خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے بعد تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ آپریشن کے تحت حیات آباد ٹول پلازہ سے پیر زکوڑی پل تک کے علاقے کو 3 دن کے اندر تجاوزات سے پاک کردیا جائےگا۔
تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پیر زکوڑی پل، رنگ روڈ اور پشتخرہ چوک سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ حکام کے مطابق سرکاری اراضی واگزار کرانے اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے آپریشن کا دائرہ مزید علاقوں تک وسیع کیا جائے گا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن اتوار کو شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت اس وقت 3 ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ پشتخرہ چوک میں بھی تجاوزات کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے، جبکہ گزشتہ روز قمر دین گھڑی چوک اور حیات آباد ٹول پلازہ کے علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں۔
حکام کے مطابق آئندہ مرحلے میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا دائرہ مزید علاقوں تک بڑھایا جائے گا، جبکہ سرکلر روڈ پر طویل عرصے سے قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی جلد کارروائی شروع کی جائے گی۔ کمشنر پشاور کی ہدایات پر سرکاری اراضی کا ایک ایک انچ واگزار کرانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ قمر دین گھڑی میں بعض اراضی حکومت نے خریدی تھی اور اس کے عوض متعلقہ افراد کو ادائیگیاں بھی کی جاچکی تھیں، تاہم اس کے باوجود وہاں تجاوزات قائم تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، لیکن تجاوزات ان منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ سرکاری اراضی واگزار کرانے کے بعد اس کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ اس پر دوبارہ قبضہ نہ کیا جاسکے۔
نوٹس کے بغیر آپریشن کی شکایات مسترد
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حکام نے آپریشن سے قبل نوٹس نہ دینے کی شکایات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی سے پہلے سرکاری زمین کی نشاندہی کی گئی، متعلقہ افراد کو آگاہ کیا گیا اور نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق پیر زکوڑی پل کے قریب قائم تجاوزات ہٹانے کے لیے 2 ہفتے قبل متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم انہوں نے مقررہ وقت میں اپنا سامان اور تجاوزات خود نہیں ہٹائیں، جس کے باعث انتظامیہ کو آپریشن کرنا پڑا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ افراد بروقت تجاوزات ختم کردیتے تو کارروائی میں آسانی ہوتی۔
رنگ روڈ پر تجاوزات ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ
حکام کے مطابق رنگ روڈ پر تجاوزات کا مسئلہ طویل عرصے سے برقرار ہے، جہاں مختلف مقامات پر غیرقانونی قبضوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے۔ رنگ روڈ کی تعمیر کا بنیادی مقصد شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنا اور آمدورفت کو بہتر بنانا تھا، تاہم تجاوزات کے باعث کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں اور گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہورہی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ جن مقامات پر انڈر پاسز اور فلائی اوورز تعمیر کیے جارہے ہیں، وہاں بھی سرکاری اراضی کو تجاوزات سے پاک کرنا ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں مکمل کیا جاسکے اور ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جاسکے۔
حکام نے مزید کہاکہ سرکاری اراضی کی مالیت اربوں روپے ہے اور اگر کوئی نجی شخص اس پر غیرقانونی قبضہ کرکے اسے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو حکومت اس اراضی کو واگزار کرانے کے لیے کارروائی کرے گی۔ انتظامیہ کے مطابق تجاوزات کے خاتمے اور سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے آپریشن بلاامتیاز جاری رکھا جائے گا۔








