خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے قائم علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے میڈیا ایڈوائزر اور معروف صحافی محمود جان بابر نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ایک سیاستدان ہیں اور انہیں اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی بیانیہ بنانا ہوتا ہے۔ پاکستان میں فوج کا نام لے کر بیانیہ بنانا آسان ہے، کیونکہ اس کے بعد کوئی حکومتی کارکردگی کے بارے میں سوال نہیں کرتا۔ تاہم سیاسی بیانات دیتے وقت انصاف کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے محمود جان بابر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے قیام، معدنی وسائل سے متعلق الزامات، دہشتگردی، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا سخت مؤقف اصولی اختلاف یا سیاسی حکمت عملی؟ تجزیہ کاروں کی رائے سامنے آگئی
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل سے جوڑنے سے متعلق سوال پر محمود جان بابر نے کہا کہ مولانا ایک سیاسی شخصیت ہیں اور انہیں اپنی سیاست کو عوام میں مقبول رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی بیانیہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کسی بھی معاملے پر فوج کا نام لے کر بیانیہ بنا دیا جائے تو پھر متعلقہ حکومت سے کارکردگی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتا۔ اگر صوبائی حکومت کہے کہ فوج اسے کام نہیں کرنے دے رہی تو اس سے بھی کوئی کارکردگی نہیں پوچھے گا، جبکہ مولانا فضل الرحمان کے ایسے بیانات کو بھی بعض لوگ بہترین سیاسی مؤقف قرار دیں گے۔
محمود جان بابر نے کہاکہ سیاسی بیانیہ بنانا سیاستدانوں کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ انہیں اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنا ہوتی ہے۔ تاہم ان کی درخواست ہے کہ جو بھی بات کی جائے، انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر کی جائے تاکہ انسان اپنی نظروں میں بھی سرخرو ہو، دنیا کے سامنے بھی سرخرو رہے اور اللہ کی عدالت میں بھی جواب دے سکے۔
’معدنیات کے 5 ہزار لائسنس جاری ہوئے، فوج کے پاس صرف ایک ہے‘
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنے والے بیانیے پر محمود جان بابر نے کہاکہ صوبے میں معدنی ذخائر موجود ہیں اور اگر ان سے معدنیات نکالی جائیں گی تو یہ عمل سب کے سامنے ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کے خاتمے تک معدنیات کے مجموعی طور پر 5 ہزار لائسنس جاری کیے جا چکے تھے، جن میں سے صرف ایک لائسنس فوج کے پاس ہے، جبکہ باقی 4999 لائسنس نجی افراد کے پاس ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دوسرا لائسنس فوج کے نام پر ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔
محمود جان بابر نے کہاکہ مستقبل میں بھی اگر معدنیات کے نئے لائسنس جاری کیے گئے تو ان کی تفصیلات سامنے آجائیں گی اور مقامی لوگ خود دیکھ سکیں گے کہ لائسنس کس کو دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معدنیات کے حوالے سے الزامات عائد کرنے والے سیاستدان، جن میں مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہیں، ان حقائق کا خود جائزہ لے سکتے ہیں۔
’فوج کا نام لے کر کام نہ کرنے کا جواز پیش کیا جاتا رہا‘
محمود جان بابر نے کہاکہ انہیں حالیہ دنوں میں مختلف معاملات کا علم ہوا ہے اور انہوں نے دیکھا ہے کہ بعض سیاستدان، قوم پرست تحریکوں سے وابستہ افراد اور ماضی میں تعینات بعض سرکاری افسر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا جواز یہ پیش کرتے رہے ہیں کہ انہیں فوج کام نہیں کرنے دیتی۔
انہوں نے کہاکہ جب کسی سیاستدان سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے کام کیوں نہیں کیا تو وہ فوج کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح قوم پرست تحریکوں سے وابستہ افراد بھی یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں، جبکہ بعض سرکاری افسر بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر اسی نوعیت کے اشارے کرتے رہے ہیں۔
محمود جان بابر نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی افسر کو واقعی کام نہیں کرنے دیا جا رہا تھا تو اس نے تحریری طور پر یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ ایسی صورتحال میں ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکتا اور اسے عہدے سے ہٹا دیا جائے؟
انہوں نے کہاکہ کیا کسی ایک افسر نے اس بنیاد پر عہدہ چھوڑا یا کسی منتخب سیاستدان نے یہ کہہ کر استعفیٰ دیا کہ اسے عوام کے لیے کام نہیں کرنے دیا جا رہا؟
ان کا کہنا تھا کہ مراعات بھی حاصل کرنی ہیں، سرکاری تنخواہیں بھی لینی ہیں، اسمبلیوں کی تنخواہیں اور مراعات بھی حاصل کرنی ہیں، بیرونی دورے بھی کرنے ہیں اور گاڑیاں بھی استعمال کرنی ہیں، لیکن جب کام کرنے کی بات آتی ہے تو فوج کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔
محمود جان بابر نے کہاکہ وہ خود بھی فوج کے کوئی بہت بڑے حامی نہیں رہے، تاہم اب مختلف معاملات میں ہونے والی ناانصافیوں کا علم ہونے کے بعد انہوں نے محسوس کیاکہ حقائق سامنے لانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ رزق کے لیے کسی کے ہاتھوں بکنے والے نہیں اور اللہ کے سوا کسی کو رازق نہیں مانتے۔ ان کے مطابق مسلسل ناانصافیاں دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیاکہ جو لوگ قوم کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کریں۔
صرف 4 دن میں 12 اضلاع کی نمائندہ کونسل کیسے قائم ہوئی؟
علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے قیام کی ضرورت سے متعلق سوال پر محمود جان بابر نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ صرف 4 دن کے اندر خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے نمائندہ کونسل تشکیل دے دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور ضلعی حکومتوں کی عدم موجودگی میں یہ مناسب نہیں تھا کہ صرف سرکاری افسر علاقوں کا دورہ کرکے خود فیصلہ کرتے کہ کہاں پانی، سڑک، اسکول یا دیگر سہولتوں کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی کا اختیار مقامی آبادی کو دیا جائے تاکہ لوگ خود بتائیں کہ انہیں کن منصوبوں کی ضرورت ہے۔
’اس مقصد کے لیے قبائل سے کہا گیا کہ وہ اپنے جرگے منعقد کریں اور اپنی نمائندگی کے لیے افراد نامزد کرکے دیں۔‘
محمود جان بابر نے بتایا کہ مختلف قبائل نے اپنے نمائندے نامزد کیے، جس کے نتیجے میں ہر ضلع سے 3 یا 4 افراد سامنے آئے اور مجموعی طور پر 12 اضلاع کی 48 رکنی علاقائی نمائندہ کونسل تشکیل پا گئی۔
انہوں نے کہاکہ کونسل میں باوقار قبائلی عمائدین شامل ہیں، جن کی بنیادی ذمہ داری اپنے علاقوں کی ضروریات کی نشاندہی کرنا ہے۔
’ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے صرف 3 مراحل ہوں گے‘
محمود جان بابر کے مطابق کونسل کے نمائندے اپنے علاقوں کی ترقیاتی ضروریات پشاور میں قائم علاقہ ترقیاتی سیکریٹریٹ کو بھجوائیں گے۔
’سیکریٹریٹ میں ان ضروریات کو تکنیکی بنیادوں پر باقاعدہ ترقیاتی منصوبوں کی شکل دی جائے گی، جس کے بعد منصوبے وزیراعظم کے پاس منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے دستخط کے بعد متعلقہ منصوبوں کے لیے فنڈز جاری ہوجائیں گے اور کام شروع کردیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار میں بیوروکریسی کی روایتی رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے صرف 3 مراحل رکھے گئے ہیں۔ پہلے مقامی نمائندے ضرورت بتائیں گے، پھر سیکریٹریٹ اسے منصوبے کی شکل دے گا اور آخر میں وزیراعظم منظوری دیں گے۔
’دہشتگردی کا خاتمہ اور محرومیوں کا ازالہ بنیادی اہداف‘
محمود جان بابر نے کہاکہ علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے قیام کے 2 بنیادی مقاصد ہیں، جن میں دہشتگردی کا خاتمہ اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے مقامی آبادی کی محرومیوں کو دور کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث نوجوانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق بعض بے روزگار نوجوان صرف 15، 20 یا 30 ہزار روپے کی خاطر دہشتگردوں کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں اور بعد میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
محمود جان بابر نے کہاکہ اگر نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں مناسب روزگار مل جائے تو انہیں دہشتگردوں کی طرف جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرکے دہشتگردوں کو نئی افرادی قوت ملنے کا سلسلہ روکا جا سکتا ہے۔ جب دہشتگردی میں ملوث افراد کی جگہ نئے لوگ شامل نہیں ہوں گے تو دہشتگردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہاکہ اس حکمت عملی کے تحت ان علاقوں میں اتنے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ لوگ معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے دہشتگردوں کی طرف نہ دیکھیں۔
محمود جان بابر کے مطابق دہشتگردی کے خلاف بنیادی ہتھیار بہتر طرزِ حکمرانی، ترقیاتی کام اور عوام کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب ان علاقوں میں ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے تو دہشتگردی میں ملوث افراد بھی اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ایمرجنسی کے نفاذ پر عوام کا ردعمل کیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر عوامی ردعمل سے متعلق سوال پر محمود جان بابر نے کہاکہ اگر عوام اس فیصلے سے بڑے پیمانے پر ناراض ہوتے تو صوبے کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے نظر آتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2 تحصیلوں کے علاوہ صوبے میں کہاں بڑے احتجاجی جلوس نکلے اور کتنے علاقوں سے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی گئی؟
ان کا کہنا تھا کہ لوگ سیاسی بیانات سے تنگ آچکے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں۔
محمود جان بابر نے کہاکہ وہ صحافی کی حیثیت سے اسمبلی میں موجود ہوتے تھے تو عوامی مسائل کے حل اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔
ان کے مطابق عوام بھوک اور محرومیوں کا شکار تھے، لیکن بعض منتخب نمائندے یہ مؤقف اختیار کرتے تھے کہ لوگ ان سے ترقیاتی کاموں کے بجائے دوسری نوعیت کے مطالبات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ اس معاملے کو سیاسی بحث نہیں بنانا چاہتے، تاہم ان کے مشاہدے کے مطابق مختلف افراد اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی جواز کا سہارا لیتے رہے اور فوج کا نام استعمال کرتے رہے۔
’حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کررہا ہوں‘
اپنے نئے کردار کے حوالے سے محمود جان بابر نے کہاکہ وہ اس وقت حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کے لیے پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان کی کوشش ہے کہ حکومت کی بات عوام تک پہنچائی جائے اور عوام کے مسائل اور مؤقف حکومت کے سامنے رکھے جائیں۔
ان کے مطابق اگر حکومت کوئی ایسا منصوبہ تیار کرتی ہے جو عوامی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ حکومت کو اس سے آگاہ کریں گے۔ اسی طرح اگر عوام کسی حکومتی تجویز پر اعتراض کریں گے تو ان کا مؤقف بھی متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا۔
محمود جان بابر نے کہاکہ یہ ہمارا اپنا ملک ہے اور اگر ہر شخص یہ سوچ کر ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جائے کہ کوئی دوسرا کام کرلے گا تو پھر کسی کو شکایت کرنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہوگا۔
’12 اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے؟‘
علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی سے متعلق سوال پر محمود جان بابر نے کہاکہ فنڈنگ کے مختلف ذرائع ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کو ملنے والے فنڈز قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے آتے ہیں اور پہلے سے منظور شدہ بجٹ میں شامل قابلِ عمل ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام جاری رکھا جائےگا۔
ان کے مطابق پہلے سے جاری کسی ترقیاتی منصوبے کو بند نہیں کیا جائے گا۔
محمود جان بابر نے واضح کیاکہ عوام کو پہلے سے فراہم کی جانے والی سہولتیں بھی برقرار رہیں گی، چاہے ان کا تعلق صحت، بجلی، پانی یا کسی دوسرے شعبے سے ہو۔
انہوں نے کہاکہ صوبے کے پاس موجود فنڈز میں سے ان 12 اضلاع کے لیے مختص رقم وزیراعظم کے حکم پر فوری طور پر علاقہ ترقیاتی سیکریٹریٹ منتقل کردی جائے گی۔
ان کے مطابق رقم کی منتقلی کے بعد صوبائی حکام ان فنڈز کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔
’وزیراعظم کا خصوصی فنڈ بھی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا‘
محمود جان بابر نے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈنگ کا دوسرا اہم ذریعہ وزیراعظم کا خصوصی فنڈ ہوگا۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ ان علاقوں کی صورتحال بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے فنڈز کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ روزگار کے مواقع اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مقامی آبادی کو وزیراعظم کے آئندہ اعلانات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
محمود جان بابر نے بتایا کہ وزیراعظم اگلے منگل کو پشاور آئیں گے، جہاں وہ ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کریں گے اور بتائیں گے کہ کن منصوبوں پر کس طریقہ کار کے تحت کام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم خود اس پورے عمل کے نگران ہیں، اس لیے ان منصوبوں کی کامیابی اور علاقوں کی ترقی اب وزیراعظم کی اپنی ساکھ کا معاملہ بھی ہے۔
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مقامی آبادی کو امید ہے کہ ترقیاتی اقدامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہوگا۔
کونسل کب تک کام کرے گی، کیا کوئی مدت مقرر ہے؟
علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے کام کی مدت اور نظام دوبارہ صوبے کے حوالے کرنے کے لیے کسی ٹائم فریم سے متعلق سوال پر محمود جان بابر نے کہا کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی مقررہ مدت نہیں بتائی جاسکتی۔ اس نظام کے لیے 2 بنیادی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
’پہلا ہدف یہ ہے کہ جب تک متعلقہ علاقوں میں ترقیاتی عمل مکمل نہیں ہوجاتا اور عوام کے مسائل حل نہیں ہوجاتے، یہ نظام کام کرتا رہے گا۔ جبکہ دوسرا ہدف دہشتگردی کا خاتمہ ہے اور جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوتی، یہ نظام برقرار رہے گا۔‘
محمود جان بابر کا کہنا تھا کہ ان دونوں اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے اس نظام کے خاتمے کے لیے کسی حتمی ٹائم فریم کا تعین کرنا ممکن نہیں۔










