کمپیوٹر اور موبائل دیکھتے ہوئے گردن پر 27 کلو وزن کا دباؤ: درد و اکڑن سے بچنے کے لیے 5 مفید ترین ورزشیں

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسانی سر کا وزن بظاہر زیادہ محسوس نہیں ہوتا لیکن جب ہم دیر تک موبائل فون یا کمپیوٹر کی اسکرین دیکھنے کے لیے گردن جھکا کر بیٹھتے ہیں تو یہی وزن گردن کے لیے خاصا بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کمزور گرفت، دھندلی نظر اور خمیدہ گردن: کیا اسمارٹ فون وقت کے ساتھ آپ کا جسم بھی ’کھا‘ رہا ہے؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق لندن کے کوئنز اسپتال کے این ایچ ایس سے وابستہ ریڑھ کی ہڈی کے ماہر نیورو سرجن انتھونی گوش کے مطابق جب انسان سیدھا بیٹھا یا کھڑا ہوتا ہے تو سر کی جانب سے گردن پر پڑنے والا میکانی دباؤ تقریباً 5.4 کلوگرام ہوتا ہے اور عام طور پر یہ کوئی مسئلہ نہیں۔

لیکن دنیا بھر میں اربوں افراد اپنے دن کا بڑا حصہ جسم کو آگے کی جانب جھکا کر گزارتے ہیں۔ لیپ ٹاپ یا موبائل فون استعمال کرتے ہوئے جب ہم مسلسل نیچے کی طرف دیکھتے ہیں تو گردن پر سر کے وزن کی تقسیم نمایاں طور پر بدل جاتی ہے۔

انتھونی گوش کے مطابق اس طرح گردن جھکا کر نیچے دیکھنے کی حالت میں گردن پر پڑنے والا دباؤ تقریباً 27 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں گردن کو خاصا زیادہ دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے: موڈ بہتر بنانے کے لیے صرف 30 سیکنڈ کافی، روزمرہ کی چند آسان عادتیں

مختصراً یہ کہ جدید طرز زندگی ہماری گردن کے لیے اچھا نہیں تاہم چند آسان ورزشیں اور روزمرہ عادات گردن کو صحت مند رکھنے اور مستقبل میں پیدا ہونے والے مسائل سے بچانے میں مدد دے سکتی ہیں خواہ عمر کتنی ہی ہو۔

گردن کا درد ایک عام مسئلہ ہے

گردن کے بعض مسائل عمر بڑھنے کے ساتھ ہمارے پٹھوں، ہڈیوں اور جوڑوں کے نظام میں آنے والی قدرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ گردن کو سہارا دینے والے ٹشوز کی لچک کم اور اکڑاؤ بڑھنے لگتا ہے۔

انتھونی گوش کے مطابق 40 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً ہر شخص کی ریڑھ کی ہڈی کی ایم آر آئی میں کسی نہ کسی طرح کی تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔

ان کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کے مہرے کے درمیان موجود نرم گدیاں، جنہیں ڈسکس کہا جاتا ہے عمر کے ساتھ کچھ گھس جاتی ہیں جبکہ گردن کے پچھلے حصے کے جوڑ بھی قدرے موٹے اور سخت ہوجاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی گردن کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: اپنے لیے بہترین تکیہ کیسے منتخب کریں؟ جانیے آسان طریقہ

جب ہم طویل وقت تک موبائل یا کمپیوٹر کی اسکرین دیکھتے ہیں تو ہمارا جسم ایک خاص جھکی ہوئی حالت اختیار کرلیتا ہے۔ اوپری کمر ضرورت سے زیادہ گول ہوجاتی ہے جبکہ ٹھوڑی اور سر آگے کی جانب نکل آتے ہیں بجائے اس کے کہ سر کندھوں کے عین اوپر متوازن رہے۔

اس انداز میں بیٹھنے سے گردن کے پٹھوں اور ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصے کے جوڑوں پر خاصا دباؤ پڑتا ہے۔

تحقیق کے مطابق 60 سے 80 فیصد افراد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر گردن کے درد کا سامنا ہوتا ہے جبکہ تقریباً نصف افراد میں یہ درد بار بار یا مسلسل واپس آنے والا مسئلہ بن سکتا ہے۔

یہ مسئلہ ابتدا میں گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصے میں اکڑاؤ اور حرکت میں کمی سے شروع ہوسکتا ہے جس کے بعد تکلیف بڑھتی اور مستقل ہوسکتی ہے۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ گردن اور اوپری کمر سے متعلق بعض مسائل اب زندگی میں پہلے ہی سامنے آنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بچوں اور نوجوانوں میں ریڑھ کی ہڈی کے غیر معمولی خم، یعنی اسکولیوسس، کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال گردن کا درد بڑھا سکتا ہے، آسان حل بھی جانیں

اس بیماری میں ریڑھ کی ہڈی غیر معمولی انداز میں مڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے گردن کے پٹھوں کو سر کو سیدھا رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

گردن کے مسائل سے بچنے کے لیے زیادہ حرکت کریں

ماہرین کے مطابق گردن کے مسائل سے بچنے کے لیے مہنگی خصوصی کرسیوں یا دیگر سامان پر انحصار کرنے کے بجائے زیادہ حرکت کرنا اور اسکرین دیکھنے کے دوران وقفے لینا زیادہ اہم ہے۔

انتھونی گوش کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کو حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ حرکت سے اس حصے میں خون کی روانی بہتر رہتی ہے اور پٹھوں میں مضبوطی آتی ہے۔

درج ذیل 5 ورزشیں گردن کے جوڑوں کو حرکت دینے، خراب نشست درست کرنے اور گردن کے پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

گردن دائیں اور بائیں موڑیں

اگر گردن میں درد ہو تو این ایچ ایس کی جانب سے تجویز کردہ ایک سادہ ورزش گردن کی حرکت اور طاقت بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

سیدھے بیٹھ جائیں یا کمر کے بل لیٹ جائیں۔ سر کو جہاں تک ممکن ہو آرام سے دائیں جانب موڑیں اور تقریباً 2 سیکنڈ تک اسی حالت میں رہیں۔ اس دوران گردن کے دوسری جانب ہلکا سا کھنچاؤ محسوس ہونا چاہیے۔

اس کے بعد سر کو واپس سیدھا کریں اور اسی طرح بائیں جانب موڑیں۔

یہ عمل 2 یا 3 مرتبہ دہرائیں۔ یہ عمل دن میں جتنی مرتبہ آرام دہ محسوس ہو اتنی مرتبہ کیا جاسکتا ہے۔

نشست اور گردن کی درست پوزیشن برقرار رکھیں

گردن کو درست پوزیشن میں رکھنا بہت اہم ہے کیونکہ خراب نشست گردن کے پٹھوں پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

مزید پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

ہماری گردن کو ہر سمت حرکت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اس لیے دن بھر باقاعدگی سے اسے حرکت دینا مفید ہے۔

تاہم گردن کی بہترین پوزیشن وہ ہے جس میں وہ ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ سیدھی اور متوازن رہے۔

کندھوں اور کمر کو ڈھیلا رکھیں، گردن کو سیدھا اور لمبا رکھیں۔ کوشش کریں کہ ٹھوڑی آگے کی طرف نہ نکلی ہوئی ہو اور کندھے آگے کی جانب جھکے ہوئے نہ ہوں۔

اسی طرح سر کو طویل وقت تک ایک طرف جھکا یا موڑا ہوا رکھنے سے بھی گریز کریں۔

یہ عادت خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب آپ طویل وقت تک بیٹھے رہتے ہوں، مثلاً کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے، ٹی وی دیکھتے ہوئے یا گاڑی چلاتے ہوئے۔

آگے نکلی ہوئی ٹھوڑی کی عادت ختم کریں

کمپیوٹر اسکرین کو برسوں تک مسلسل دیکھنے سے سر اور ٹھوڑی کے آگے کی جانب نکل آنے کی عادت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس حالت میں سر کندھوں کے اوپر متوازن رہنے کے بجائے آگے کی جانب جھکا رہتا ہے۔

تاہم بیٹھنے کی عادات تبدیل کرکے اور کچھ آسان ورزشوں کے ذریعے اسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے ٹھوڑی کو ہلکے سے اندر کی طرف کرتے ہوئے گردن کو اوپر کی جانب لمبا کرنے کی کوشش کریں۔

ماہرین اس کیفیت کو سمجھانے کے لیے تصور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کی ٹھوڑی کے نیچے ایک نرم آڑو رکھا ہوا ہے۔ آپ کو ٹھوڑی اتنی زور سے اندر نہیں کرنی کہ وہ آڑو دب جائے لیکن اتنی بھی ڈھیلی نہیں چھوڑنی کہ وہ نیچے گر جائے۔

اپنے سینے کی ہڈیوں کے درمیان والے حصے کو کھولیں اور کندھے کے بلیڈز کو نرمی سے نیچے اور پیچھے کی طرف ریڑھ کی ہڈی کے مرکز کی جانب لائیں۔

اسی دوران پیٹ کے نچلے حصے کے پٹھوں کو ہلکے سے اندر کی جانب کھینچیں تاکہ کمر کے نچلے حصے میں موجود قدرتی خم برقرار رہے۔

پرانے زمانے میں ڈھلوان میزیں کیوں استعمال ہوتی تھیں؟

صنعتی دور سے پہلے علما اور لکھنے پڑھنے والے افراد کئی گھنٹے مخطوطات کا مطالعہ کرتے تھے۔ انتھونی گوش نے پرانی پینٹنگز کا جائزہ لیتے ہوئے نوٹ کیا کہ اس دور میں لوگ عموماً تقریباً 45 ڈگری کے زاویے پر بنی میزوں یا اسٹینڈز پر پڑھتے اور لکھتے تھے۔

ان کے مطابق اس انداز سے گردن پر نسبتاً کم دباؤ پڑتا تھا۔

مزید پڑھیے: دانت پیسنے کی عادت: یہ انسان کو کیوں پڑتی ہے، نقصانات کیا ہیں؟

انتھونی گوش کہتے ہیں کہ ڈھلوان میزیں صدیوں تک عام رہیں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاہی میں ڈبو کر استعمال کیے جانے والے قلم کے لیے یہ انداز زیادہ موزوں تھا۔ اگر کاغذ بالکل سیدھا رکھا جاتا تو سیاہی کے پھیلنے اور داغ لگنے کا امکان زیادہ ہوتا تھا۔

گزشتہ تقریباً 100 برسوں میں ٹائپ رائٹر اور پھر کمپیوٹر کے استعمال کے باعث ہموار میزیں زیادہ عام اور عملی ہوگئیں لیکن ان کے ساتھ گردن کے مسائل کی نئی اقسام بھی سامنے آئیں۔

گردن کے اگلے پٹھوں کو مضبوط بنائیں

چونکہ اب ہم دن کا بڑا حصہ اسکرینوں کو دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں اس لیے گردن کو مستحکم رکھنے والے اگلے پٹھوں کی برداشت اور طاقت بڑھانا مفید ہوسکتا ہے۔

یہ پٹھے گردن کو مستحکم رکھنے اور سر کا وزن سنبھالنے میں مدد دیتے ہیں۔

ان پٹھوں کی ورزش کے لیے بستر پر کمر کے بل لیٹ جائیں، گھٹنے موڑیں اور پاؤں بستر پر سیدھے رکھیں۔

ٹھوڑی کو ہلکے سے سینے کی جانب اندر کریں۔

اب ایک ہاتھ سر کے پچھلے حصے پر رکھیں اور سر کو بستر کی سطح سے تقریباً ایک انچ اوپر اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں: جدید ٹیکنالوجی ہماری کلائیاں کمزور کر رہی ہے، بڑے نقصان سے بچنے کے آسان طریقے

اس کے بعد ہاتھ ہٹا لیں اور سر کو اسی پوزیشن میں جتنی دیر ممکن ہو روکیں۔

ابتدا میں چند سیکنڈ تک یہ پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کریں اور بتدریج اس دورانیے کو 30 سیکنڈ تک لے جانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

گردن کے اندرونی پٹھوں کی ورزش کریں

گردن کے پٹھوں کو فعال طور پر مضبوط بنانے کا ایک اور طریقہ ایسی کرسی استعمال کرنا ہے جس میں سر رکھنے کے لیے سہارا موجود ہو۔

کرسی پر سیدھے بیٹھیں اور سامنے کی جانب دیکھیں۔ سر کو پیچھے کی طرف کرسی کے سہارے سے دبائیں پھر ٹھوڑی کو سینے کی جانب لائیں۔

تھوڑی دیر اسی حالت میں رکیں اور پھر ابتدائی پوزیشن پر واپس آجائیں۔ اس عمل کو کئی مرتبہ دہرائیں۔

اس ورزش کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مزاحمتی ربڑ کی پٹی بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ لچک دار پٹی ہے جو ورزش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

پٹی کو سر کی اونچائی کے برابر کسی مضبوط چیز سے باندھیں۔ اسے پکڑ کر ماتھے کے گرد لپیٹیں اور پھر 2 قدم آگے بڑھیں تاکہ پٹی میں اتنا کھنچاؤ پیدا ہوجائے کہ آپ کو مزاحمت محسوس ہو۔

سیدھے کھڑے رہیں اور گردن کو آگے جھکاتے ہوئے سر کو نیچے کی جانب لائیں۔ تھوڑی دیر رکیں، پھر گردن کو ڈھیلا چھوڑ کر ابتدائی پوزیشن میں واپس آجائیں۔ اس عمل کو کئی مرتبہ دہرائیں۔

مزید پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ یہ ورزشیں گردن کے پٹھوں کو مضبوط اور زیادہ لچک دار بنانے میں مدد دے سکتی ہیں جس سے 21ویں صدی کے اسکرین زدہ طرز زندگی میں گردن پر پڑنے والے دباؤ کا مقابلہ کرنا آسان ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp