جنوبی امریکی ملک ایکواڈور سے تعلق رکھنے والے جڑے ہوئے جڑواں بھائیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہوزے لوئس اور ہوزے آرمانڈو سیوالوس ہیریرا 27 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ دونوں بھائی 15 اکتوبر کو کولمبیا کے ایک اسپتال میں طبی پیچیدگیوں کے باعث دم توڑ گئے، جہاں وہ چلنے پھرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی امید میں علاج اور بحالی کی مشقیں کروا رہے تھے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں سوشل میڈیا انفلوئنسر کااغوا، تشدد کے بعد زندہ جلا دی گئی
ایکواڈور کے ذرائع ابلاغ ’ایل یونیورسو‘ اور ’پریمیسیاس‘ سمیت امریکی میگزین ’پیپل‘ کی رپورٹس کے مطابق، دونوں بھائی رواں برس اپریل میں علاج کی غرض سے کولمبیا منتقل ہوئے تھے۔ وہیں قیام کے دوران وہ سوشل میڈیا کے لیے مواد بھی تیار کرتے رہے اور اپنی روزمرہ زندگی، علاج کے تجربات اور مشکلات کے باوجود پُرامید رہنے کا پیغام اپنے مداحوں تک پہنچاتے رہے۔
دونوں بھائیوں کے قریبی دوست فرنینڈو کاریلو نے ہسپانوی ٹی وی پروگرام ’وائی آہورا سونسولیس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہوزے لوئس کو اچانک دل کی دھڑکن بند ہونے کی کیفیت پیش آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی عملے نے ان کی حالت سنبھالنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، لیکن چند منٹ بعد ہوزے آرمانڈو کو بھی دل کا دورہ پڑا اور دونوں بھائی جانبر نہ ہو سکے۔
ان کے بھائی دامیان سیوالوس نے بھی خاندان کے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ والدین اپنے دونوں بیٹوں کی اچانک موت سے شدید صدمے میں ہیں۔ دامیان کے مطابق، انتقال سے ایک یا 2 روز قبل ان کی اپنے بھائیوں سے آخری گفتگو ہوئی تھی، جب انہوں نے ان سے ادویات خریدنے میں مدد مانگی تھی۔
ہوزے لوئس اور ہوزے آرمانڈو انسٹاگرام پر ’سیامیسیس دے ایکواڈور‘ کے نام سے معروف تھے۔ ان کے اکاؤنٹ پر 60 ہزار سے زیادہ افراد انہیں فالو کرتے تھے، جبکہ ایکواڈور کے مقامی اخبار ’پریمیسیاس‘ کے مطابق فیس بک پر ان کے قریباً 3 لاکھ 80 ہزار اور ٹک ٹاک پر 8 لاکھ 14 ہزار سے زیادہ فالوورز تھے۔

دونوں بھائی اپنی روزمرہ سرگرمیوں، گھومنے پھرنے، سفر، ورزش اور لوگوں سے ملاقاتوں کی ویڈیوز شیئر کرتے تھے۔ وہ اپنے مداحوں کے سوالات کے جواب بھی دیتے اور اپنی زندگی کے تجربات بیان کرتے تھے۔ ان کی ویڈیوز میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، خوش مزاجی اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا جذبہ نمایاں تھا۔
ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ دونوں بھائیوں کی کہانی، مسکراہٹوں اور زندگی کو دیکھنے کے انداز نے بہت سے لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ بیان میں ان کے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا گیا، جنہوں نے ان کے خوابوں کی تکمیل میں ان کا ساتھ دیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
دونوں بھائی ایکواڈور کے شہر میلاگرو سے تعلق رکھتے تھے اور پیدائش ہی سے جسمانی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کی زندگی میں نقل و حرکت اور روزمرہ کاموں کے حوالے سے کئی مشکلات تھیں، تاہم انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا فیصلہ کیا۔ علاج کے لیے کولمبیا کا سفر بھی اسی امید سے کیا گیا تھا کہ بحالی کی مشقوں کے ذریعے ان کی چلنے پھرنے کی صلاحیت میں بہتری آسکے۔
ان کی موت کے بعد ایکواڈور میں اہل خانہ اور مداحوں نے تعزیتی پیغامات بھیجے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، خاندان کو دونوں بھائیوں کی میتیں واپس ایکواڈور منتقل کرنے کے لیے بھی مدد درکار تھی۔
مزید پڑھیں:لائیو اسٹریمنگ کے دوران سوشل میڈیا انفلوئنسر نے خودکشی کرلی
دونوں بھائیوں کی سوشل میڈیا ٹیم نے ان کے پیغام کو ان الفاظ میں یاد کیا: ’جہاں چاہ، وہاں راہ؛ معذوری خوش رہنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔‘ یہی سوچ ان کی آن لائن شناخت کا اہم حصہ بن گئی تھی۔
ان کے انتقال سے ایک ایسے سفر کا اختتام ہوا جس میں دونوں بھائیوں نے اپنی زندگی کے معمولات اور مشکلات کو چھپانے کے بجائے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کی ویڈیوز دیکھنے والے ہزاروں افراد کے لیے وہ محض سوشل میڈیا شخصیات نہیں بلکہ عزم، باہمی وابستگی اور امید کی علامت بن چکے تھے۔









