پاک افغان سرحدی بندش کو ایک سال مکمل، تجارت بدستور معطل، وجوہات کیا ہیں؟

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی کے معاملے پر کشیدگی اور سفارتی تعلقات میں تناؤ کے بعد اہم سرحدی گزرگاہوں کی بندش کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ مذاکرات اور دوست ممالک کی ثالثی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم نہیں ہو رہی، جس کا سب سے زیادہ نقصان دوطرفہ تجارت کو پہنچ رہا ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق گزشتہ سال 12 اکتوبر سے قبائلی ضلع خیبر میں واقع اہم سرحدی گزرگاہ طورخم سمیت دیگر گزرگاہیں بند ہیں، جس کے باعث تجارت بھی مکمل طور پر معطل ہے۔

پاک افغان تجارت سے وابستہ افراد کے مطابق افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور تجارت کو فروغ ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ یہ تاثر بھی عام تھا کہ پاکستان کو افغان طالبان حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اس سے ماضی کے تلخ تعلقات میں بہتری آئے گی۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو گئے، جس کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی اور سرحد پار حملوں میں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے وسط ایشیا میں تجارت بڑھنے سے پاکستان اور افغانستان کے حالات بھی بدل جائیں گے، ایمبیسیڈر علی سرور نقوی

پاکستان کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ افغان طالبان دہشتگردی کے واقعات کی کھل کر مذمت کریں۔

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور پاکستان مخالف عناصر افغانستان سے کھلے عام پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ عناصر پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد مواقع پر افغانستان کو شواہد بھی فراہم کیے، لیکن افغان حکام نے کارروائی تو دور، ان واقعات کی مذمت تک نہیں کی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بنیادی مسئلہ دہشتگردی ہے اور وہاں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں، ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان دہشتگردی کے واقعات کی کھل کر مذمت کرے اور ہمارے ساتھ کھڑا ہو جائے، لیکن وہ تیار نہیں۔‘

گورنر خیبر پختونخوا، جو گورنر راج کے نفاذ کے بعد مشاورتی کونسل کے سربراہ بن گئے ہیں، نے پاکستان تحریک انصاف کی معطل صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب پالیسیاں اسلام آباد سے آئیں گی، کابل سے نہیں۔

سعودی عرب، چین اور ترکیہ کی ثالثی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے دوست ممالک بھی سرگرم ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق افغانستان کے ساتھ متعدد بار مذاکرات ہوئے، لیکن ہر بار ایجنڈا ایک ہی تھا: دہشتگردی کا مسئلہ۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات اور تناؤ ختم کرنے کے لیے دوست ممالک نے بھی ثالثی کی کوششیں کیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی میں الگ الگ مذاکرات ہوئے، لیکن افغانستان دہشتگردی کے معاملے پر تعاون کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سرحدی بندش سے روزگار کیسے متاثر ہوا؟

پاک افغان چیمبر آف کامرس سے وابستہ تاجروں کے مطابق سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے تجارت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان افغانستان ٹریڈ کمیٹی کے سربراہ شاہد حسین کے مطابق پاک افغان تجارتی راستہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اہم اور جغرافیائی لحاظ سے موزوں گزرگاہ تھا۔

ان کے مطابق سرحدی بندش سے قبل پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر تھا۔

خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کے مطابق پاکستان، چین اور ایران کے راستے وسطی ایشیا تک تجارت کے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں کام جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارت معطل ہونے سے کاروباری افراد کے علاوہ ٹرانسپورٹرز اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں کمی کا رجحان شروع ہوا۔ سال 2023 کے بعد اس میں نمایاں کمی آئی، جبکہ 2025 میں یہ کمی مزید بڑھ گئی۔ تاجروں کے مطابق اس کی ایک وجہ افغان طالبان کی پالیسیاں بھی ہیں۔

افغانستان میں ادویات کی قلت، تازہ پھل خراب ہونے لگے

تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے افغانستان میں ادویات کی دستیابی بھی متاثر ہوئی ہے۔ وہاں کے شہری پاکستان سے فراہم کی جانے والی معیاری اور نسبتاً سستی ادویات تک رسائی سے محروم ہو رہے ہیں۔

تاجروں کے مطابق افغانستان علاج معالجے اور ادویات کی فراہمی کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا تھا، جہاں سے اسے نسبتاً کم قیمت پر معیاری ادویات دستیاب تھیں۔ سرحدی بندش کے بعد ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی تاجروں کے مطابق افغان تازہ پھلوں کے لیے پاکستان سب سے بڑی منڈی تھی اور ان کی برآمدات بھی زیادہ تر اسی راستے سے ہوتی تھیں۔ سرحد بند ہونے سے باغات کے مالکان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ منڈیوں تک رسائی نہ ہونے اور مقامی منڈیوں میں طلب کم ہونے کے باعث تازہ پھل خراب ہو رہے ہیں، جس سے مالی نقصان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ؟

پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ افغانستان دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ حکومت کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت متعدد کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد بار افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے شواہد فراہم کیے، لیکن افغان طالبان تعاون نہیں کر رہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان کے کئی صوبوں میں موجود ہیں، جنہیں مبینہ طور پر افغان حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

پاک افغان امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق افغانستان کو اندرونی سطح پر بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

پشاور کے سینئر صحافی اور افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے مشتاق یوسفزئی نے بتایا کہ کچھ عرصے سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس تنظیم کے ارکان متعدد افغان صوبوں میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے تجارت لوگوں کی جانوں سے بڑھ کر نہیں، سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے تک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند رہے گی، پاکستان

ان کے مطابق سوات آپریشن کے بعد دہشتگرد پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان چلے گئے تھے، جہاں سے وہ موقع ملنے پر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس سوال پر کہ افغان طالبان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی، مشتاق یوسفزئی نے کہا کہ افغان طالبان کو اندرونی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی کالعدم تنظیمیں افغان طالبان کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں ان کے خلاف کارروائی سے اندرونی انتشار پیدا ہو سکتا ہے، جس کا افغان طالبان کو بخوبی اندازہ ہے۔

مشتاق یوسفزئی کے مطابق افغان طالبان ان تنظیموں کی نہ کھل کر حمایت کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی کھل کر مخالفت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp