کوئٹہ میں آپ نے بہت سے بائیک رائیڈرز دیکھے ہوں گے، لیکن 12 سالہ عمران خان کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ کم عمری میں موٹر سائیکل چلانے کا شوق اسے اپنے خاندان سے ورثے میں ملا اور اب وہ اسی شوق کے ساتھ پاکستان گھومنے کا خواب دیکھتا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ اسے موٹر سائیکل چلانے کا شوق اپنے والد کو دیکھ کر ہوا۔ اس کے والد، بھائی اور دادا بھی موٹر سائیکل کے شوقین رہے ہیں اور یہی شوق اسے بھی منتقل ہوا۔
عمران کے مطابق جس موٹر سائیکل پر وہ سفر کرتا ہے، وہ اس کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ موٹر سائیکل اس کے دادا چلایا کرتے تھے، پھر اس کے والد، چچا اور بڑے بھائی نے بھی اسے چلایا، جبکہ اب اس کے والد نے اسے عمران کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔
عمران کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 2 سال سے موٹر سائیکل چلا رہا ہے اور اسے موٹر سائیکل چلانا اس کے بڑے بھائی نے سکھایا۔
عمران مستقبل میں ناران، کاغان، شمالی علاقہ جات، پنجاب اور اسلام آباد کا سفر موٹر سائیکل پر کرنا چاہتا ہے، جبکہ اب تک وہ کوئٹہ سے کراچی تک بائی روڈ سفر کر چکا ہے۔
عمران نے بتایا کہ اس کا بائیکرز کا ایک گروپ بھی ہے، جو 7 افراد پر مشتمل ہے، اور وہ دوستوں کے ساتھ مل کر موٹر سائیکل پر سفر کرتا ہے۔
عمران کے والد نور محمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موٹر سائیکل کا شوق ان کے خاندان میں کئی نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔
نور محمد کے مطابق یہ موٹر سائیکل تقریباً 45 سال پرانی ہے، جسے پہلے ان کے والد چلاتے تھے، پھر انہوں نے خود، ان کے بھائی اور بڑے بیٹے نے اسے چلایا اور اب عمران بھی اسی موٹر سائیکل پر سواری کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا خاندان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی مرمت کا کام کرتا ہے، اسی لیے موٹر سائیکل کی مرمت، وائرنگ، ٹیوننگ اور دیگر کام وہ خود ہی کرتے ہیں۔
نور محمد کا کہنا تھا کہ عمران کو موٹر سائیکل چلانا اس کے بڑے بھائی نے سکھایا اور اب وہ چاہتے ہیں کہ عمران مستقبل میں موٹر سائیکلنگ کے ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی آگے بڑھے۔













