پیرس میں اسکولوں کی ناقص صورتحال، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی نظام کے لیے کم وسائل کے خلاف جاری طلبا احتجاج میں آج مزید شدت آنے کا امکان ہے، جہاں دسیوں ہزار افراد کے مظاہرے میں شرکت متوقع ہے۔ فرانسیسی ٹریڈ یونینز بھی ہائی اسکول اور یونیورسٹی طلبا کے احتجاج میں شامل ہوگئی ہیں۔
مزید پڑھیں:لاڑکانہ میں قتل و غارت اور بدامنی، ’سیاسی آقا سو رہے ہیں یا لندن، پیرس چلے گئے‘
فرانس بھر میں سینکڑوں ہائی اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ طلبا کلاسوں میں گنجائش سے زیادہ تعداد، اساتذہ کی کمی، خراب عمارتوں اور تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے نواحی علاقوں سے ہوا تھا جو اب ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے۔
🇫🇷 France’s trade unions are joining the student protests today, with 20,000 to 40,000 expected in Paris.
Students have blocked hundreds of high schools since late September over missing teachers and run-down buildings.
The government counts 715 police and 215 students injured, 24 schools burned or ransacked, and 5,000+ arrests, 87% of them minors.
— NewsForce (@Newsforce) October 6, 2026
حکام کے مطابق احتجاج کے دوران اب تک 5 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں 87 فیصد نابالغ ہیں، جبکہ 589 ہائی اسکولوں اور 32 جامعات میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئی ہیں، جن میں طلبا اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں:پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی
فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو کے دفتر نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ احتجاج پُرامن رکھا جائے اور اختلافِ رائے کو قانونی اور جمہوری دائرے میں برقرار رکھا جائے۔ دوسری جانب طلبا تنظیموں اور یونینز نے حکومت سے تعلیمی شعبے میں فوری وسائل فراہم کرنے اور اسکولوں کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔








