جاپان کی حکومت نے وزیراعظم سانائے تاکائچی کے مہنگے پالیسی منصوبوں کے لیے مالی وسائل تلاش کرنے کی غرض سے سرکاری اخراجات کے جائزے کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نئے منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کے سرکاری فنڈز اور سبسڈیز کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور دستیاب مالی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جاپان کا یہ اقدام امریکا کے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی سے متاثر ہوکر شروع کیے گئے منصوبے کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان: امریکی فوجی پر خاتون کے قتل کا الزام، ٹوکیو میں وزارت خارجہ کے سامنے عوام کا احتجاج
اس سے قبل رواں سال خصوصی ٹیکس رعایتوں کا جائزہ لیا گیا تھا، تاہم وزارتوں کی جانب سے تقریباً 120 ٹیکس رعایتوں کی جانچ کے باوجود صرف 3 رعایتیں ختم کرنے کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔
محدود نتائج کے باعث حکومت پر اخراجات میں کمی کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
日本版DOGE「徹底見直し」 基金7兆円など対象に縮小・廃止検討 https://t.co/txDUm30vcs
政府は9日、十分な効果が見込めない補助金や基金、税制優遇措置の見直しに向けた関係閣僚・副大臣会議を開いた。
— 朝日新聞(asahi shimbun) (@asahi) October 9, 2026
جاپانی حکومت اپریل 2027 سے اشیائے خورونوش پر کھپت کے ٹیکس میں مجوزہ کمی کے لیے مالی وسائل تلاش کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ دفاعی اخراجات اور صنعتی پالیسیوں کے لیے بھی زیادہ رقوم درکار ہیں۔
جاپان کی وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومتی اخراجات کا جائزہ لینے کا یہ منصوبہ ایسا بجٹ اور ٹیکس نظام تشکیل دینے کے لیے ضروری ہے جو تاکائچی حکومت کے مضبوط معیشت کے ہدف اور مالی استحکام، دونوں کو یقینی بنا سکے۔
مزید پڑھیں: ’میری آواز میرا اثاثہ‘، جاپانی وائس ایکٹر کینجیرو تسودا کا ٹک ٹاک کے خلاف تاریخی مقدمہ
تازہ جائزے میں حکومت کے 201 خصوصی مقاصد کے فنڈز کو شامل کیا جائے گا، جن میں آئندہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی طور پر تقریباً 7 ٹریلین ین، یعنی 44.35 ارب ڈالر کے مالی ذخائر موجود ہونے کا تخمینہ ہے۔
منصوبے کے تحت سرکاری فنڈز میں غیر استعمال شدہ یا طویل عرصے سے پڑی رقوم قومی خزانے میں واپس لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سبسڈی پروگراموں کی لاگت اور افادیت کا سختی سے جائزہ لیا جائے گا، جس میں بیرونی ماہرین کی مدد اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو اہمیت دی جائے گی۔
片山さつき
日本版DOGE 徹底見直しに向け
租特、補助金に加え、基金も対象に‼️
基金残高が令和9年度末に7兆円にもなることが見込まれる中、事業の性質に応じて滞留している資金を国庫返納し活用するhttps://t.co/VtFqx8Uj1C pic.twitter.com/vDI9GQ1Fe7— カシミール88 (@kashmir88ks) October 9, 2026
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی حکومت کے اخراجات میں اضافے کے منصوبوں کے باعث ملکی مالیاتی صورتحال سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
جاپان کے 10 سالہ سرکاری بانڈز پر منافع کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے، جس کی ایک وجہ یہ خدشہ ہے کہ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جاپان نے ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے بھی ایمبولینس سروس شروع کردی
جائزے کے نتائج سال کے اختتام پر ہونے والے ٹیکس اصلاحات اور بجٹ مذاکرات میں شامل کیے جانے کی توقع ہے، حکومت کو انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے مالی وسائل کی وضاحت کرنے کے ساتھ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
جاپانی حکومت کے ایک عہدیدار کے مطابق، وزیراعظم تاکائچی کو اس جائزے سے خاصی امیدیں ہیں کیونکہ ان فنڈز میں بڑی رقوم موجود ہیں جو حکومتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔














