پی ٹی آئی نے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک علی امین گنڈاپور کو سونپ دیا

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔ پارٹی کی پارلیمانی قیادت نے انہیں سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور گورنر راج کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے تمام ممکنہ راستے اختیار کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا اہم آن لائن اجلاس 20 اکتوبر کی رات 10 بجے شروع ہوا اور 21 اکتوبر کی رات 12 بج کر 48 منٹ تک جاری رہا۔ اجلاس میں شریک صوبائی اسمبلی کے 2  ارکان نے تصدیق کی کہ تقریباً 67 ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے علاوہ سابق صوبائی کابینہ کے ارکان اکبر ایوب، نذیر عباسی، ظاہر شاہ طورو، خلیق الرحمان، ریاض خان، عارف احمد زئی، آفتاب عالم، سجاد بارکوال اور عدیل اقبال سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے تحریک انصاف میں اہم فیصلے کون کر رہا ہے؟ قیادت کی اندرونی تقسیم سے کارکن تذبذب کا شکار

اجلاس کے آغاز پر متعدد ارکان نے پارٹی قیادت سے شکوہ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد انہیں کسی واضح حکمت عملی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ تاہم، شرکا نے اتفاق کیا کہ ماضی کے معاملات کو پیچھے چھوڑ کر آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے تصدیق کی کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کے رابطے اب بھی برقرار ہیں۔ اس کے بعد شرکا نے اتفاق کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کو طول پکڑنے سے روکنے اور سہیل آفریدی کی حکومت بحال کرانے کے لیے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے فوری مذاکرات ضروری ہیں۔

پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت، بالخصوص وزیر داخلہ محسن نقوی، سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی۔ ارکان نے ان پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ سیاسی اور مذاکراتی ذرائع استعمال کیے جائیں، کیونکہ موجودہ صورت حال میں پارٹی کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت سے مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم، اجلاس میں مذاکرات کے باضابطہ آغاز، ممکنہ شرائط یا وفاقی حکومت کی جانب سے کسی پیشرفت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان تحریک انصاف کی بنائی گئی مانیٹرنگ کمیٹی پر پارٹی کے اندر شدید تحفظات کیوں ہیں؟

اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور صوبے کی موجودہ سیاسی صورت حال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پارلیمانی پارٹی کے اس فیصلے کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی رابطے بحال کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

منشیات کے خلاف کارروائی میں امریکی اہلکاروں کی شرکت، میکسیکو میں سابق پراسیکیوٹر پر غداری کا الزام

معروف موسیقار وقار علی کو اسٹیج فور پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص، مداحوں سے دعاؤں کی اپیل

مصنوعی ذہانت کی کمپنی کو انسانی مصنف کی تلاش، سالانہ تنخواہ 3 کروڑ 25 لاکھ روپے تک

نور زمان کا بڑا اپ سیٹ، عالمی نمبر 4 کریم عبدالغواد کو ہرا کر کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

ٹرمپ کے انتخابی جلسہ میں شرکا کی مخالفانہ نعرے بازی اور ہاتھا پائی، صدر کو خطاب روکنا پڑا

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟