سائبیریا میں طاعون کا خدشہ، امریکا نے صورتحال کی نگرانی شروع کردی

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا سائبیریا میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ایک روسی مرکز کی خاتون ٹیکنیشن کی موت کے معاملے پر بہت قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ممکنہ وبائی خطرے کے پیش نظر صورتحال کی نگرانی کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روسی لیب ورکر کی پراسرار موت، نمونیا طاعون کے خدشات پر نیا بیان جاری

روسی حکام کے مطابق خاتون کی موت کی وجہ ’غیر متعین نوعیت کا نمونیا‘ قرار دی گئی ہے، تاہم ان کے جسم سے ایسے کسی جرثومے کی موجودگی نہیں ملی جس کا تعلق ان کے لیبارٹری کے کام سے ہو۔

روسی میڈیا نے خاتون کا پہلا نام داریا بتایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی عمر 20 برس سے زائد تھی۔

روسی حکام کے مطابق خاتون حال ہی میں منگولیا کی سرحد سے متصل علاقے بوریاتیا گئی تھیں، جہاں جنگلی چوہوں اور دیگر جانوروں میں طاعون کا جرثومہ قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ کسی ایسے ٹیسٹ ٹیوب کے ٹوٹنے کے بعد بیمار ہوئیں جس میں طاعون کا جرثومہ موجود تھا، تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر طاعون کا جرثومہ لیبارٹری سے باہر نکل جائے تو یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال خطرے کی گھنٹی بجانے کے بجائے محتاط نگرانی کا تقاضا کرتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر روسی حکومت سے بات نہیں کی، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا مدد کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال کسی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے اور امریکا ضرورت مندوں کی مدد کرتا رہے گا۔

دوسری جانب روس کے ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے بتایا کہ خاتون کی موت کے بعد ادارے کے کسی دوسرے ملازم کے طبی امداد حاصل کرنے کی اطلاع نہیں ملی۔

مزید پڑھیں: برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے 24 ترجیحی پیتھوجینز کی تیاری کی ہدایت کردی

روسی صحت و صارف تحفظ کے ادارے کی ایک ٹیم نے انسدادِ طاعون کے ادارے کا معائنہ کیا اور وہاں کسی ہنگامی صورتحال کی نشاندہی نہیں کی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مختلف افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے روسی صحت کے حکام کے سرکاری بیانات پر اعتماد کریں۔

طبی ماہرین کے مطابق یرسینیا پیسٹس نامی جرثومہ طاعون کا سبب بنتا ہے۔ اس کی پلمونری قسم متاثرہ شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوسکتی ہے اور بروقت تشخیص و علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید  پڑھیں: جانیے کہ عالمی ادارہ صحت کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب اینٹی بایوٹکس سے اس کا علاج ممکن ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق احتیاطی اقدام کے طور پر خاتون سے رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، تاہم حکام نے بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کے خدشے کو مسترد کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انگلش کپتان ہیری کین فٹ بال کے بہترین کھلاڑی قرار، بیلن ڈی اور اپنے نام کرلیا

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں