ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ توجہ برقرار رکھنے اور ضرورت سے زیادہ متحرک رہنے سے متعلق عارضے اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں تقریباً 71 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے۔ تاہم اس عارضے کے لیے تجویز کردہ ادویات لینے والوں میں موت کا مجموعی خطرہ 25 فیصد کم دیکھا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق طبی جریدے ’جاما نیٹ ورک اوپن‘ میں شائع ہونے والے جائزے میں 3 براعظموں کے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ افراد پر ہونے والی 19 تحقیقی مطالعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔
ADHD linked to 70% higher death rate, but medication may help protect against early death https://t.co/n208OIpMr6 pic.twitter.com/bKi4zqZId5
— New York Post (@nypost) October 21, 2026
تحقیق کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا افراد میں خودکشی سے موت کا خطرہ 89 فیصد، حادثات اور دیگر چوٹوں سے موت کا خطرہ 55 فیصد، جبکہ قدرتی وجوہات سے موت کا خطرہ 27 فیصد زیادہ پایا گیا۔ قدرتی وجوہات میں دل کی بیماریاں اور ذیابیطس جیسی بیماریاں شامل ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس عارضے کے باعث بعض افراد کو روزمرہ معاملات منظم کرنے ڈاکٹر سے رجوع کرنے اور علاج کی ہدایات پر عمل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، جس سے صحت کے مسائل بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر جوشوا اسٹوٹ کے مطابق درست تشخیص، مناسب علاج اور مسلسل مدد سے اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا افراد بھی صحت مند اور طویل زندگی گزار سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بریسٹ کینسر قابل علاج مرض، بروقت تشخیص سے نتائج بہتر ہوسکتے ہیں، مریم نواز
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ نتائج مختلف مطالعات کے مشاہدات پر مبنی ہیں، اس لیے ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اے ڈی ایچ ڈی لازماً موت کا سبب بنتا ہے یا دوا یقینی طور پر خطرہ کم کرتی ہے۔ ادویات کے ممکنہ فوائد سے متعلق نتائج صرف 3 مطالعات پر مبنی تھے، اس لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔










