رومانیہ میں 13 سالہ طالب علم نے چاقو سے حملہ کرکے خاتون استاد اور ایک دوسرے طالب علم کو زخمی کردیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق لڑکے نے حملے سے پہلے ٹک ٹاک پر تشدد سے متعلق پیغامات بھی پوسٹ کیے تھے۔
پولیس کے مطابق واقعہ پیر کی صبح شہر بیستریتسا کے ایک اسکول میں پیش آیا، جہاں ساتویں جماعت کے طالب علم نے خاتون استاد اور اپنے ایک ساتھی پر چاقو سے حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک
عدالتی ذرائع کے مطابق پولیس لڑکے سے متعلق اس شبہے کی تحقیقات کررہی ہے کہ اس نے قتل کی کوشش کی، تاہم کم عمر ہونے کی وجہ سے اس پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ لڑکے نے ٹک ٹاک پر تشدد کی ترغیب دینے والے پیغامات پوسٹ کیے تھے، لیکن اس کے ارادوں کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے اس کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی جانچ ضروری ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک لڑکا چاقو اور کیمرے والے ہیلمٹ کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ ایک پیغام میں اس نے لکھا تھا کہ وہ 8 ماہ سے اس کی تیاری کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن جانے والی ٹرین میں چاقو حملہ، 10 افراد زخمی، 2 گرفتار
رومانیہ کے وزیر تعلیم میہائی دیمیان نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہییں کہ آیا طالب علم نے واقعی ٹک ٹاک پر حملے کے بارے میں پہلے سے بتایا تھا۔
یورپ کے مختلف ممالک میں رواں سال اسکولوں پر حملوں کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض واقعات میں سوشل میڈیا پر قتل اور تشدد کو اچھا بنا کر پیش کرنے والے گروہوں کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔











