بھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے دوران دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 2 خواتین سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر حملہ آوروں کو اسلحہ فراہم کرنے اور اسے ممبئی منتقل کرنے میں ملوث تھے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کا تعلق لارنس بشنوئی گینگ سے ہے اور اداکار کو سوشل میڈیا کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔
بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر ہونے والے حملے کے پیچھے موجود سازش کے تانے بانے ملنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ کار منگل کے روز قومی دارالحکومت تک پہنچ گیا، جہاں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے 2 خواتین سمیت 4 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے تینوں شوٹرز کو استعمال ہونے والا اسلحہ فراہم کرنے اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت اداکاروں کے لیے بھی غیر محفوظ؟ ٹائیگر شروف پر سرعام فائرنگ، حملے کی ذمہ داری کس نے قبول کی؟
پولیس نے کنال، سمت، رادھا اور ببیتا کو گرفتار کر کے ممبئی پولیس کے حوالے کر دیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق کنال اور سمت نے مبینہ طور پر اسلحہ کا بندوبست کیا تھا، جبکہ رادھا اور ببیتا نے ممبئی کے علاقے دادر جا کر وہ بندوقیں تینوں حملہ آوروں کے حوالے کی تھیں۔
واقعے کا پس منظر
نامور اداکار جیکی شروف کے بیٹے ٹائیگر شروف اتوار کی شام ممبئی کے علاقے جُہو میں فٹبال کھیلنے گئے تھے۔ جب ان کی بی ایم ڈبلیو کار اس کمپاؤنڈ کے گیٹ پر موجود مداحوں کے ہجوم کے درمیان سے گزر رہی تھی، تو 2 افراد نے گاڑی پر سامنے سے فائرنگ کر دی انہوں نے 6 سے 7 راؤنڈ فائر کیے، اور ان میں سے ایک حملہ آور اداکار سے محض چند انچ کے فاصلے پر کھڑا ہو کر سیدھا ان پر پستول تانے ہوئے تھا۔
خوش قسمتی سے جب اس نے ٹریگر دبایا تو اس کی بندوق جام ہو گئی، جس کی وجہ سے ٹائیگر شروف محفوظ رہے۔ تاہم، اس حملے میں اداکار کا ڈرائیور اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: شوٹرز نے اداکار سلمان خان کے گھر فائرنگ کرنے کا کتنامعاوضہ لیا؟
اس ہفتے کے آغاز میں، فائرنگ کرنے والے تینوں شوٹرز بہار سے 22 سالہ ہریتھک عرف روشن، ہریانہ سے 18 سالہ ریحان اور 18 سالہ پھول سنگھ کو راجستھان کے شہر کوٹا سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نیپال فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق ان تینوں افراد کا تعلق لارنس بشنوئی گینگ سے ہے۔ گینگ نے اداکار سلمان خان جنہیں کالا ہرن شکار کے مقدمے کی وجہ سے گینگ کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، کے ساتھ ٹائیگر شروف کی قریبی دوستی کی وجہ سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
سازش کا نیٹ ورک
رادھا اور ببیتا کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا، جبکہ کنال اور سمت کو ہریانہ کے شہر سونی پت سے دبوچا گیا۔
21 سالہ کنال اور 19 سالہ سمت کا تعلق سونی پت سے ہے۔ ببیتا اتر پردیش کے شہر سیتا پور جبکہ رادھا اسی صوبے کے ضلع اعظم گڑھ کی رہنے والی ہے۔
کنال حال ہی میں ضمانت پر جیل سے رہا ہوا تھا۔ ہرسانہ گاؤں کے ایک دوست کے ذریعے اس کی ملاقات گینگ کے کارندے انل پنڈت سے ہوئی، جس نے مبینہ طور پر شروف پر حملے کا حکم دیا تھا۔
کنال نے مبینہ طور پر امرتسر سے ایک پستول اور 20 کارتوس حاصل کیے اور 2 ماہ قبل اس کی ملاقات رادھا سے ہوئی۔ اس نے رادھا کو وہ اسلحہ ممبئی پہنچانے پر آمادہ کیا۔
15 اکتوبر کو کنال رادھا اور ببیتا کو ممبئی کے سفر کے لیے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن چھوڑ کر آیا۔ وہ ایک انکرپٹڈ ایپ کے ذریعے رابطے میں رہے اور کنال انہیں انل پنڈت کی ہدایات پہنچاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کے گھر پر فائرنگ، منصوبہ بندی کہاں ہوئی، تفصیلات سامنے آ گئیں
2 دن بعد وہ ممبئی کے دادر اسٹیشن پر اتریں اور ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ ایک نابالغ لڑکے نے رادھا سے اسلحہ والا بیگ حاصل کیا، اور اس کے اگلے ہی دن تینوں ملزمان نے ٹائیگر شروف پر حملہ کر دیا۔
پولیس کے مطابق اسی دن رادھا اور ببیتا نے دادر سے ہریدوار ایکسپریس پکڑی اور ممبئی سے دہلی کے لیے روانہ ہو گئیں۔
ایک اور اہم انکشاف: اصل ہدف کوئی اور تھا
بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی کو ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی طور پر شوٹرز کا نشانہ اداکار ٹائیگر شروف نہیں تھے۔ ہریتھک، ریحان اور پھول سنگھ نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا کہ وہ کسی اور ہائی پروفائل شخصیت کو قتل کرنے کے ارادے سے ممبئی آئے تھے۔
ایک ذریعے نے بتایا ’اس شخصیت کے اکثر آنے جانے والے علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد شوٹرز کو احساس ہوا کہ وہ اس شخص تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ اسی دوران جب انہوں نے فینز کی جانب سے پوسٹ کی گئی سوشل میڈیا ریلز سے یہ جانا کہ ٹائیگر شروف کے پاس کوئی پولیس سیکیورٹی نہیں ہے، تو انہوں نے اپنا ہدف تبدیل کر کے ٹائیگر شروف کو بنا لیا۔‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ شوٹرز نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کا مقصد ٹائیگر شروف کو قتل کر کے بالی ووڈ میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ حملے کے عوض شوٹرز کو 50,000 روپے ایڈوانس دیے گئے تھے جبکہ مزید رقم اور روزگار دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔










