امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا سائبیریا میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ایک روسی مرکز کی خاتون ٹیکنیشن کی موت کے معاملے پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ممکنہ وبائی خطرے کے پیش نظر صورتحال کی نگرانی کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی لیب ورکر کی پراسرار موت، نمونیا طاعون کے خدشات پر نیا بیان جاری
روسی حکام کے مطابق خاتون کی موت کی وجہ ’غیر متعین نوعیت کا نمونیا‘ قرار دی گئی ہے، تاہم ان کے جسم سے ایسے کسی جرثومے کی موجودگی نہیں ملی جس کا تعلق ان کے لیبارٹری کے کام سے ہو۔
روسی میڈیا نے خاتون کا پہلا نام داریا بتایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی عمر 20 برس سے زائد تھی۔
US health officials are 'aware of' and 'closely monitoring' the suspected plague outbreak in Russia as reports emerge of a second death https://t.co/ahPpyGGg1f 🔗 pic.twitter.com/CzNj5gUIQS
— Daily Mail (@DailyMail) October 6, 2026
روسی حکام کے مطابق خاتون حال ہی میں منگولیا کی سرحد سے متصل علاقے بوریاتیا گئی تھیں، جہاں جنگلی چوہوں اور دیگر جانوروں میں طاعون کا جرثومہ قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ کسی ایسے ٹیسٹ ٹیوب کے ٹوٹنے کے بعد بیمار ہوئیں جس میں طاعون کا جرثومہ موجود تھا، تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر طاعون کا جرثومہ لیبارٹری سے باہر نکل جائے تو یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال خطرے کی گھنٹی بجانے کے بجائے محتاط نگرانی کا تقاضا کرتی ہے۔
US WATCHING CLOSELY AFTER PLAUE RESEARCHER DIES IN RUSSIA
Secretary of State Marco Rubio, who is traveling to Iceland, Greece and Portugal this week, said the U.S. is closely monitoring reports of a lab worker infected with plague in Russia.
Russian authorities have quarantined… pic.twitter.com/bVt113XqwE
— www.Jonny Clock1977.us (@JonnyClock1977) October 6, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر روسی حکومت سے بات نہیں کی، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا مدد کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال کسی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے اور امریکا ضرورت مندوں کی مدد کرتا رہے گا۔
دوسری جانب روس کے ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے بتایا کہ خاتون کی موت کے بعد ادارے کے کسی دوسرے ملازم کے طبی امداد حاصل کرنے کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے 24 ترجیحی پیتھوجینز کی تیاری کی ہدایت کردی
روسی صحت و صارف تحفظ کے ادارے کی ایک ٹیم نے انسدادِ طاعون کے ادارے کا معائنہ کیا اور وہاں کسی ہنگامی صورتحال کی نشاندہی نہیں کی۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مختلف افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے روسی صحت کے حکام کے سرکاری بیانات پر اعتماد کریں۔
طبی ماہرین کے مطابق یرسینیا پیسٹس نامی جرثومہ طاعون کا سبب بنتا ہے۔ اس کی پلمونری قسم متاثرہ شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوسکتی ہے اور بروقت تشخیص و علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: جانیے کہ عالمی ادارہ صحت کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب اینٹی بایوٹکس سے اس کا علاج ممکن ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق احتیاطی اقدام کے طور پر خاتون سے رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، تاہم حکام نے بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کے خدشے کو مسترد کیا ہے۔










