جاپان میں تعلیمی سال 2030 سے اسکولوں میں ڈیجیٹل درسی کتب متعارف کرانے کے لیے مجوزہ حکومتی رہنما اصولوں میں کاغذی کتابوں کو بنیادی حیثیت دینے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل مواد کو اضافی اور معاون تدریسی مقاصد تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کا مریخ کے چاند سے نمونے زمین پر لانے کا مشن، زندگی کے آغاز کے راز کھلنے کی امید
وزارتِ تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس و ٹیکنالوجی کے تیار کردہ مسودے کے مطابق پرائمری اسکول کی چوتھی جماعت اور اس سے کم جماعتوں کے طلبہ کے لیے مکمل طور پر ڈیجیٹل درسی کتب کی اجازت نہیں ہوگی۔
5ویں جماعت اور اس سے اوپر کے طلبہ کے لیے بھی ان کا استعمال بنیادی طور پر انگریزی، موسیقی اور آرٹ جیسے عملی مضامین تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
Draft education ministerial guidelines concerning an approach to digital textbooks call for textbook formats to be primarily paper based for elementary school students in Japan’s schools.https://t.co/HreRXlrmBP pic.twitter.com/qWyxkEBn9B
— The Japan News (@The_Japan_News) October 18, 2026
مجوزہ رہنما اصولوں پر رواں ہفتے وزارت کے ماہرین کے پینل کے اجلاس میں غور کیے جانے کا امکان ہے۔
جاپان میں جون کے دوران اسکولی تعلیم کے قانون اور متعلقہ قوانین میں ترامیم منظور کی گئی تھیں، جن کے تحت تعلیمی سال 2030 سے درسی کتب کی 3 اقسام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان میں کاغذی اور ڈیجیٹل مواد پر مشتمل مشترکہ کتابیں، مکمل ڈیجیٹل کتابیں اور صرف کاغذی کتابیں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: اخراجات میں کمی کا دباؤ، جاپان کا 44 ارب ڈالر کے سرکاری فنڈز کی جانچ پڑتال کا فیصلہ
مسودے کے مطابق تمام جماعتوں اور مضامین کے لیے اصولی طور پر کاغذی اور ڈیجیٹل مواد پر مشتمل مشترکہ درسی کتب تیار کی جائیں گی، 5ویں جماعت اور اس سے اوپر کے طلبہ کے لیے کاغذی مواد کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی، جبکہ چوتھی جماعت تک کے بچوں کے لیے ڈیجیٹل مواد کا استعمال مزید محدود رکھا جائے گا۔
ویڈیو اور آڈیو جیسے ڈیجیٹل وسائل کو اضافی تدریسی سہولت کے طور پر شامل کیا جائے گا۔
کاغذی کتابوں کو ترجیح دینے کی ایک اہم وجہ بچوں کی ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے عمل سے متعلق ماہرین کے خدشات ہیں۔
مزید پڑھیں: جاپان: امریکی فوجی جاپانی خاتون کے قتل کے شبہے میں گرفتار
ماہرین کے پینل کے ایک رکن کے مطابق کم عمر بچوں کی ادراکی صلاحیتیں ابھی نشوونما پا رہی ہوتی ہیں، اس لیے ڈیجیٹل مواد ان پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے، ایک دوسرے رکن نے کاغذی کتابوں کو مؤثر ذریعۂ تعلیم قرار دیا۔
مجوزہ پالیسی میں طلبہ کی صحت، بالخصوص بینائی پر ڈیجیٹل درسی کتب کے ممکنہ اثرات کی مسلسل نگرانی پر بھی زور دیا گیا ہے، اسکولوں میں عملی مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر درسی کتب کے فارمیٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: ’میری آواز میرا اثاثہ‘، جاپانی وائس ایکٹر کینجیرو تسودا کا ٹک ٹاک کے خلاف تاریخی مقدمہ
مسودے میں ہاتھ سے لکھنے کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کلاس کے دوران تحریری سرگرمیوں کے لیے مناسب وقت مختص کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، درسی کتب میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر مزید غور کیا جائے گا، جبکہ معذور طلبہ کی معاونت کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
وزارتِ تعلیم عوامی آرا حاصل کرنے کے بعد رواں سال کے اختتام تک حتمی رہنما اصول مرتب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئے نظام کا نفاذ پرائمری اسکولوں میں 2030، جونیئر ہائی اسکولوں میں 2031 اور ہائی اسکولوں میں 2032 سے مرحلہ وار کیا جائے گا۔









