پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رُکن اعجاز جا کھرانی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ختم کر دیا جاتا تو پاکستان تحریکِ انصاف کے سیاسی قیدی رہا ہو جاتے۔ اب حکومت کی پالیسی کیا ہے مجھے معلوم نہیں کیونکہ میں حکومت کا حصہ نہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں اب گورنر راج کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پر عدم تعاون کے باعث مذاکرات ٹوٹے، ایمرجنسی یا گورنر راج کے علاوہ اب کوئی چوائس نہیں۔ پی ٹی آئی مذاکرات کار بار بار سہیل آفریدی سے پوچھتے اور پھر جب انہیں لگا کہ وہ ان کی بات نہیں مانیں گے تو مذاکرات ٹوٹ گئے۔
مزید پڑھیں: ایمرجنسی اور گورنر راج میں کیا فرق ہے؟
دہشتگردی کے خلاف تعاون، پی ٹی آئی مذاکرات کار کیوں بد دل ہوئے؟
اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2 اکتوبر کو شروع ہونے والے مذاکرات میں ابتدائی طور پر پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے دہشتگردی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے مؤقف کی تائید کی تھی۔
ان کے مطابق اسد قیصر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی کا مسئلہ ہمارے صوبے کا ہے اور ہم اس پر کام کریں گے لیکن آخری لمحے پر وہ اِس بات پر اَڑ گئے کہ اس مسئلے پر ہمیں کچھ اور وقت دیں اور بُنیادی طور پر یہی وجہ تھی کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ وجوہات اور بھی تھیں لیکن جب مسوّدہ تیار ہو گیا ساری چیزیں طے ہو گئی تھیں تو اُس وقت مذاکرات ٹوٹ گئے۔
اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ ہم نے 2 مسودے تیار کیے تھے۔ ایک جس میں ساری باتیں طے ہو گئی تھیں اور دوسرا جس میں ہم نے یہ طے کیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف کب بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں گے اور صوبہ اور وفاق دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے مذاکراتِ کار بھی اس بات پر تیار ہو گئے تھے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور صوبائی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے اور اس کے بعد معاملات آگے بڑھیں گے لیکن آخری منٹ پر خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اس بات پر تیار نہیں ہوئی۔
پی پی پی رہنما نے کہاکہ اس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کاروں کو بھی یقین ہوگیا کہ ہم کوئی وعدہ کر بھی لیں گے تو صوبائی حکومت اس پر تیار نہیں ہوگی تو اُس کے بعد پی ٹی آئی کے مذاکرات کار بد دل ہو گئے تھے، ہم نے کافی دیر کوشش کی لیکن کچھ باتوں پر پی ٹی آئی کے مذاکرات کار نہیں مانے۔
اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی چیئرمین بینظیر بھٹو ایک دہشتگرد حملے میں شہید ہوئی تھیں، اس کے علاوہ بھی ہم نے دہشتگرد حملوں میں کئی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
’پاکستان پیپلز پارٹی کی واضح پالیسی تھی کہ دہشتگردی ختم ہونی چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔‘
کیا پاکستان تحریکِ انصاف کے مذاکرات کار اختیارات کے ساتھ شریک ہوئے؟
اس سوال کے جواب میں اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے مذاکراتِ کار زیادہ تر فون پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ہدایات لے رہے تھے کیونکہ وہ بار بار کہتے تھے کہ سہیل سے پوچھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پہلے دن ہمیں لگا کہ مذاکراتی ٹیم کے پاس مکمل اختیارات ہیں، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تمام میٹنگز ہوچکی ہیں اور ہم پشاور سے بھی ہو کر آئے ہیں۔
ان کے مطابق مذاکراتی ٹیم خلوصِ دل کے ساتھ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی، اس لیے ان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ہماری باتوں سے اتفاق بھی کیا تھا۔
’عمران خان کے وکلا اور اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کے حوالے معاملات طے پا گئے تھے‘
اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ عمران خان کی اپنے وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے معاملات طے پا گئے تھے کہ وہ اُن سے مل سکیں گے۔ اور اِس کے ساتھ یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ وزیراعظم ایک کمیٹی نوٹیفائی کریں گے جو عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں اور مقدمات کے حوالے سے جو بھی چیزیں ہوں گی اُس پر شکایات کو سنے گی اور وزیراعظم تک پہنچائے گی، لیکن بات ہی نہیں بنی اور مذاکرات کامیاب ہی نہیں ہوئے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ تصادم سے کیسا بچا جائے؟
انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ابتدائی کام پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹّو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے کیا اور پیپلز پارٹی کی کوشش تھی کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے سے حل ہوں اور تصادم کی طرف نہ جائیں۔
انہوں نے کہاکہ سارے کمیٹی اراکین خاص طور پر اسپیکر ایاز صادق اور محسن نقوی نے خصوصی کوششیں کیں کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور پی ٹی آئی کے مذاکراتِ کار بھی سنجیدہ تھے لیکن اپنے تجربے کی بُنیاد پر بات کروں تو مذاکرات آگے چلتے نظر نہیں آ رہے۔
’ایمرجنسی اور گورنر راج کے علاوہ کوئی چوائس نہیں‘
اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ وفاقی حکومت کہہ چکی ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت دھرنے اور لانگ مارچ کرتی رہتی ہے اور ان کی توجہ امن و امان پر نہیں رہتی جس کی وجہ سے دہشتگردی پھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کیسے برداشت کرے گی کہ دہشت گردی ہو اور معصوم لوگ شہید ہوتے رہیں۔ دہشتگردی کے خلاف تو وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں نے مِل کر کام کرنا تھا اور وفاقی حکومت کو وہی گِلہ ہے کہ ہم نے فوج بھی بھیج دی، دہشتگردی کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کو پیسہ بھی دے رہے ہیں آلات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا حکومت کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کام نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے کہاکہ اِس سب کے بعد کوئی چوائس نہیں بچتی تو آئینی راستہ تو اختیار کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی ایمرجنسی یا گورنر راج کے حق میں نہ کبھی تھی نہ ہے لیکن آخر پھر کیا کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا دورانیہ کتنا ہو گا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس شِق کے تحت آئینی اقدام اُٹھایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات ختم لانگ مارچ شروع، پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
عمران خان پر قائم مقدمات کے حوالے سے کیا بات چیت ہوئی؟
اس سوال پر اعجاز جاکھرانی نے کہاکہ ہمارے تو رہنماؤں نے 12/12 سال جیلیں کاٹی ہیں اور ہمارے کارکنان بھی جیلوں میں گئے ہیں۔ عمران خان کے مقدمات تو عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہوں گے اور اگر لانگ مارچ ختم کر دیا جاتا تو ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کے سیاسی قیدی رہا ہو جاتے۔













