روس میں طاعون کی ایک خطرناک قسم نمونیا طاعون پھیلنے کے خدشات کے بعد صحت کے نگران ادارے نے تازہ صورتحال سے آگاہ کردیا، حکام کے مطابق متاثرہ لیبارٹری ورکر سے رابطے میں رہنے والے افراد میں اب تک طاعون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
روسی ادارے روس پوٹریئب نادزور کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران سائبیریا کے شہر ارکوتسک میں قائم طاعون تحقیقاتی ادارے کے عملے میں کسی متعدی بیماری کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے 24 ترجیحی پیتھوجینز کی تیاری کی ہدایت کردی
حکام کے مطابق وسیع پیمانے پر کیے گئے ٹیسٹوں کے بعد 28 سالہ محققہ داریا شپلووا کے جسم میں ایسے جراثیم نہیں ملے جن کا تعلق ان کے کام سے ہو۔
داریا شپلووا ارکوتسک اینٹی پلیگ انسٹیٹیوٹ میں کام کرتی تھیں اور گزشتہ جمعے ‘نامعلوم نوعیت کے نمونیا’ کے باعث انتقال کرگئی تھیں، جس کے بعد روس سمیت دیگر ممالک میں نمونیا طاعون کے خدشات پیدا ہوئے۔
ارکوتسک کے قریب شیلیخوف ضلع کی نائب سربراہ ایلینا سوفینا نے بتایا کہ قرنطینہ میں رکھے گئے مقامی اسپتال میں خطرناک بیماری کی تشخیص سے متعلق ابتدائی خدشات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ میں رکھے گئے تقریباً 60 فیصد افراد کو پہلے ہی اسپتال سے ڈسچارج کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جانیے کہ عالمی ادارہ صحت کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو روس پر زور دیا کہ وہ لیبارٹری ورکر کی پراسرار موت سے متعلق مزید معلومات دنیا کے ساتھ شیئر کرے۔
آئس لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ روس پر لازم ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ مزید معلومات شیئر کرے، امریکا صورتحال کا گھنٹوں کی بنیاد پر انتہائی قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔
نمونیا طاعون کے خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب خاتون محقق پراسرار بیماری کے باعث انتقال کر گئیں، تاہم روسی حکام کا کہنا ہے کہ داریا شپلووا کی موت بوبونک طاعون کے بجائے ‘نامعلوم نوعیت کے نمونیا’ سے ہوئی۔
صورتحال کے پیش نظر وسطی ایشیا کے 3 ممالک کرغزستان، ازبکستان اور قازقستان نے روس کے ساتھ اپنی سرحدوں پر نگرانی سخت کردی ہے، جبکہ گشت، طبی قرنطینہ اور وبائی امراض کی نگرانی کے اقدامات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہارمونیل تھراپی کے بعد جلن کے علاج کی نئی دوا ایجاد
امریکا بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ صورتحال سے آگاہ ہے، اس کی نگرانی کر رہی ہے اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔














