اسلام آباد میں زیرحراست ملزم کو چھڑانے کے لیے پولیس پر حملہ، لائبہ اعجاز کیس کا مرکزی ملزم ہلاک

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے مقدمے کا مرکزی ملزم محمد نعمان پولیس حراست کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگیا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزم کو اس کے اپنے ساتھیوں نے پولیس کی تحویل سے چھڑوانے کی کوشش کے دوران فائرنگ کرکے زخمی کیا، جس کے بعد وہ دم توڑ گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ واقعہ تھانہ رمنا کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم زیرحراست ملزم محمد نعمان کو اس کی نشاندہی پر برآمدگی کے لیے لے جارہی تھی۔

پولیس کے مطابق راستے میں گھات لگائے 2 موٹرسائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے اپنے ساتھی کو پولیس کی تحویل سے چھڑوانے کے لیے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں زیرحراست ملزم محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوگیا، تاہم پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات کے باعث محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق زخمی ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ محمد نعمان تھانہ رمنا کی حدود میں طالبہ لائبہ اعجاز کی موت سے متعلق درج مقدمے کا ملزم تھا۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے محمد نعمان کو ملزم نامزد کیا تھا۔

محمد نعمان اسی مقدمے میں پولیس کی تحویل میں تھا اور واقعے کے وقت اسے برآمدگی کے لیے لے جایا جارہا تھا۔

ملزم نے طالبہ کو تعلیم کے لیے امریکا بھیجنے کے لیے لاکھوں روپے ہتھیا لیے تھے، تاہم جب طالبہ کو معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ فراڈ کیا گیا ہے تو اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق زیرحراست ملزم کو چھڑوانے کے لیے فائرنگ کرنے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp