گورنر راج کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور کتنا اہم ہے، کن اعلانات کی توقع ہے؟

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف گورنر راج کے نفاذ کے بعد پہلی بار پشاور کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیں گے۔ دورے کے دوران صوبے کے لیے جامع ترقیاتی پیکج اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے خصوصی مالی معاونت کی اسکیم کا اعلان متوقع ہے۔

وزیراعظم رواں ہفتے پشاور پہنچیں گے اور گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں صوبے کی موجودہ سیاسی و انتظامی صورت حال، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر وفاقی حکام کی بھی شرکت متوقع ہے۔

گورنر راج کے بعد مستحکم خیبر پختونخوا ایکشن پلان تیار

سرکاری ذرائع کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے لیے مستحکم خیبر پختونخوا ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں 100 اور 180 روزہ اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا مشاورتی کونسل کے ساتھ مل کر جلد اس منصوبے کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

منصوبے کے تحت صوبے کے 37 اضلاع میں 27 محکموں کے ذریعے مجموعی طور پر 206 اقدامات کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کو 3 بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں عوامی اعتماد کی بحالی، بہتر طرز حکمرانی اور سماجی و معاشی بہتری شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا میں مجبوراً ایمرجنسی نافذ کی، پی ٹی آئی نے خون خرابے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، وزیراعظم شہباز شریف

سرکاری ذرائع کے مطابق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے 54، بہتر طرز حکمرانی کے لیے 97 اور سماجی و معاشی بہتری کے لیے 55 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

منصوبے میں شہری سہولتوں کی بہتری کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے تحت صوبے بھر میں 150 اہم شاہراہوں کی تعمیر و مرمت، 8 ہزار مین ہولز پر ڈھکن لگانے اور 4 ہزار مقامات پر صفائی کی صورت حال بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔

اسی طرح نکاسی آب کے 150 نالوں کی صفائی اور بحالی، جبکہ 80 تفریحی پارکوں کی مکمل بحالی بھی مستحکم خیبر پختونخوا پلان کا حصہ ہے۔

ترقیاتی پیکج میں کیا شامل ہوگا؟

وزیراعظم کے دورے کے دوران خیبر پختونخوا کے لیے جامع ترقیاتی پیکج زیر غور آنے کا امکان ہے۔ تاہم پیکج کے مجموعی حجم، فنڈز کی تقسیم، منصوبوں کی حتمی فہرست اور ان پر عمل درآمد کی مدت سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

پشاور میں سڑکوں، فلائی اوورز، نکاسی آب اور دیگر شہری سہولتوں سے متعلق منصوبے ترقیاتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جبکہ مستحکم خیبر پختونخوا پلان میں شاہراہوں کی تعمیر و مرمت، صفائی، نکاسی آب اور پارکوں کی بحالی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

تاہم وزیراعظم کے دورے کے دوران کسی مخصوص منصوبے کے افتتاح، سنگ بنیاد رکھنے یا نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کے اعلان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

شہدا کے اہل خانہ کے لیے خصوصی اسکیم متوقع

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے خصوصی مالی معاونت کی اسکیم کا اعلان بھی متوقع ہے۔ تاہم امدادی رقم، مستحق خاندانوں کی تعداد اور اسکیم کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کے دائرۂ کار کا تعین کیا جا سکے گا۔

خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی اور بدامنی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں نے بھی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ایسے میں شہدا کے اہل خانہ کے لیے مجوزہ مالی معاونت اور امن و امان کی بہتری کے اقدامات وزیراعظم کے دورے کے اہم موضوعات میں شامل ہو سکتے ہیں۔

گورنر راج کے بعد اہم دورہ

وزیراعظم کا متوقع دورہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہونے والی سیاسی و انتظامی پیشرفت کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ مستحکم خیبر پختونخوا پلان میں مختصر اور درمیانی مدت کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن کے تحت بہتر طرز حکمرانی، عوامی اعتماد کی بحالی اور شہری سہولتوں کی بہتری پر توجہ دی گئی ہے۔

تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ 206 مجوزہ اقدامات کے لیے مالی وسائل کہاں سے فراہم کیے جاتے ہیں، متعلقہ محکموں کو اہداف کی تکمیل کے لیے کیا مدت دی جاتی ہے اور عمل درآمد کی نگرانی کا کیا طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے وزیراعظم  شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

یہ بھی اہم ہوگا کہ 100 اور 180 روزہ منصوبہ بندی کے تحت مقرر کردہ اہداف کس حد تک حاصل ہوتے ہیں اور صوبے کے عوام کو ان اقدامات کے عملی نتائج کب تک ملنا شروع ہوتے ہیں۔

وزیراعظم کے دورے کی حتمی تاریخ، ترقیاتی پیکج کی تفصیلات، شہدا کے اہل خانہ کے لیے مجوزہ مالی معاونت کی اسکیم اور مخصوص منصوبوں کے افتتاح سے متعلق باضابطہ اعلانات کا انتظار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیرس: پولیس کنٹرول کھو بیٹھی، کئی علاقوں میں کرفیو اور مظاہروں پر پابندی عائد

پیٹرولیم مصنوعات پر بڑا ریلیف، حکومت کا 20 اکتوبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان

رومانیہ: 13 سالہ طالب علم کا استاد اور ساتھی پر چاقو سے حملہ

سینیٹ نے نامکمل مدت والے سابق ارکان پارلیمنٹ کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور کرلیا

کے پی سے 6 ماہ میں دہشتگردی ختم کردیں گے، معدنیات سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا مؤقف بے بنیاد ہے، رانا ثنااللہ

ویڈیو

کیا مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کا وقت آگیا؟

مشرق وسطیٰ میں مذاکراتی حل ناگزیر، ناکامی پر مکہ الائنس کا اجتماعی دفاعی نظام متحرک ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

لودھراں: کروڑوں کی لاگت سے تعمیر سرکاری اسکولوں کی عمارتیں کھنڈر میں تبدیل، کلاس رومز میں جانوروں کے ڈیرے

کالم / تجزیہ

حوثی باغیوں کا فتنہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرہ

مولانا، معدنیات اور ایمر جنسی

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے