بلوچستان میں آخری دہشتگرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں آخری دہشتگرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی اور دہشتگردی کے خلاف سول و عسکری قیادت مکمل طور پر متفق اور یکسو ہے  اور اس معاملے پر کسی قسم کا کوئی ابہام یا کنفیوژن موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہیں گے، محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کا اعلان

وزیراعلیٰ نے یہ باتیں ہفتے کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز، سینیئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

اس موقعے پر صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی عمل، معدنیات و کان کنی، امن و امان، سیاسی معاملات اور حکومتی اقدامات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صوبے کے سماجی و اقتصادی شعبوں، معدنیات و کان کنی اور امن و امان سے متعلق اہم بریفنگز بھی منعقد ہوئیں جن میں صوبائی حکومت کی حکمتِ عملی، جاری منصوبوں اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ثمرات کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی بریفنگ میں صوبائی حکومت کی سماجی و اقتصادی شعبوں سے متعلق حکمتِ عملی، گورننس، سروس ڈیلیوری، ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

وزارت معدنیات و وسائل کی بریفنگ میں بلوچستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے کی استعداد، جاری منصوبوں اور اس شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ معدنی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کے عوام کے لیے معاشی اور دیگر فوائد پیدا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔

وزارتِ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ سیف سٹی منصوبے، قانون سازی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔

وزارتی بریفنگز کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں قومی میڈیا کے نمائندوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقی، سیاسی معاملات اور دیگر اہم امور سے متعلق سوالات کیے۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے مؤقف اور پالیسی ترجیحات کی وضاحت کی۔

مزید پڑھیے: دشت واقعہ: سرفراز بگٹی کی مرحوم تاجر علی مرتضیٰ کے گھر آمد، بچیوں کی کفالت کا اعلان

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں اور اگر بلوچستان میں نئے صوبے بنتے ہیں تو یہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہییں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں کوئی علم نہیں۔ حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے تاہم جب تک وہ اپنے منصب پر ہیں، عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کر سکتے تاہم بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں کرپشن میں کمی ضرور آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کی توجہ ترقیاتی عمل کو مؤثر، نتیجہ خیز اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ہے۔

وزیراعلیٰ نے غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔

لاپتا افراد کے معاملے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی میڈیا اور دیگر فورمز پر بعض اوقات درست تناظر کے بغیر بھی پیش کیا جاتا رہا ہے جس سے صورتحال کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کا کوئی بچہ اب ٹاٹ پر بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے انقلابی اعلانات

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp