سیاسی جماعت اور اس کا لیڈر لوگوں سے بنیادی اپیل یہ کرتا ہے کہ میرا ساتھ دیجیے! یہ اپیل سننے والا اگر باشعور ہوا تو اس کے ذہن میں تین سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیوں ساتھ دیں؟ دوسرا سوال سیدھا لیڈر سے متعلق ہی پیدا ہوتا ہے کہ یہ آدمی کون ہے، یہ کس سماجی طبقے کا نمائندہ ہے؟ اور تیسرا سوال اس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ میرے مسائل کے حل کے لیے کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ یہ سوالات ہر طرح کے ماحول میں کھڑے ہوتے ہیں، مگر جوابات ماحول کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی نظریہ یعنی کمیونزم اور سوشل ڈیموکریسی وغیرہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، کبھی طبقاتی مفاد پرکشش بن جاتا ہے اور کبھی قوم پرستی کا چورن ہی ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ جس دور میں ہم کھڑے ہیں، یہ نظریاتی سیاست کا دور نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم 90 کی دہائی سے پیچھے والی نظریاتی مباحث نہیں سنتے۔ نظریے کے خروج نے جو خلا پیدا کیا، اسے کسی چیز نے بھرنا بھی تو تھا۔ نظریے کی جگہ جس چیز نے لی اس کا نام ہے ’غصہ‘۔ چنانچہ اب ہم ایسے لیڈر مقبول ہوتے دیکھ رہے ہیں جن کی زبان ہی نہیں باڈی لینگویج بھی عام آدمی کو یہ دانہ ڈالتی نظر آتی ہے کہ میں تمہارے غصے کی آواز بنوں گا۔
بات کو تین مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔ فرانسیسی انقلاب میں لوگوں سے محض یہ نہیں کہا گیا تھا کہ آؤ بادشاہ کا تخت و تاج الٹ دیں۔ بلکہ اس کے پیچھے آزادی، مساوات اور شہری حقوق کا ایک نیا سیاسی تصور بھی موجود تھا۔ یعنی عوام کے سامنے صرف بادشاہت نامی دشمن نہ تھا، ایک متبادل سیاسی تصور بھی تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بڑی سیاست صرف یہ نہیں بتاتی کہ موجودہ نظام کیوں برا ہے، وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کی جگہ کیا آنا چاہیے۔
دوسری مثال رشین انقلاب کی ہے۔ صنعتی انقلاب نے مزدوروں کے لیے مسائل پیدا کیے تو سوشلزم نے محض یہ نہیں کہاکہ سرمایہ دار ظالم ہیں۔ اس نے دولت، ملکیت، مزدور اور ریاست کے تعلق کا ایک پورا متبادل تصور بھی پیش کیا۔ اسی لیے وہ ایک وقتی احتجاج نہیں بلکہ مستقل سیاسی نظریہ بن گیا۔ اور روس میں اس نے اپنا ظہور بھی کرکے دکھایا۔ وہ انقلاب مسائل کا حل ثابت ہوا یا نہیں؟ یہ الگ بحث ہے۔ ہمیں فی الحال بس یہ سمجھنا ہے کہ سیاست میں صرف مظلوم طبقات ڈھونڈ لینا کافی نہیں ہوتا، مظلوم سماج کو کوئی نیا راستہ بھی ڈھونڈ کر دینا ہوتا ہے۔
دو نظریاتی مثالوں کے بعد پیش خدمت ہے وہ مثال جہاں غصہ ہی سیاسی پیکج بن گیا۔ 2008 کے مالیاتی بحران نے امریکا میں ایک غصے کو جنم دیا جو دھیرے دھیرے شدت اختیار کرتا گیا۔ ایسے میں 2012 کے انتخابی نتائج آئے تو یہ غصہ کئی گنا بڑھ گیا۔ اہل غصہ تین باتیں کہہ رہے تھے۔ پہلی یہ کہ ہمیں دونوں جماعتوں کی روایتی سیاست نے مایوس کردیا ہے۔ دوسری یہ کہ عالمگیریت کے لیے برپا کی گئی نہ تھمنے والی جنگیں ہمیں نقصان پہنچا رہی ہیں، اور تیسری یہ کہ ایلیٹ کلاس یعنی اشرافیہ کا امریکا پر مستقل قبضہ ہوچکا ہے۔ یہی وہ غصہ تھا جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ہم بمقابلہ وہ‘ کی تھیم میں بدل کر خود کو غصے کی آواز بنا دیا۔
اب ذرا، ان تینوں مثالوں کا عکس پاکستانی سیاست میں دیکھیے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اس دور کے لیڈر تھے جہاں نظریہ ہی سیاسی سکہ رائج الوقت تھا۔ سو وہ اسلامی سوشلزم نامی چورن تو لے آئے، مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عام آدمی کے ابتدائی تین سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ یہ لیڈر کس سماجی طبقے کا نمائندہ ہے؟ سو بھٹو صاحب نے کچھ دیر کے لیے سر کھجا لیا جس سے انہیں آئیڈیا سوجھ گیا۔ انہوں نے 3 پیس سوٹ اتارا اور بالکل سادہ شلوار قمیض زیب تن کرلی۔ انہوں نے نوٹ کیاکہ ان کے زمانے کا عام آدمی گریبان کھلا رکھنے کا چلن رکھتا ہے، سو بھٹو صاحب نے بھی گریبان کے بالائی بٹنوں کو زحمت دینے کی غلطی نہ کی۔ بھٹو نے یہ بھی دیکھا کہ عام آدمی آستیں چڑھائے رکھتا ہے، یوں بھٹو صاحب بھی جلسوں میں آستین چڑھا کر خطاب فرمانے لگے۔ انہوں نے اخبارات میں ایسی تصاویر کی بھی بھرمار کروا دی جس میں وہ شلوار قمیض پہنے کبھی کسان کے کھیت، تو کبھی لوہار کی جھونپڑی میں ہوتے۔ یوں 3 پیس سوٹ والا بھٹو ان تصاویر کے پیچھے چھپ گیا۔
دوسری مثال پر آئیے۔ یہ لیڈر کس سماجی طبقے کا نمائندہ ہے؟ یہ سوال عام حالات میں نواز شریف کو پہلے ہی دن ریجیکٹ کروانے کو کافی تھا، کیونکہ وہ بزنس کلاس کے نمائندہ تھے، اور بزنس کلاس عام آدمی کی اس حد تک چڑ ہے کہ وہ اس کے ٹریفک ایکسیڈنٹ کو بھی قومی بحران بنا ڈالتا ہے، لیکن ایک چیز نواز شریف کے کام آئی۔ وہ سیاست میں بھٹو صاحب کی طرح نہ آئے تھے۔ وہ تو سیاست سے دور اپنا بزنس کررہے تھے۔ یہ بھٹو مرحوم تھے جنہوں نے غریب کے مسائل کا آسان حل یہ ڈھونڈ لیا کہ سلطانہ ڈاکو کی طرح امیر سے لوٹ کر غریب پر خرچ کردو۔ یہ کام جب ڈاکو کی بجائے سیاستدان کرے تو اسے ڈاکہ نہیں ’نیشنلائزیشن‘ کہتے ہیں۔ یوں سلطانہ بھٹو نے جن امرا کا سب کچھ چھینا ان میں ایک شریف فیملی بھی تھی۔ بن گئے ناں نواز شریف بالکل جینئن مظلوم؟ اسی کا فائدہ اٹھا کر جنرل ضیاالحق انہیں سیاست میں لے آئے۔ یوں سین یہ بن گیا کہ نواز شریف سیاست کے گھر میں نہ گھسے تھے، بلکہ سیاست شریف خاندان کے گھر میں گھسی اور وہاں سے نواز شریف کو سیاست میں گھسیٹ لائی۔
لیکن ہماری تیسری مثال عمران خان کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی۔ وہ اشرافیہ سے بھی آگے جاکر ’عیاشیہ‘ کے نمائندہ تھے۔ وہ صرف کرکٹ کے میدان میں ہی نہیں بلکہ مغرب کے زنان خانوں میں بھی بیحد مقبول تھے، اور سیاست میں آدھمکے۔ نتیجہ وہی نکلا جو اس طرح کی شخصیت کے حق میں نکل سکتا تھا۔ عوام نے گھاس ہی نہ ڈالی۔ انہیں بیک وقت دو بحرانوں کا سامنا تھا۔ پہلا یہ کہ وہ اس طبقے کے نمائندے تھے جو عام آدمی کے لیے صرف فلم، ڈرامے اور کھیل کے میدان میں ہی قابل قبول ہوتا ہے۔ سلمان خان کے ساتھ سیلفیوں کے لیے مرنے والے اسے ووٹ کبھی بھی نہ دیں۔ جوں ہی سلمان ووٹ مانگیں گے عام آدمی طبقاتی بنیاد پر ہی ریجیکٹ کردے گا۔ عمران خان کے ریجیکٹ ہونے کی پہلی وجہ یہی تھی۔ اور ان کا دوسرا بحران یہ تھا کہ ان کے پاس عوامی مسائل کا ادراک تھا اور نہ ہی ان کا حل۔ وہ تو سیاست کا ادنیٰ سا بھی شعور نہ رکھتے تھے۔ سو ایک نہیں دو بنیادوں پر مسترد ہوئے اور بار بار ہوئے۔
لاٹری ان کی تب نکلی جب جین زی کا وہ دور آگیا جس میں مسائل کے حل کی بجائے غصے کی آواز بننے کا کلچر فروغ پا رہا تھا۔ وہ لاہور سے ایک لانگ مارچ لے کر نکلے اور اسلام آباد پہنچے۔ جہاں کنٹینر کی چھت ان کی دشنام کا مورچہ بنا۔ اس معاملے میں عمران خان نے بداخلاقیوں کی ساری حدیں عبور کر ڈالیں۔ توہین، تذلیل اور تمسخر ہی ان کے کل سیاسی ہتھیار بنے، غصے کی آواز جو بننا تھا۔ مگر ہر شام ایک عجیب مسخرا پن اور بھی دیکھنے کو ملتا۔ وہ جس غصے کی آواز بننے کی کوشش فرما رہے تھے، وہ اسی پنڈال میں رقص کرتا پایا جاتا۔ غصہ اور رقص؟ ہے کوئی جوڑ؟ یہیں سے ’سیاسی مجرے‘ کی اصطلاح نکلی۔ نالائقی اس درجے کی کہ اس سارے دھوم دھڑکے اور جرنیلوں اور ججز کی پوری سپورٹ کے باوجود اقتدار تک رسائی میں پانچ سال لگا دیے۔
کرسی سنبھالی تو پہلا فیصلہ وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں فروخت کرنے کا فرمایا، دوسرا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس کی کاریں فروخت کرنے کا، اور تیسرا فیصلہ یہ کہ غریب کو بھینسیں اور مرغیاں فراہم کی جائیں گی تاکہ ملکی معیشت چلنے کی بجائے دوڑنے لگے۔ معیشت اتنی تیزی سے دوڑی کہ ڈالر سے لے کر پیٹرول تک ہر چیز کی قیمت دوڑنے لگی۔ نالائقی عیاں ہونے لگی تو ایک بار پھر ’غصے کی آواز‘ بننے میں پناہ ڈھونڈی۔ فرمایا، پاکستان جاکر نواز شریف کے جیل سیل سے اے سی اترواؤں گا۔ مگر سوال یہ تھا کہ نواز شریف جیل میں تھا ہی کیوں؟ جواب بس اتنا سا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لی تھی۔ یوں کرپشن والا غبارہ اب ہوا سے محروم تھا۔ ایسے میں توشہ خانے کا دروازہ کھلا تو پتا چلا کہ بھینسیں فروخت کرنے والے نے تو اور بھی بہت کچھ فروخت کر رکھا ہے۔
’گھڑیاں، ہار، اور برتن فروختند، وچہ ارزاں فروختند‘
وقت میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ رکتا نہیں۔ سفر درحقیقت اسی کے چلنے کا نام ہے۔ اور سفر میں موڑ بار بار آتے ہیں۔ خان کا 2014 والا لانگ مارچ کرپشن، نیا پاکستان، اور حقیقی آزادی کے موڑ مڑ کر اب سازش والے چوراہے پر تھا۔ ہر طرف میر جعفر اور میر صادق ہی نظر آرہے تھے۔ سوال کھڑا ہوگیا کہ اب کیا کیا جائے؟ غصے کی آواز فقط آواز پر قناعت نہ کرسکی، اور ٹکرا دیا ممولے کو جی ایچ کیو کی دیوار سے۔ یہ بھی ٹرمپ کی ہی نقل تھی۔ اس نے 6 جنوری کیا تھا، انہوں نے 9 مئی کر ڈالا۔ مگر ٹارگٹ غلط چن لیا۔ ٹرمپ نے اچھی طرح تسلی کر لی تھی کہ وہ بم کو لات نہیں مار رہا۔ خان صاحب نے بم کیا پورے بارود نگر کو لات دے ماری۔
دھماکہ اتنا شدید ہوا کہ پوری جماعت تتر بتر ہوچکی۔ جو شکلیں اب قائدین کے نام سے ہمارے سامنے ہیں، یہ 9 مئی سے قبل تین میں تھے نہ ہی 13 میں۔ یہ بے تاثیر لوگ آج کل عمران خان والے لانگ مارچ کی 12 ویں برسی منانے کے موڈ میں ہیں۔ مگر ایک مسئلہ ہے۔ اس کے لیے عام آدمی کی شرکت ضروری ہے۔ اور عام آدمی سوال بہت پوچھتا ہے۔ سو اس کا سوال ہے، میں سڑک پر کیوں آؤں؟ اس سوال کا موزوں جواب اسی کے کسی مسئلے اور اس کے حل کے پیکج کی صورت ہوسکتا ہے۔ مارچ کے مدعیوں کا بحران یہ ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے، لانگ مارچ دراصل پاؤں سے چلنے کا نام نہیں، سیاست میں یہ اس بات کا امتحان ہوتا ہے کہ آپ نے عوام کو ساتھ چلنے کی وجہ کیا دی ہے؟ کسی لیڈر کی رہائی کے لیے عام آدمی نکلتا تو بھٹو کو پھانسی لگتی؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













