقع لانگ مارچ کے معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان 2 روز قبل اہم ملاقات ہوئی، تاہم اس ملاقات کو میڈیا اور منظر عام سے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرونِ ملک دورے سے واپسی کے بعد وزیراعظم نے اپنے وعدے کے مطابق امیر جماعت اسلامی سے رابطہ کیا اور یہ ملاقات انجام پائی۔
دورانِ ملاقات حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی سے مزید کچھ دنوں کی مہلت مانگی گئی ہے تاکہ پیٹرولیم لیوی سے متعلق حکمتِ عملی اور بات چیت کے ذریعے معاملے کو پرامن انداز میں حل کیا جا سکے۔
حکومت نے جماعت اسلامی کو اپنے کیے گئے وعدوں پر پیشرفت کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
ان رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جماعت اسلامی نے حکومت کا مزید وقت مانگنے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ اب محض یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا اور حکومت کو اپنے وعدے پر فوری طور پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنے مؤقف پر مکمل طور پر قائم ہے۔ 7 اکتوبر کو اسلام آباد میں غزہ کے حوالے سے ایک بہت بڑا اجتماع منعقد ہونے جا رہا ہے، اور اسی مارچ کے موقع پر جماعت اسلامی حکومت کے خلاف آئندہ کے حتمی اور نئے لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔












