سینیٹ نے نامکمل مدت والے سابق ارکان پارلیمنٹ کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور کرلیا

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ نے  قومی اسمبلی یا سینیٹ میں اپنی مکمل مدت پوری نہ کرنے والے سابق ارکان پارلیمنٹ بھی بلیو پاسپورٹ رکھنے کے اہل ہوں گے، تاہم بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہونا باقی ہے۔

بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا، جس کے تحت پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 3 اے شامل کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے مطابق قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے والا سابق رکن، خواہ اس نے مکمل مدت پوری کی ہو یا کسی دوسرے رکن کی باقی مدت کے لیے منتخب ہوا ہو، عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی مقررہ شرائط کے تحت مفت سرکاری بلیو پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کا اہل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بلیو پاسپورٹس کی تعداد پاکستان کی عالمی رینکنگ پر اثر انداز ہوتی ہے، طلال چوہدری

اس ترمیم کا اطلاق ان ارکان پر بھی ہوگا جو قومی اسمبلی میں 5 سال یا سینیٹ میں 6 سال کی مدت مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دیں۔ اس وقت پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت صرف وہ سابق ارکان پارلیمنٹ بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کے اہل ہیں جو کسی بھی ایوان کے کم از کم ایک مکمل دورانیے تک رکن رہے ہوں۔

بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ اس ترمیم سے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو حاصل مراعات کے ساتھ یکسانیت پیدا ہوگی اور ریاست کے اعلیٰ ترین سطح پر خدمات انجام دینے والوں کے ساتھ یکساں سلوک یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب سینیٹ نے سابق ارکان پارلیمنٹ کے 28 سال سے کم عمر زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق بل واپس لے لیا۔ بل میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے ایکٹ 1974 کی دفعہ 12 میں ترمیم تجویز کی گئی تھی، جس کے تحت سابق رکن، اس کی شریک حیات اور 28 سال سے کم عمر زیر کفالت بچے مفت سرکاری بلیو پاسپورٹ کے اہل ہوتے۔

حکومتی ارکان کی مخالفت کے بعد یہ بل واپس لیا گیا۔ جولائی میں سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی نے اس کی منظوری دی تھی، جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سفری دستاویز کا استعمال صرف بیرون ملک سرکاری امور کے لیے یقینی بنانے اور بیشتر صورتوں میں محدود مدت کے لیے جاری کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کے بل پر تنقید، طلال چوہدری کی وضاحت

سینیٹ میں بلیو پاسپورٹ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ یورپی ممالک اور کینیڈا کے تحفظات کے بعد ملک میں جاری سرکاری بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کرکے 45 ہزار کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 30 ہزار غیر ضروری اور غیر فعال بلیو پاسپورٹ منسوخ کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی ساکھ اور وقار پاکستان کے عوام کے وقار کا معاملہ ہے اور پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ بلیو اور سرخ پاسپورٹس سے متعلق معاہدے بھی ہیں۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کو ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے پر اعتراض نہیں، تاہم ان کے اہل خانہ تک یہ سہولت بڑھانے پر تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق بلیو پاسپورٹس کی بڑی تعداد دوسرے ممالک کو پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری سہولت دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار کرسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جلد ایک بل پیش کیا جائے گا جس کے ذریعے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے بچوں کو حاصل بلیو پاسپورٹ کی سہولت ختم کرنے کی تجویز دی جائے گی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی بلیو پاسپورٹس کو قواعد و ضوابط کے تحت محدود رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے کا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے منظور

انہوں نے کہا کہ بچوں کو اپنے کیریئر خود بنانے دیں، عزت بلیو پاسپورٹ سے نہیں بنتی۔

اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹرز کے لیے سرکاری پاسپورٹ حاصل کرنے کی 6 سالہ مدت کی شرط ختم کرنے کی بھی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کے لیے یکساں قواعد ہونے چاہئیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان حلف اٹھانے کے بعد سرکاری پاسپورٹ کے اہل ہوجاتے ہیں، جبکہ سینیٹرز کو اپنی 6 سالہ مدت مکمل کرنا پڑتی ہے۔ اس طرح مدت پوری ہونے سے چند ماہ پہلے استعفیٰ دینے والا سینیٹر بلیو پاسپورٹ کی اہلیت سے محروم ہوسکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی نے ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) کی شرط پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایسی شرط موجود نہیں تھی۔

عابد شیر علی نے سوال اٹھایا کہ ‘کیا ہم ڈاکو ہیں یا دہشت گرد کہ ہمیں این او سی کی ضرورت ہے؟’ انہوں نے اسے استحقاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر تحریک استحقاق پیش کرنے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ سابق ارکان صوبائی اسمبلی کے 28 سال سے کم عمر زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کا بل بھی 10 جولائی کو سینیٹ کی ایک کمیٹی نے منظور کیا تھا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر بحث

سینیٹ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان بحث بھی ہوئی۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اس اقدام کو عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے ووٹ چھینے گئے ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے ملک کے نظام حکمرانی کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت پر بات کی تھی۔

محسن نقوی نے جولائی میں پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ نظام حکمرانی ناکام ہوچکا ہے اور ملک کے مسائل حل کرنے کی بنیادی صلاحیت نہیں رکھتا۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا وہ سراسر ظلم ہے اور اس سے بچا جاسکتا تھا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ نے بنگالیوں سے مینڈیٹ چھینا تو وہ الگ ہوگئے، آپ نے اب تک سبق نہیں سیکھا۔’

قائد حزب اختلاف نے یمن کی صورت حال پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پارلیمنٹ نے 2015 میں قرارداد منظور کی تھی کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو خط لکھ کر تنازع میں فریق بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کرچکے ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک حساس معاملہ ہے، کئی ممالک معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور پاکستان ایک اور جنگ کا حصہ بننے جارہا ہے۔

جواب میں وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کے تحت صدارتی حکم کے ذریعے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے گئے، جن کی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے توثیق کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اقدامات امن، استحکام اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp