جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو صوبے کے معدنی وسائل اور معیشت پر قبضے کی کوشش قرار دیا ہے، جس پر حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور بیرسٹر عقیل ملک نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں یہ اقدامات کسی سیاسی جماعت کو اقتدار میں حصہ دینے یا معدنی وسائل پر قبضے کے لیے نہیں، بلکہ دہشتگردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
حکومتی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کے انتخابی نتائج، سیاسی مفاہمت، صوبے کی سیکیورٹی صورت حال اور معدنی وسائل سے متعلق بیانات پر بھی سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کا بنیادی اعتراض ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے صوبے کے وسائل اور معاشی مفادات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے مولانا فضل الرحمان سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے فوج کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں، محمود جان بابر
یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز دہشتگردی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو قرار دیا ہے۔
سیاسی تلخی بڑھانے سے گریز کیا جائے، طلال چوہدری
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والی مختلف جماعتیں بیک وقت دھاندلی اور اپنے خلاف سازشوں کی شکایات کیوں کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان انتخابی شکست کی شکایت کرتے ہیں، جب کہ پاکستان تحریک انصاف اور محمود خان اچکزئی کی جماعت بھی انتخابی نتائج پر اعتراضات کرتی رہی ہیں۔
طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمان اور ان کے صاحبزادے کے انتخابی عمل اور مختلف صوبوں کے نتائج سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت پورے انتخابی نظام کو جعلی قرار دینے سے پہلے اپنے سیاسی معاملات اور انتخابی نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سینئر سیاست دان ہیں اور ان سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول، مولانا سے توقع ہے کہ وہ پاکستان، آئین اور قومی مفادات کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ اختلافات کے باوجود ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے جو سیاسی تلخی میں اضافے کا سبب بنیں۔
1971ء کے واقعات کا حوالہ دینے پر بھی طلال چوہدری نے اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملکی تاریخ کا انتہائی دردناک باب ہے، لیکن موجودہ انتخابی تنازع کو اس واقعے سے جوڑنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق 2024ء کے انتخابات کے نتائج پر اختلافات کی بنیاد پر 1971ء جیسے تاریخی سانحے کا حوالہ دینے سے سیاسی بحث مزید تلخ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے مولانا فضل الرحمان کا سخت مؤقف اصولی اختلاف یا سیاسی حکمت عملی؟ تجزیہ کاروں کی رائے سامنے آگئی
وزیر مملکت برائے داخلہ نے خیبر پختونخوا میں قائم انتظامی بندوبست کے حوالے سے کہا کہ اس کا مقصد کسی سیاسی رہنما کو حصہ دینا، اتحاد بنانا یا اقتدار تقسیم کرنا نہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں انتظامی کونسل اور اس میں شامل افراد کے انتخاب کے پیچھے مخصوص وجوہات ہیں، جب کہ بعض تقرریوں کا تعلق دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی اور ان کی قربانیوں کے اعتراف سے ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو کسی جماعت کے سیاسی مفادات کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس کا مقصد امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا اظہارِ افسوس، سرمایہ کاری کی دعوت
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک سینئر سیاست دان سے ایسے مؤقف کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان اور دہشتگردی کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بھی مختلف مواقع پر اپنے علاقے میں سیکیورٹی مسائل اور نقل و حرکت میں مشکلات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق، اگر صوبے میں سیکیورٹی کی صورت حال خراب ہے تو اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کی مخالفت کرنے کے بجائے امن کی بحالی میں تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے باوجود صوبے کے انتظامی معاملات چلائے جا سکتے ہیں اور حکومت چلانے کے لیے کسی ایک سیاسی رہنما کی شمولیت لازمی نہیں۔
گورنر نے صوبے کے معدنی وسائل کے حوالے سے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور انہیں بروئے کار لا کر روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مقامی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کو دعوت دی کہ وہ صوبے میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مقامی معیشت کو مضبوط بنائیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لکی مروت، ٹانک اور بنوں سمیت مختلف علاقوں میں معدنی وسائل کی تلاش اور ترقی کے منصوبوں پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ان کے بقول، صوبے کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لانا معاشی خوش حالی کے لیے ضروری ہے، تاہم امن و امان کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
معدنیات پر قبضے کا الزام بے بنیاد ہے، بیرسٹر عقیل ملک
مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سینئر اور قابل احترام سیاست دان ہیں، تاہم گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوس ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے گئے ہیں، جب کہ حکومت نے ان کی وجہ صوبے میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورت حال کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، مولانا فضل الرحمان خود بھی اپنے علاقے میں سیکیورٹی مسائل کا ذکر کرتے رہے ہیں، اس لیے صوبے کی صورت حال سے ان کی لاعلمی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ان اقدامات کے فوری بعد معدنی وسائل پر قبضے کا مؤقف اختیار نہیں کیا، بلکہ یہ الزام کچھ دن بعد سامنے آیا۔ ان کے بقول، معدنیات پر قبضے کے دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت، دستاویز یا متعلقہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں معدنی وسائل کی ترقی اور سرمایہ کاری الگ معاملات ہیں، اس لیے ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات کو ان کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے مولانا فضل الرحمان گورنر کے عہدے یا صوبے کے انتظامی بندوبست میں اپنی جماعت کے لیے کوئی کردار چاہتے ہوں، تاہم یہ ان کا سیاسی اندازہ ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
وفاقی حکومت کا مؤقف، پی ٹی آئی کی مخالفت
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات صوبے میں دہشتگردی سے نمٹنے اور امن و امان بحال کرنے کے لیے کیے گئے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق، آئینی اختیارات استعمال کرنے کی ضرورت صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکامی کے باعث پیش آئی۔
حکومت نے اس اقدام کو کسی سیاسی جماعت کے خلاف انتقامی کارروائی یا معدنی وسائل پر قبضے کی کوشش قرار دینے کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے گورنر راج کو سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے آئینی و قانونی فورمز پر چیلنج کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔










